- الإعلانات -

برطانیہ کی پاکستان کیلئے تجارتی ترجیحی سکیم جی ایس پی پلس

پاکستان اور برطانیہ نے سفا رتی تعلقات کے 70سال پورے ہونے پر دونوں ممالک کی مشترکہ خو شحالی کے مقصد کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کی تاریخ اور مستقبل مشترکہ ہے۔ دونوں ممالک کی تر قی اور خو شحالی کا یہ کام اپنی تجارتی پالیسیوں اور دونو ں ممالک کے مابین کارباری رابطوں کو بہتر بنانے سے ہوگا۔
اس وقت بر طانیہ پوری یونین کی تجارتی ترجیحی سکیم جی ایس پی پلس کے ذریعے پاکستان کے ساتھ تعا ون کررہا ہے اور اس تعاون او ربر طانیہ کی حما یت سے پاکستان میں پائیدار تر قی اور اقتصادی نمو حو صلہ افزا ہے۔ اس سے برطانیہ میں صارفین کو کاروبار کرنے میں بھی مد د ملتی ہے۔ چونکہ برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہو رہا ہے۔ ہمیں تجارتی انتظامات کو تیز ی سے عبوری کئے جانے کو فوری طو رپر یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ برطانیہ کا پختہ ارادہ ہے کہ ان ترجیحات کو دو طرفہ بنیادوں پر بر قرار رکھا جائے اور بر طانو ی مارکیٹوں تک فر اخ دلی سے رسائی دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ چونکہ برطانیہ ابھی تک یورپی یونین کا رکن ہے اس لیے برطانیہ یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سکیم سے پاکستان کے استفادہ کرنے کے عمل کو جاری رکھے گا جبکہ اس کے بدلے میں پاکستان کو انسانی حقو ق ، مز دوروں کے حقوق او رما حول کو بہتر بنانا ہو گااور پاکستان کو جی ایس پی پلس سکیم کے حصہ کے طورپر کئے گئے وعدوں اورعز م کے تحت گڈ گورننس میں بھی بہتری لانا ہو گی۔ برطانیہ تجارتی رکاوٹیں دورکرنے اور غربت میں کمی لانے اور ملازمتوں کے موقع پید ا کرنے میں پاکستان کی مددکرے گا۔
20کروڑ صارفین کا حامل ملک پاکستان برطانوی کا روباری حضرت کے لیے شاندار مارکیٹ ہے۔ پاکستان میں برآمدات کرنے والی برطانوی کمپنیوں اوربر طانیہ کی اشیاء اور سر وسز کی خریداری کرنے والوں کے لئے برطانوی ایکسپورٹ کریڈ ٹ ایجنسی اور یو کے ایکسپورٹ فنا نس اپنی رقومات بڑ ھا کر 400ملین پونڈز کردے گی اور اس کے علاوہ 200ملین پونڈز اضا فی طورپر دئیے جائیں گے تاکہ برطانوی برآمد کنندگان کی برآمد ی معاہدوں کی ادائیگیاں کرنے میں مدد کی جا سکے او رپاکستانی خر یداروں کی اعلی معیار کی برطانوی اشیاء اور خدمات کے ذرائع تک رسائی میں بھی مدد کی جاسکے۔پاکستان سرمایہ کاری کے لیے بہترین ملک ہے اور سی پیک میں سرمایہ کاری کے لیے بڑے مواقع موجود ہیں جس میں برطانوی ماہرین مختلف شعبوں میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔
دونوں حکومتیں پاکستان میں برطانوی تجارت اور سرمایہ کاری میں مز ید اضافہ دیکھنا چاہتی ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی کاروباری ادارے برآمدات اور برطانیہ میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکسٹائلز سے لے کر ادویات سازی تک ، انجینئرنگ کھیلوں کے سامان،لیگل اور بزنس سر وسز جیسے شعبہ جات کی عالمی اقتصادیات میں وسیع امکانا ت پائے جاتے ہیں۔ ہم نے ان تعلقات کو مستقبل میں دونوں ممالک کے مابین مز ید مضبوط بنانے کے لیے کام کرنے کاعزم کر رکھا ہے۔
برطانوی وزیر مملکت برائے تجارتی پالیسی گریک ہینڈز نے کہا ہے کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس اسکیم کے حصے کے طور پرکئے گئے وعدوں کے تحت گڈ گورننس کی صورتحال بہتر بنانا ہو گی ۔یورپی یونین سے الگ ہونے کے بعد بھی برطانیہ جی ایس پی پلس کی تجارتی مراعات کو برقرار رکھے گا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی ترقی کیلئے تجارتی روابط بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ جی ایس پی پلس مراعات جاری رکھنے کے لیے قانونی تقاضے پورے کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ان افواہوں کی بھی تردید کی گئی کہ سزائے موت پر پابندی جی ایس پی پلس کی شرائط میں شامل ہے۔ جی ایس پی پلس کے تحت اقوام متحدہ کے ستائیس کنونشنز میں سے زیادہ تر پر عمل درآمد کی آئینی ذمہ داری صوبوں پر عائد ہوتی ہے۔ لہذاٰ وفاق صوبوں کو انسانی حقوق کے ان کنونشنز پر عملدرآمد کی حساسیت سے آگاہ کر رہا ہے۔ بقول وزیر تجارت کہ جی ایس پی پلس کے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو یورپی یونین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
یورپی یونین نے تقریبا ساڑھے تین سال قبل پاکستان کو جی ایس پی پلس کی حیثیت دی تھی جس کے بعد یورپی ممالک کو پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ برطانیہ کی جانب سے پاکستان کیلئے جی ایس پی پلس کی رعایت جاری رکھنا ایک اہم فیصلہ ہے جس سے بریگزٹ کے بعد بھی پاکستان کی برطانیہ کیلئے برآمدات متاثر نہیں ہوں گی۔جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کی جانب سے یورپی ممالک کو تقریبا بیس فیصد مصنوعات ڈیوٹی فری برآمد ہوتی ہیں جبکہ سترہ فیصد مصنوعات پر کم ڈیوٹیز عائد کی جاتی ہیں۔
****