- الإعلانات -

وزیراعظم کا امریکہ میں قیام اور خطاب

چند منٹ قبل وزیراعظم پاکستان خاقان عباسی صاحب کا خطاب ختم ہوا ہے جس میں انہوں نے کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی کی بات کی انہوں نے کہا کہ پیلیٹ گنوں سے بے گناہ نوجونوں کو بینائی سے محروم کیا جارہا ہے جو بین الاقوامی طور پر مسلمہ طور پر ممنوعہ ہتھیار ہے 7 لاکھ بھارتی فوج کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کر رہی ہے املاک اور جائیدادیں جلائی جاری ہے 70 سال سے کشمیریوں کو حق خود ارادی سے محروم رکھا جا رہا ہے جس کا وعدہ ہندوستانی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اقوام عالم سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سے خطاب کرتے ہوئے کیا تھا عملا کشمیر ایک فوجی قیدخانے میں تبدیل ہو چکاہے جہاں ہزاروں کشمیری روزانہ احتجاج کرتے ہیں ہندوستان تشدد کے ذریعے کشمیروں کی تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش کررہا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ماننے سے انکاری ہے عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ اس سنگین انسانی مسئلے کے حل کے لئے ہندوستان پر دباؤ ڈالے پاکستان بھارت سے کشمیر اور دیگر مسائل پر بامقصد مذاکرات کے لئے ہمہ وقت تیار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان موجودہ کشیدگی خطے کے امن کے لئے مناسب نہیں ہے پاکستان انڈیا کی جانب سے کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کا سخت ترین جواب دے گا ہمیں مشرقی سرحد سے ہمیشہ خطرہ رہا ہے اور ہمارا ایٹمی پروگرام بھی بھارتی ایمٹی دھماکوں کا رد عمل تھا ہمارے پاس چھوٹے جوہری ہتھیار ہیں جنہیں مختصر فاصلوں تک پھینکنے کا انتظام بھی رکھتے ہیں آج ہمارا جوہری پروگرام انتہائی محفوظ ہے اور ہماراکمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم دنیا بھر میں محفوظ ترین سمجھا جاتا ہے دہشت گردی کے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی گروپ کے کوئی ٹھکانے نہیں نہ ہی پاکستان میں کسی بھی گروپ کے تربیتی کیمپ یا سہولیات ہیں پاکستان کی ریاستی پالیسی بھی یہی ہے کہ ہم اپنی سرزمین کسی کو بھی دہشگردی کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینگے اور نہ ہم کسی کو افغان جنگ پاکستان میں لڑنے دیں گے دہشتگردوں کے اصل ٹھکانے پاکستان میں نہیں افغانستان میں ہیں جہاں سے الاحرار اور تحریک طالبان اور دیگر دہشت گرد جنہیں انڈیا کی پشت پناہی حاصل ہے یہ دہشت گرد پاکستان میں حملے کرتے ہیں انہی حملوں کو روکنے کے لئے سرحد پر کنٹرول کا نظام نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں دوسری جانب سے تعاون نہیں کیا جا رہا ہے پاکستان اپنے علاقوں سے دہشتگردی کے ٹھکانے ختم کر چکا ہے لیکن پاکستان کی دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت پر کسی کو شک نہیں ہونی چاہئے دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان نے اپنے وسائل سے لڑی اور ہزاروں جانوں کی قربانی دی عالمی امن کے لئے تمام مسائل کے منصفانہ حل تک دنیا میں قیام امن مشکل ہے ان کا کہنا تھا افغان مسئلے کا حل جنگ نہیں مذاکرات ہی ہے اور مذاکرات کے لئے ہماری مثبت کوششیں دنیا کے سامنے ہیں دوسروں کی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر نہ ڈالا جائے حق اور انصاف کا تقاضا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کشمیریوں اور فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق دلائے جائیں داعش عراق اور شام میں دہشت گردی کر رہی ہے اور اس خطرے کا مقابلہ مل کر کرنا ہوگا انہوں یورپ کو بھی آئندہ ممکنہ سردجنگ کے خطرے آگاہ کیا وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو انڈیا کی پاکستان میں مداخلت اور کشمیر میں مظالم کے ثبوت ڈوصیئر کے صورت میں پیش کئے وزیراعظم نے ہندوستانی دہشت گردی کی بات کی لیکن اپنے پیش رو سابق وزیراعظم روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے کلبھوشن یادو جیسے مستند دہشت گرد کا نام تک نہیں لیا غریب مقروض اور مفلوک الحال ملک کے سابق وزیراعظم کے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ ضرب المثل ہیں انہیں اپنے دور میں دورے پڑنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے کہیں بھی جانا ہوتا تو دو عدد 777 بوئنگ جہاز پی آئی اے کی سروس سے نکال کر ایک اسٹینڈ بائی اور ایک جہاز سروس دیتا اور مسافر رل جاتے 20 پچیس مسافروں کے لئے 450 نشستوں والا جہاز استعمال ہوتا یادش بخیر مودی سے پہلے انڈیا کے وزرائے اعظم جب بھی بیرون ملک جاتے ایئر انڈیا کی عام کمرشل فلائٹ سے سفر کرتے موجودہ وزیراعظم جس بزنس جیٹ سے سفر کر رہے ہیں اس کا خرچ 10 ہزار ڈالر فی گھنٹہ ہے نیویارک میں پی آئی اے کا اپنا بہترین ہوٹل ہے وہاں ٹھہرنے کی بجائے فور سیزن ہوٹل میں قیام فرما ہیں جس کا روزانہ کرایہ چالیس ہزار ڈالر ہے وزیراعطم کے وفد کے لئے 24 گھنٹے بمعہ شوفر 10 عدد لگژری لیموزین 10 دن کے لئے بک کرائی گئیں جن کا 10 دن کا کرایہ 54000 ڈالر بنا جب کہ فرانسیسی وفد کے لئے 4 عدد عام سی لیموزین چند گھنٹے روزانہ پر لی گئیں اور 4 دن کا کرایہ محض 2400 ڈالر بنا یہ ہوتا ہے فرق ہمارے ہاں مال مفت دل بے رحم کا فارمولا رائج ہے جو بھی آتا ہے بڑی” ریجھ ” سے اپنے ارماں پورے کرتاہے سمجھ میں نہیں آتی کہ اقتدار کا ہما سر پر بیٹھنے کے بعد ہمارے حکمران خود کو خلائی مخلوق سمجھنے لگتے ہیں چند روز قبل ایک سابق مقتدر بیرون ملک جاتے ہوئے ایک غیر ملکی ائیرلائن کی سنگل نشست میں دبکے بیٹھے تھے” فاعتبرو یا او لی الابصار ” ان کے گھروں کی حفاظت کے لئے 3 تین ہزار اہلکار متعین ہوتے ہیں یہی لوگ جب یورپ یا امریکہ جاتے ہیں تو سڑکوں پر سامان ہاتھوں میں لئے ٹیکسیوں کے پیچھے بھاگتے نظر آتے ہیں امیگریشن میں جوتے تک اتروا لئے جاتے ہیں اور یہ چوں تک نہیں کر سکتے ہمارا مقتدر لوگوں سے مطالبہ ہے کہ اللہ کا خوف کریں آپ جو اللوں تللوں میں اڑا رہے ہیں یہ عوام کا خون پسینہ ہے جس کا حساب اللہ کے ہاں ضرور ہوگا یہ آپ پاس عوام کی امانت ہے جس کا حساب ایک دن ضرور ہوگا اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں مسل حرام سے بچنے اور امانت میں خیانت سے اجتناب 5کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
*****

سالانہ فریاد۔۔۔ شوکت کاظمی
ہم اپنا حال سناتے ہیں اہلِ دنیا کو
کوئی بھی ضرب نہ لگتی ہے دستِ ظالم پر
ہمیشہ ذکر تو کشمیر کا بھی کرتے ہیں
کوئی اثر نہیں ہوتا ضمیرِ عالم پر