- الإعلانات -

مایوسی گناہ ہے

ہم جس دور سے گزر رہے ہیں یہ پروپیگنڈے کا دور ہے اور آج جو جنگ لڑی جارہی ہے یہ ذرائع ابلاغ کی جنگ ہے جسے ففتھ جنریشن وار بھی کہاجاتا ہے جس کا بنیادی مقصد عوام میں مایوسی پیدا کرنا اداروں پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرنا آپس کے معمولی اور فطری اختلافات کو ہوا دے کر غلط رنگ میں پیش کرنا قومی اداروں کو کمزور کرنے کی سازش کرنا اس میں ہر ذریعہ اور وسیلہ استعمال کرنا بلکہ اعلیٰ ترین سطح پر لوگوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے انہیں باور کرایا جاتا ہم آپ کے خیر اندیش ہیں اور آپ کے اقتدار کی بقا اور تسلسل کا قابل عمل گر اوراپنے ڈھنگ کا جمہوری استحکام لانے کا سب سے بڑا طریقہ یہی ہے کہ اپنی حاکمیت کو منوایا جائے چاہے اس کیلئے کسی بھی حد تک جانا پڑے میمو گیٹ ،ڈ ان لیکس اور ایبٹ آباد واقعہ اسی معصوم سی خواہش کا شاخسانہ تھے لیکن یہ معصوم لوگ بھول جاتے ہیں کہ وہ خود اس ملک سے کتنے مخلص ہیں اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں کیا ان کے کسی بھی عمل نے حب وطن کے تقاضوں کو چھوا تک بھی ہے ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ جس امانت کا بار قوم نے آپ کو سونپا کیا خود کو اس کا اہل ثابت کر سکے ہیں اور وہ وطن جس نے آپ کو فرش سے اٹھا کرعرش کی رفعتوں پر لا کھڑاکیا کیا آپ اس کی قیادت کا استحقاق رکھنے کے اہل ہیں کیا آپ کو اس ملک کے مستقبل اور اس کے عوام کی حب الوطنی اور ان کے مستقبل کے خوابوں پر یقین ہے جواب ہے نہیں بالکل نہیں اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس ملک کو آپ نے ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے اور اقتدار میں آنے کیلئے بیرونی طاقتوں کی کاسہ لیسی اور آشیرباد کو ضروری خیال کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اقتدار کا منبع پاکستان میں نہیں کہیں اور ہے انتخابات محض تکلف ہی ہے جتوانا تو جھرلو مار کہ انتخابات نے ہی ہے حکمرانی اور وسائل لوٹنے کے علاوہ آپ کا یہاں کوئی مفاد نہیں جس دن اقتدار ختم ہوتا ہے اگلی پرواز سے وطن سے باہر پدھار جاتے ہیں عوام امانت سمجھ کر آپ کو ٹیکس دیتے ہیں اس کو اللوں تللوں میں اڑانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ملک اور قوم کے مال کو ذاتی عیاشیوں میں اڑاتے ہیں اور آپ کو قومی امانت میں اس خیانت پر اللہ کا کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا اپنے کھربوں کے ذاتی کاروبار ہونے کے باوجود ہزاروں میں ٹیکس دیتے ہیں لیکن بھول جاتے ہیں ایک دن اسی اللہ کے حضور پیش ہونا ہے جہاں تل تل کا حساب ہوگا ملک کا میڈیا نشر و اشاعت کے اداروں اور افراد کوخریدا جاتا ہے اور ساتھ ہی این جی اوز تخلیق کی جاتی ہیں جن کی خوراک ڈالر ہوتے ہیں جن کے ذریعے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے فیشن شوز کے نام پر عریانیت پھیلائی جارہی ہے تاکہ عوام اس طرف لگ جائیں جو اب چھوٹے شہروں تک پہنچ چکی ہے مخصوص ایجنڈے کے تحت تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں ٹاک شوز میں مخصوص ذہنی ساخت کے لوگوں کو بٹھا کر ان کے منہ میں اپنے الفاظ ڈالے جاتے ہیں اور من گھڑت اعداد و شمار کے ذریعے مایوسی پھیلائی جاتی ہے فوج اور ٹھیک کام کرنے والے افراد اور اداروں پر طعن و تشنیع کے تیر برسائے جاتے ہیں فوج کو گالی دینا ایک فیشن بن گیا ہے دانشور کی دانشوری فوج کو گالی دئیے بغیر مکمل نہیں ہوتی ملک ٹوٹنے کی پیشین گوئیاں خبریں اور ٹائم ٹیبل دیا جاتا ہے کہ خدا ناخواستہ اتنے عرصے میں یہ ملک تحلیل ہو جائیگا لوگوں کے حوصلے توڑنے کی کوششیں کی جاتی ہیں عوام الناس میں یاسیت پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی سنتے آئے ہیں کہ اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں یہ کسی بھی وقت تحلیل ہو جائے گا مغرب میں پروپیگینڈا کرنے والوں کو پاکستان اور فلسطین کے جغرافیائی فرق تک کا پتہ نہیں ہو لیکن پاکستان کے غیر محفوظ مستقبل پر من گھڑت سروے اور غیر مستند معلومات کو لیکر دانش کے دریا بہائے جاتے ہیں بیرون ملک بیٹھ کر سیاسی عدم استحکام کی بات کرنے والے ہی بیرونی ایجنڈے پر عمل پیرا ہوتے ہیں جیسے ہی نام نہاد جمہوری حکومت کی جگہ غیر جمہوری حکومت آئی کہا گیا کہ اب تو پاکستان گیا کیوں کہ بین الاقوامی مالی ادارے پاکستان کی غیر نمائندہ حکومت کو قرضے اور مالی مدد نہیں دیں گے اور ملک دھڑام سے گر جائے گا لیکن یہ بدخواہ بھول جاتے ہیں دوسرے تمام ممالک بھی اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں انہیں جمہوریت سے کوئی عشق نہیں ہوتا اس عرصے میں پاکستان تو چلتا رہا لیکن دنیا کی دوسری بڑی طاقت سوویت یونین تحلیل ہو گئی ارجنٹائن یونان اور پرتگال جیسی اقتصادی طاقتیں بیٹھ گئیں لیکن پاکستان کھڑا ہے ،یورپین یونین کی اقتصادیات کا جنازہ عملا نکل چکا ہے امریکہ 19 کھرب ڈالر کا مقروض ہو کر آخری سانسوں جیسی صورت حال سے دوچار ہے لیکن پاکستان کھڑا ہے عراق اربوں ڈالر کے تیل اور اثاثہ جات کے ساتھ عملا تحلیل ہو چکا لیبیا کھربوں ڈالر کے تیل اور اثاثہ جات کے ساتھ تحلیل ہو چکا وینزویلا جیسی مضبوط اقتصادی طاقت کی حکومت کاتختہ الٹ دیا گیا شام عملا ختم ہو چکا لیکن پاکستان توانا کھڑا ہے جب کہ ہمیں قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے بعد مخلص اور خالص پاکستانی قیادت نہیں مل سکی اگر کوئی محب وطن قیادت ہوتی تو یہ ملک ترقی کی کتنی ہی منزلیں طے کر چکا ہوتا احمقوں کی جنت مین رہنے والے پچھلے 30 سال سے پاکستان کے تحلیل ہونے کی بین بجا رہے ہیں اور قیامت تک بجاتے رہیں گے ہمیں اقتصادی مشکلات ہیں ہمارے پڑوس میں بد ترین لوگ بیٹھے ہیں جن کی شرارتیں عالم آشکار ہیں ہمیں بیرونی مداخلت کا سامنا ہے ہمیں بین الاقوامی مخالفت کا سامنا ہے گھر میں رج کے چوری ہوئی ہے پھر بھی ہمارا قافلہ آگے ہی بڑھا ہے ہم نے دہشت گردی کے سانپ کا سر کچلا ہے اور ایسا کچلا ہے کہ دنیا حیران ہے پچھلے 30 سالوں میں ہماری فی کس آمدنی بڑھی ہے ہمارے عوام کا معیار زندگی بلند ہوا ہے ہمارے پاس سی پیک جیسے سنہری اور محفوظ مستقبل کا پروگرام ہے جس میں شامل ہونے کے لئے اب بنئے کی رال بھی ٹپک رہی ہے اور وہ اس کا نام بدلوانا چاہتا ہے تاکہ خود اس میں شامل ہو سکے دنیا اس منصوبے میں شامل ہونا چاہتی ہے ہمارے قابل فخر لوگ دنیا بھر میں امانت دار، دیانت دار اور محنتی قوم ہونے کو منوا کر اپنے جھنڈے گاڑھ چکے ہیں اور دنیا بھر میں کئی بڑے بڑے اداروں کی قیادت کر رہے ہیں ہماری فوج دنیا کی مانی ہوئی بہترین فوج ہے جو ہر نظر بد کے خلاف بہت بڑی ڈھال ہے جو وہ نا ممکن جنگ جیت چکی ہے جسے دنیا بھر کی افواج قاہرہ پوری قوت کے استعمال کے باوجود نہیں جیت سکیں ان سب سے بڑھ کر ہمارا رب ذوالجلال ہمارے ساتھ ہے جس کے نام پر یہ ملک تخلیق ہوا مایوسی کفر ہے جسے ایک ایجنڈے کے تحت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے آپ اپنے آپ پر یقین رکھیں یہ ملک جس رب کریم نے دیا ہے وہی اس کی حفاظت کر رہا ہے اور انشا اللہ کرتا ہی رہے گا نہایت شاندار مستقبل اپ کے در پر دستک دے چکا ہے سختی کے دن گزر چکے اب آگے خیر ہی خیر ہے انشااللہ، اللہ ہماری قوم کو مزید استقامت اور اکابرین کو ایمان اور یقین کی دولت سے نوازے اور انہیں ایمانداری سے ملک کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اللہ پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔