- الإعلانات -

این اے ووٹ کم ہونااور کم پڑنا

NA-120 میں الیکشن کا اعلان ہوا تو خان صاحب نے کہا کہ لوگ الیکشن کے دن باہر نکلیں اور سپریم کورٹ کے ہاتھ مضبوط کریں، مجھے اس بات کی سمجھ نہ آئی کہ تحریک انصاف کو ووٹ ڈالنے یا اس کی کامیابی کی صورت میں سپریم کورٹ کیسے مضبوط ہوگی؟موصوف کا چاہیے کہ اس طرح کے بیانات دے کر کسی بھی ادارے کو متنازعہ نہ بنائیں، آج جب تحریک انصاف یہ معرکہ ہار چکی ہے تو کیا سپریم کورٹ کے ہاتھ کمزورہو چکے ہیں ؟چاہیے تو یہ تھا کہ موصوف اس طرح کے بیانات دے کر اس بیانیے کو ہوا نہ دیتے جو مسلم لیگ نے پاناما فیصلے کے خلاف اپنایا ہوا ہے ، لیکن ہارنے کے بعد خان صاحب نے فرمایا ’’ نون لیگ کے ووٹ کم ہونا سپریم کورٹ کی کامیابی ہے ‘‘ ، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف اپنی شکست کی خفت مٹانے اور غم بھلانے کے لیے ’’نون لیگ کے ووٹ کم ہوئے ہیں‘‘ کے بیانیے کاسہارالے رہی ہے اور چندحقائق کو نظراندازکیے ہوئے ہے یا پھراس کی کوشش ہے کہ بحث کا رخ ان پہلوؤں کی طرف نہ مڑے تاکہ عوام حقیقت سے بے خبررہیں۔
1۔ مریم نواز نے تن تنہا الیکشن مہم چلائی ، بیگم کلثوم نوازبنفس نفیس میدان میں موجود نہیں تھیں ، نواز شریف بھی حلقے سے کوسوں دور تھے ،کلثوم نواز اور نوازشریف کی غیرموجودگی کی صورت میں ووٹرز کو’’ ارج‘‘ نہ کیاجاسکا،جبکہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت یہاں موجود تھی ، خود خان صاحب نے یہاں جلسہ بھی کیا ، جبکہ اس کے مقابلے میں مسلم لیگ کا یہاں کوئی بڑاجلسہ نہ ہوا جس سے نواز شریف یا شہبازشریف خطاب کرتے ۔
2۔ پاکستان کی پوری تاریخ میں تین درجن کے لگ بھگ امیدوار کسی الیکشن میں سامنے نہیں آئے ، اگران امیدواروں کا جائزہ لیاجائے تو پتا چلتا ہے کہ ان میں کوئی بھی جیتنے کی پوزیشن میں نہیں تھا لیکن پھربھی میدان میں تھا ،ماضی میں دوتین ہزار ووٹ رکھنے والے اس طرح کے امیدوار کسی بھی ایسے امیدوار سے بارگیننگ کر لیتے تھے جو جیت کی پوزیشن میں ہوتا تھا، لیکن اس بار یہ سارے آخری وقت تک میدان میں موجود رہے،ان امیدواروں کے آپس میں اختلافات تھے لیکن مسلم لیگ کے خلاف ان کا ایکا تھا ، اگر آپ سب کی تقاریر نکال کر دیکھیں تو لگتاہے کہ وہ جیتنے کے لیے نہیں بلکہ مسلم لیگ کو ہرانے کے لیے میدان میں نکلے ہیں۔
3۔ مذہبی ووٹ مسلم لیگ جو پڑتا رہا ہے لیکن تحریک لبیک یا رسول اللہ اور ملی مسلم لیگ کی صورت میں اس ووٹ کو کم کیا گیا ، مولاناخادم حسین رضوی اورڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے ممتاز قادری کے نام پرایک ایسی فضاقائم کی جو کسی بھی مسلمان کے لیے تذبذب کی صورت پیدا کرسکتی تھی ، اس طرح مسلم لیگ کو ایک کاری ضرب لگائی گئی ۔
4۔ جیتنے کے بعد نواز شریف نے کبھی یہاں کا رخ نہ کیا جو ہر گزلائق تحسین فعل نہیں ہے ، مقابلے میں تحریک انصاف کی یاسمین راشد ہمہ وقت موجود رہیں ، الیکشن ہارنے کے بعد ان کا لوگوں سے رابطہ رہاجو ایک اچھی بات ہے ، اس وجہ سے مسلم لیگ کا ووٹر غصے میں بھی تھااور ناراض بھی ،پس وہ ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نہ نکلا ۔
5۔ ووٹوں کی کمی ایک وجہ سست پولنگ تھی ، چھٹی والے دن لاہوریے لیٹ اٹھتے ہیں ، جب انہوں نے پولنگ سٹیشنوں کا رخ کیا تو کافی وقت بیت چکا تھا ، جب شام کو پولنگ کا وقت ختم ہوا تو لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں موقع پر موجود تھیں ، اس سے پہلے یہ دیکھاگیا تھا کہ اگر لوگ پولنگ سٹیشن کے اندر آجائیں تو ان کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوتی تھی لیکن اس بار زیادہ تر پولنگ سٹیشن ایسی جگہوں پر بنا ئے گئے جہاں صحن کی سہولت موجود نہ تھی ،لہذایہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ لوگ اندر ہیں یا باہر؟
7۔کمپاؤنڈ نہ ہونے کی صورت میں ’’in ‘‘ہونے کا فیصلہ یوں کیا جاتا ہے کہ جو لوگ وقت ختم ہونے سے پہلے لائن میں آگئے ہیں ،وہ ’’in ‘‘ شمارکیے جائیں اوروقت ختم ہونے کے بعد لائن میں اضافہ نہ ہونے دیا جائے ،لیکن یہاں لائن میں کھڑے لوگوں کو واپس بھیج دیا گیا،بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ ووٹر مسلم لیگ کے تھے کیونکہ جب پولنگ کا وقت ختم ہوا تو مسلم لیگ نے مطالبہ کیاکہ پولنگ کا وقت بڑھایا جائے اور ایسا ہوتا بھی رہا ہے لیکن تحریک انصاف نے اس کی مخالفت کی ، کیوں؟ جب کہ اس سے پہلے جہاں کہیں بھی وقت بڑھانے کی بات ہوتی ، تحریک انصاف اس سے اتفاق کرتی تھی ، یوں بہت سے لوگ ووٹ ڈالے کاسٹ کیے بغیر ہی واپس لوٹادیے گئے۔
6۔ کچھ ووٹر زیہ شکوہ کرتے نظر آئے کہ مسلم لیگی کیمپ سے پرچی لے کر جانے کی صورت میں دشواری کا سامناکرنا پڑتا جبکہ تحریک انصاف کیمپ سے یہ عمل آسان تھا ، میڈیا کو پولنگ سٹیشنز کے اندر نہ جانے دینا بھی اس طرح کی قیاس آرائیوں کو تقویت دیتا ہے ،اس لیے لوگوں نے تحریک انصاف کیمپ کا رخ کیا ، متأثرہ لوگوں نے اس طرح ویڈیو ز بھی اپلوڈ کی ہیں۔
7۔ سب سے اہم وجہ شریف خاندان میں تقسیم کی دراڑ ہے ، الیکشن کے تمام ہنگام میں شہباز شریف کیمپ کا کوئی بندہ موجود نہ تھا ، ماضی میں یہ حلقہ حمزہ شہباز کی نگرانی میں ہوتا تھا اور وہی اس کے معاملات دیکھا کرتے تھے ، لیکن اس بار اس حلقے کی باگ ڈورمریم نواز کے ہاتھ میں تھی ،شہباز شریف اپنے دونوں بیٹوں کے ہمراہ بیرون ملک تھے ، ان کے مخصوص لوگ بھی الیکشن مہم میں غائب تھے ، اس کا نتیجہ ووٹوں کی کمی کی صورت میں نکلا ۔
آخر میں اتنا ہی کہ ایک ہوتا ہے ووٹ کم ہونا اور ایک ہوتا ہے ووٹ کم پڑنا، دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ، مسلم لیگ کوکم ووٹ پڑے ہیں نہ کہ ان کے ووٹ کم ہوئے ہیں ، ہارہارہوتی ہے اورجیت جیت چاہے ایک ووٹ کے مارجن سے ہی کیوں نہ ہو ۔