- الإعلانات -

اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرے

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات بڑی اہمیت کی حامل قرار پائی، اس ملاقات کی اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کیلئے خصوصی نمائندہ مقرر کرنے کی جہاں درخواست کی ہے وہاں اس مسئلے کے ادراک کیلئے بھرپور کردار ادا کرنے کی استدعا کی ہے۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند کر رکھے ہیں ، بھارت کی جانب سے تسلسل سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ پچھلے ایک سال کے دوران بھارت 600بار لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کر چکا ہے ۔ بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ کے سبب آج بھی چار پاکستانی شہری شہید ہوئے ۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں پر ڈوزیئر بھی دیا ۔وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے یو ایس ملٹری آبزور گروپ کا دائرہ کار وسیع کرنے کا مطالبہ بھی کیا ۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے گفتگو کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستانی کوششوں کا معترف ہوں ۔ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام احسن اقدام ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا کہ پاکستان کا کئی باردورہ کرچکا ہوں ، انسداد دہشت گردی کیلئے پاکستانی اقدامات کا عینی شاہد ہوں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میرے دل کے سب سے قریب ہے ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کے اہم کردار پر تشکر کا اظہار کیا ۔ دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران افغانستان میں قیام امن کیلئے مذاکراتی عمل کی اہمیت پر اتفاق کیا ۔ پاک فوج نے افغان سرحد کے قریب سے شدت پسندوں کے تمام محفوظ ٹھکانوں کو ختم کر دیا ہے،ہم نے علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے ، اب وہاں کوئی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا کمانڈ اور کنٹرول نظام محفوظ ہاتھوں میں ہے، پاکستان کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیار ہیں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار نہیں،بھارت پاکستان کیلئے خطرہ ہے ‘ پاکستان نے بھارتی خطرے کے پیش نظر ایٹمی قوت حاصل کی،پاکستان میں عام تاثر ہے کہ امریکہ پاکستان کی قربانیوں کو نہیں سراہتا اور آج ہم پر الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فعال پارٹنر ہیں۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ باہمی تعلقات کا تعین افغانستان کی صورتحال سے نہیں کیا جا سکتا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ پاک فوج کے 2 لاکھ جوان دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہیں۔بھارت پاکستان کیلئے خطرہ ہے۔ بھارتی نے پاکستان کے ساتھ تین جنگیں کیں۔ پاکستان نے بھارتی خطرے کے پیش نظر ایٹمی قوت حاصل کی۔ بھارت کشمیر میں مظالم سے توجہ ہٹانے کیلئے ایل او سی پر جارحیت کرتا ہے ٗ خطے میں بھارتی بالادستی قبول نہیں ٗ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا ٗ پاک افغان بارڈر کو مینج کر نے کی ضرورت ہے ٗ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک سمیت کسی دہشتگردگروہ کا کوئی وجود نہیں ٗ پاک امریکہ تعلقات میں کوئی رکاوٹ نہیں ٗ ہمیں مالی امداد نہیں عالمی مارکیٹ میں رسائی چاہئے اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کے تناظر میں کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوائے ، بھارت پاکستان کی امن کاوشوں کو کمزوری نہ گردانے ، پاکستان مذاکرات کے ذریعے بھارت کے ساتھ متنازع مسائل کا پرامن حل چاہتا ہے لیکن بھارتی ہٹ دھرمی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ بے حسی کا مظاہرہ نہ کرے بلکہ عملی طورپر مسئلہ کشمیر کو حل کرائے، بھارت سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرادادوں کو برسوں سے دیدہ دانستہ نظرانداز کرتا چلا آرہا ہے اور کشمیریوں پر بربریت کے پہاڑ ڈھائے ہوئے ہے جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن رپورٹ منظر عام پر لانے کا عدالتی حکم
لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس باقر نجفی کی انکوائری رپورٹ کو منظرعام پر لانے کا حکم جاری کردیا ،پنجاب حکومت نے تحریری فیصلہ ملتے ہی عدالتی حکم کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے قیصر اقبال سمیت سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دیگر متاثرین کی جانب سے دائر کردہ تحقیقاتی رپورٹ سامنے لانے کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔سانحہ ماڈل ٹاون متاثرین نے موقف اختیا ر کیا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاون میں چودہ بے گناہ افراد جاں بحق اور سو سے زائد زخمی ہوئے،سانحہ ماڈل ٹاون کی تحقیقات کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنایا گیا، عدالتی کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کر کے پنجاب حکومت کے حوالے کر دی تاہم ابھی تک اسے منظر عام پر نہیں لایا گیا۔معلومات تک رسائی ہر شہری کا آئینی حق ہے اور جوڈیشل رہورٹ شائع نہ کرنا اس آئینی حق کی نفی یے،ماڈل ٹاون کے استغاثہ میں جوڈیشل انکوائری رپورٹ انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جوڈیشل کمیشن کی انکوائری سے مظلوموں کو انصاف مل سکتا ہے۔ عدالت نے مختصر فیصلہ پڑھ کر سناتے ہوئے سیکریٹری داخلہ پنجاب کو حکم دیا کہ اس رپورٹ کو فوری طور پر ریلیز کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔ پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور نے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے عوام کاعدلیہ پر اعتماد بحال ہوا ہے۔۔ 17 جون 2014 ء کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائشگاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کیلئے آپریشن کیا گیا تھا۔اس موقع پر پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں 14 افرادشہید اور 90 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر پنجاب حکومت نے اس معاملے کی انکوائری کے لیئے لاہور ہائیکورٹ سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی تحریری درخواست کی تھی۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن تحقیقاتی رپورٹ عام کرنے کا عدالتی حکم انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا ذریعہ بنے گا، جلد ازجلد اس رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مظلوموں کی داد رسی ہو پائے۔
بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی
بھارتی فوج کی ورکنگ باؤنڈی پر اشتعال انگیزی جاری ، چارواہ سیکٹر میں سلہریاں گاؤں پر فائرنگ اور شیلنگ سے 2خواتین سمیت4 معصوم شہری شہید ، پنجاب رینجرز نے بھارتی گولہ باری کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا ۔ بھارتی فورسز سے چارواہ سیکٹر میں سلہریاں گاؤں کو نشانہ بنایا ۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے2 خواتین سمیت 4معصوم شہری شہید ہوگئے ۔ پنجاب رینجرز نے بھارتی گولہ باری کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا اور دشمن کی گنیں بند کرادیں ۔ بھارت ایک تواتر کے ساتھ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتا چلا آرہا ہے، پاکستان صبرو تحمل کا مظاہرہ کررہاہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بھارت سے خوفزدہ ہے، پاک فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔