- الإعلانات -

اقوام متحدہ دنیا کے امن کیلئے اپنا کردار ادا کرے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے ملکوں کے احتساب کا وقت آگیا ہے ، دہشت گردی دنیا کے کونے کونے میں پھیل گئے ہیں، امریکی عوام سمندری طوفان سے ٹکرا رہے ہیں، دہشت گردوں کی فنڈنگ اور ٹھکانے ختم کرنا ہونگے۔ اپنی عوام سب سے بالاتر ہے،سرکش ممالک دنیا کیلئے خطرہ ہیں۔دنیا کے باغی ممالک دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں، اقوام عالم کو ان باغی ممالک کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی، القاعدہ،طالبان،حزب اللہ،دیگر دہشتگرد گروپوں کی مدد کرنیوالے ملکوں کوبے نقاب کرنیکاوقت آگیا۔ ٹرمپ کا یہ کہنا تھا کہ طالبان اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف حکمت عملی بدل کر اسلامی انتہا پسندی کو روکنا ہوگا،ہم بنیاد پرست اسلامی انتہاپسندی کو ختم کرینگے،دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں،انکی مالی مددکرنیوالوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے،شمالی کوریا سے امریکا کو خطرہ ہوا تو اسے مکمل طور پر تباہ کردیں گے۔ امریکااقوام متحدہ کی فنڈنگ کاغیرمنصفانہ بوجھ برداشت کر رہا ہے ، تمام ممالک دوسری اقوام کے حقوق کا بھی خیال رکھیں، میں امریکی عوام کا مفاد سب سے بالاتررکھتاہوں،امریکی فوج جلد پہلے سے زیادہ مضبوط ترین فوج بن جائیگی۔اس وقت ساری دنیا کو دہشت گردی سے شدید خطرات لاحق ہیں ، میرے لئے یہ قابل فخر لمحہ ہے کہ میں50 سے زیادہ عرب اور اسلامی ریاستوں کے سربراہان سے مخاطب ہوں۔ہم سب کو اسلامی شدت پسندی سے نپٹنے کے لئے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی کیوں کہ ہم اپنے ممالک اور ساری دنیا کو پریشانیوں میں مبتلا نہیں کرسکتے ، امریکہ نے عراق میں داعش کے خلاف گذشتہ آٹھ ماہ میں تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور وہاں پر امن و امان لوٹ رہا ہے۔ بشار الاسد نے شام میں عام شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے جبکہ امریکہ نے ان اڈوں پر فضائی حملے کئے ہیں جہاں سے کیمیائی ہتھیار عام شہریوں پر استعمال کئے جاتے تھے۔ایران کے حوالے سے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی ڈکٹیٹرز نے اپنی قوم کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔تہران حزب اللہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو مالی معاونت کر رہا ہے۔ ایران کا میزائل پروگرام نہ صرف امریکہ بلکہ ساری دنیا کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ ایرانی لیڈروں نے اپنی قوم کو خون اور خرابے میں دھکیل دیا ہے۔ایرانی حکومت نے اپنی روش نہ بدلی تو اسے مزید تنہا کیا جا سکتا ہے۔امریکہ افریقہ میں اپنی امداد جاری رکھے گا جبکہ اقوام متحدہ بھی افریقہ کی سلامتی کے لئے دوسری قوموں کی جانب سے خطرات سے نمٹ رہا ہے۔اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے افریقی ممالک میں امن مشن کے لئے امریکا دنیا بھر کے ممالک سے 22فیصد اخراجات ادا کر رہا ہے۔اقوام متحدہ کے کردار کے حوالے سے امریکی صدر کاکہنا تھا کہ اس کمرے میں بہت طاقتور لوگ بہت سے مسائل حل کر سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کی طاقت کا انحصار اس کے ممبر ز کی آزاد طاقت پر ہے۔ عالمی دنیا کو پر امن ممالک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے دنیا میں امن ، ترقی اور انسانی حقوق کی بحالی کے لئے ممبر ممالک کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ ٹرمپ نے جوکچھ کہا وہ ان کے نقطہ نظر سے درست ہوگا لیکن اس سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔ ٹرمپ کو بھارت کی دہشتگردانہ کارروائیاں دکھائی نہیں دیتی جو ’’را‘‘کے ذریعے پاکستان کے اندر کروا رہا ہے اور خطے کا امن تباہ کررہا ہے، افغانستان میں بھی اس کی کارروائیاں پاکستان کیخلاف طشت ازبام ہوچکی ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے، دنیا کے مسلمان جہاں بھی ہیں زیر عتاب ہیں، بوسنیا، فلسطین، مقبوضہ کشمیر،برما اور دیگر اسلامی ممالک میں جو سفاکی کا کھیل کھیلا جارہا ہے وہ ٹرمپ کو دکھائی نہیں دیتا، دہشت گردی کیخلاف مشترکہ جنگ ضروری ہے لیکن امریکہ دوغلی و دوعملی کی پالیسی اختیار نہ کرے۔ ایک طرف وہ دہشت گرد ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے تو دوسری طرف اسلامی ملکوں کو حرف تنقید بنائے ہوئے ہے ، اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ آپس کی تلخیاں ختم کرکے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں تاکہ ان کے خلاف جو قوتیں برسرپیکار ہیں وہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہو پائیں، دہشت گردی کیخلاف پاکستان کا کردار نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔
پاک افغان پائیدار امن وقت کی ضرورت
پاکستان اور افغانستان نے پائیدار امن کیلئے مشترکہ ہدف کے حصول کیلئے تعمیری کردارادا کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے افغانوں کی سرپرستی اور ان کی قیادت میں سیاسی مذاکرات کے ذریعے امن عمل کی پاکستان کی خواہش کااعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کے ہدف کے حصول کیلئے اپناتعمیری کردارادا کرتا رہے گا۔ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نینیویارک میں امریکہ کے نائب وزیرخارجہ ٹوم شنن سے ملاقات کی جس میں افغانستان میں امن و امان کی صورت حال سمیت امریکا کی جنوبی ایشیا کے حوالے سے نئی پالیسی کے خطے پر پڑنے والے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ حالیہ امریکی بیانات پر پاکستان کا بھی سخت ردعمل سامنے آیا، پاکستان کے لیے امریکا کے ساتھ تعلقات کی بہت اہمیت ہے جبکہ دونوں ممالک انسداد دہشتگردی اور مشترکہ دشمن کے خاتمے کیلئے تعاون کریں گے۔ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، افغان امن کا معاملہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے جبکہ افغانستان سے داعش کے خاتمے کیلئے دونوں مل کر کام کر سکتے ہیں اور پاکستان افغانستان میں امن کیلئے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ حکومت پاکستان افغانستان سے تعلقات مستحکم کرنے کیلئے پُرعزم ہے اور دونوں ملکوں کو مختلف شعبوں میں تعاون کے فر وغ کیلئے مل کر کام کرناچاہیے جب کہ افغان عوام اور قیادت پر مشتمل امن عمل کے ذریعے مسئلے کے حل پر توجہ دینا ہو گی۔پاک افغان پائیدار امن وقت کا تقاضا ہے اور مشترکہ ہدف کے حصول کیلئے دونوں ملکوں کا تعمیری کردار ہی خطے میں امن کی بحالی کا باعث بن سکتا ہے۔
سیمنٹ فیکٹری میں دھماکہ
روہڑی بارودی مواد ناکارہ بناتے ہوئے دھماکے کے نتیجہ میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے پانچ اہلکار شہید ہوگئے، دھماکہ آگ لگنے کے باعث رونما ہوا اس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ یہ جان لیوا واقعہ اس وقت رونما ہوا جب روہڑی کے قریبی علاقے سیمنٹ فیکٹری میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کی جانب سے کئی کلو بارودی مواد کو ناکارہ بنایا جا رہا تھا کہ اس دوران آگ بھڑک اٹھی اور بارودی مواد زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے چار اہلکار سیلم رضا ، شاہد مغل ، ماجد سمیت رینجرز اہلکار اللہ ڈنو ر سمیت محنت کش زبیر احمد شہید ہو گئے جبکہ آٹھ سے زائد افراد شدید زخمی ہوگئے دھماکے سے پورا علاقہ گونج اٹھا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تاہم قانون نفاذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر فوری طورپر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔واقعہ کی فوری تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔