- الإعلانات -

مسلمانوں کی بے حسی

انسانی معاشرے میں لالچ ،خوف ،کمزور پر جبر اور کسی دوسرے کے وسائل پر تصرف کی کوشش انسان کے خمیر میں شامل ہے انہیں بشری کمزوریوں کے ازالے اور ان برائیوں کے خلاف مختلف ادیان اور مذاہب انسانوں کے لئے رشد و ہدایت کا پیغام لے کر آئے تاکہ معاشرے میں انسانوں کے درمیان حق اور انصاف قائم ہو انسان پڑھ لکھ گئے اس پیغام ہدایت کا کچھ اثر ہوا لیکن جزوی طور پر ہی ہوا معاشرے میں جرائم اور ظلم و نا انصافی کم تو ہوئی لیکن ختم نہیں ہر جگہ دوہرا معیار تھا انصاف طاقتور کے لئے تھااور عقوبت کمزور کا مقدر تھی ہوا آج جب ہم ایک ماڈرن معاشرے کا حصہ سمجھے جاتے ہیں جہاں کے لیڈر بظاہر انصاف اور حقوق انسانی کی بات کرتے نہیں تھکتے مغربی حکومتوں نے انسانی حقوق کے تحفظ ادارے بنا رکھے ہیں لیکن انصاف کے معیار اور اصول بھی انہیں کے اپنے بنائے ہوئے ہیں ہر وہ عمل جس میں انہیں کوئی منفعت حاصل ہو یا کسی معاشرے کو مطعون کرنا مقصود ہو تو اس پر انسانی حقوق کے نام پر شور مچایا جاتا ہے مغرب نے خاص طور پر تیسری دنیا کے وسائل پر قبضے کے لئے اور اپنا ایجنڈہ آگے بڑھانے کی خاطر ڈالرخور این جی اوز بنا رکھی ہیں جو مغربی طاقتوں کے اشاروں پر جہاں انہیں اشارہ ہو وہاں خوب احتجاج کرتی ہیں بلکہ بعض اوقات ایشو ایجاد بھی کرلیتی ہیں جیسا کہ ایک خاتون کو کوڑے مارنے کی نام نہاد ویڈیو جو بعد میں جعلی ثابت ہوئی اس طرح کی سینکڑوں مثالیں دی جا سکتی ہیں جہاں حقیقی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہو تو یہ مہر بہ لب رہتی ہیں مثلا آج تک فلسطین کے معاملے جہاں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں جو عملا اسرائیلی قید خانہ ہے وہاں کسی ان این جی او کی چونچ نہیں کھلتی کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کرعقوبت خانوں میں ان پر تشدد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں عفت ما آب خواتین کی عصمتیں تار تار کی جا رہی ہیں گن پاؤڈر سے لوگوں کی جائیدادیں اور گھر جلائے جارہے ہیں 7 لاکھ فوج وادی میں رکھنے کے باوجود الزام پاکستان پرتھونپے جا رہے ہیں کہ پاکستان سے اتنے لوگ آئے اور کارروائی کر کے چلے گئے جبکہ ہر موڑ پر انڈین فوج کے ناکے لگے ہوئے ہیں اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر اسرائیل نے جو حفاظتی آلات انڈیا کونصب کرکے دئے ہیں وہاں سے انسان تو کیا سانپ اور بچھو تک کا گزر نہیں ہو سکتا دوسرے 7 لاکھ فوجی 2 چار لوگوں کا نہ سراغ لگا سکتے ہیں نہ انہیں کارروائی سے روک سکتے ہیں تو ہندوستانی فوج کے عسکری معیار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے یا پھر حسب روایت مکمل جھوٹ بولا جارہا ہے شام سے لاکھوں بے گناہ افراد بے پناہ تشدد اور بمباری کے ڈر سے ترکی منتقل ہوکر وہاں کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں سینٹرل افریقن ری پبلک میں مسلمانوں کو سرعام تشدد کر کے ہلاک کیا جاتا ہے سرعام بکرے کی طرح ذبح کر دینا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے بلکہ زندہ بھی جلا دیا جاتا ہے یہی کچھ آج کل برما میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے روہنگیا نسل کے لوگ تاریخی طور رکھنی مسلم ریاست کے ایک ہزار سال تک حکمران رہے ہیں اور موجودہ برما بھی کئی نسلی آکائیوں کا مجموعہ ہے جس میں کوریائی ہے چینی جاپانی منگولیائی رکھنی اور ویت نامی نسل کیلوگ آباد ہیں پہلے چھوٹے چھوٹے رجواڑوں پر مشتمل لوگ جب بھی کوئی بڑا اتحاد بناتے تو 350 سال تک کی تاریخ ہے کہ بادشاہ گری میں روہنگیاؤں کا کلیدی کردار ہوا کرتا تھا کچھ نام نہاد تاریخ دان ان روہنگیاؤں کے تانے بانے عرب ملاحوں سے جوڑتے ہیں جو درست نہیں بلکہ یہ مقامی لوگ ہیں جنہوں نے تبلیغ اسلام کرنے والی جماعتوں کے ہاتھوں صدیوں پہلے اسلام قبول کیا تھا ان کا صوبہ اراکان میانمار کے انتہائی مغرب میں بنگلہ دیش کی سرحد پر واقع ہے۔نہتے روہنگیا جیسے ہی باہر نکلتے ہیں انہیں گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے یا پھر انہیں میدان میں لاکر پشت پر ہاتھ باندھ کر زمین پر منہ کے بل لٹا کر ان پر بد ترین تشدد کیا جاتا ہے حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کردئے جاتے ہیں مردوں کی گردنیں کلہاڑوں سے کاٹ دی وجاتی ہیں اور جس کے تمام اعضا کے ٹکڑے کر کے پھینک دئیے جاتے ہیں اور ان لاشوں کے ساتھ زندہ لوگوں کو بٹھا کر آگ لگا دی جاتی ہے۔ لیکن میانمار کی وزیراعظم کہہ رہی ہیں کہ یہ سب جھوٹ ہے کہ کر میانمار کی فوج اور پولیس کے مظالم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ میانمار میں ایسا کچھ نہیں ہو رہا دنیا بھر میں ان سے نوبل انعام واپس لینے کی مہم شروع ہوچکی ہے کسی چھلکے پر پھسل کر گرنے پر موم بتیاں جلانے والی ڈالر خور این جی اوز اس ظلم اور ناانصافی پر مہر بہ لب ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور ملتمس ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا کائی سچا غلام ان کی مدد کو پہنچے اللہ ہمیں اور پورے عالم اسلام کو اشرار کے شر سے بچائے آمین۔
*****

معاشی حالت۔۔۔ شوق موسوی
معاشی صورتِ حالات کا بنے گا کیا
کوئی بتائے کہ پہنچیں گے کیسے منزل میں
سٹیٹ بنک نے اُن کے اکاؤنٹس روکے ہیں
یہاں وزیر خزانہ ہیں سخت مشکل میں