- الإعلانات -

متعصب ٹرمپ۔۔۔سرخروپاکستانی فوج

ہرکسی نے سنا ہے کہ اچھائی یا برائی ہمیشہ اوپرسے نیچے کی طرف آتی ہے’اگرایسا ہی ہوتا یاہوتا رہتا توپھر’ سیاسی وسماجی اصلاحات’چاہے ان کاتعلق معاشرتی امن سے ہویا ثقافتی سدھارسے ہو’یہ سبھی قول وعمل کے احساسات انسانیت کے تحفظ کے لئے ہمیشہ مفید اور کارآمد ثابت ہوتے لیکن جب ایسے اقسام کے ‘بنیادی اصلاحات’ کا پرچم اٹھانے والا قائد یارہنما خود اپنے دل سے برائی کے خاتمہ کے لئے اپنی فکری نیک نیتی اوراپنے ذہنی خلوص کواپنے کرداروبیان سے کم سے کم ظاہراورنمایاں کرتا ہوا دکھائی تو دے؟زیادہ مفصل تفصیل میں جانے کی بجائے یہاں ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دئیے گئے پاکستان’ افغانستان اور بھارت پالیسی متنازعہ بیان پر اپنی مختصر بات کو سمیٹنا چاہئیں گے کہ جنابِ والہ! صحیح انصاف تو اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب ظالم مظلوم کی جگہ کھڑا ہوکر پوری دیانتداری اور ٹھنڈے دل سے یہ سوچے کہ یہی ظلم اگر اس کے اہلِ خانہ’ اس کے لواحقین اور اس کے ہم وطنوکے ساتھ ہوتا تو اس کا اپنا ردِعمل کیا ہوتا اور اِن حالات میں وہ خود ان کی جگہ ہوتا تو پھر کیا فیصلہ کرتا؟مسٹرٹرمپ اتنی سی بات ہے جسے آپ سمجھنے سے قطعی قاصرہیں بطور پاکستانی قوم گزشتہ 20-15 برسوں سے امریکیوں کو ہم یہی تو سمجھاتے چلے آرہے ہیں پاکستانیوں نے جوکہا وہ کرکے دکھایا پیٹھ پھیر کرامریکیوں کی طرح ہم نے راہِ فراراختیار نہیں کی کیا یہ غلط ہے کہ افغانستان میں’جرائم(دہشت گردی )کے خاتمے کے جواز کو بہانہ بناکرامریکی اور نیٹوافواج یہاں اتر دیں سانحہ ٹیون ٹاور کی آڑ میں امریکی آہ وبکا اور شدید برہمی کاجو طوفانِ بدتمیزی امریکا نے عالمی سطح پر برپا کیا اس کے پیچھے مزید کیا کیامقاصد تھے؟ یا وہ مفادات اب بھی یقیناًہوسکتے ہیں جو امریکیوں نے ہم پاکستانیوں کے ساتھ تاحال شیئر نہیں کیئے ہیں تفصیلات کی طوالت میں جا نے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں سب کچھ توبالکل عیاں اورواضح ہے، امریکا کی خواہش ہے خواہشیں بھی ایسی کہ ہر خواہش پر امریکیوں کادم ہی نکلے’پھربھی امریکیوں کے ارماں مگر کم ہی نکلیں گے؟ جس کا مطلب یہ بھی سمجھ لیں کہ وہ خطہ میں پاکستان کو’صومالیہ ٹائپ کا کوئی بکرا’ سمجھنے کی بہت بڑی غلطی کی راہ پرنکل کھڑا ہوا ہے، غالبا پینٹگان کے حکام نے پاکستانی آرمی چیف کا یہ اہم بیان ضرور سن لیا ہوگا کہ پاکستان کو اب کسی قسم کی امریکی امداد کی کوئی ضرورت نہیں ہے، دہشت گرد چاہے وہ کتنے ہی خطرناک اور تربیتِ یافتہ جنگجو کیوں نہ ہوں پاکستان کی سرزمین ان کے لئے اب ‘جنت’ نہیں بلکہ دہکتی ہوئی دوزخ بنادی گئی ہے ،جس کا ایک کھلا مظاہر گزشتہ دِنوں خود پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے چند اہم ممتاز امریکی سینٹروں نے وادیِ راجگال سے ملحق علاقوں میں دیکھ لیا ہے کہ دہشت گردی کے جرائم کے خلاف پاکستانی فوج کے عزائم کس قدر پختہ اور غیر متزلزل ہیں اسی سال 2017 میں مختلف ممتازامریکی سینیٹروں کے بیانات بڑی اہمیت کے حامل ہیں’جنہوں نے گزشتہ دِنوں میں پاکستان کے ان متاثرہ قبائلی علاقوں کا دورہ کیا جہاں اِس وقت پاکستانی فوج دنیا کے انتہائی خطرناک دہشت گردوں سے دوبدو لڑرہی ہے’ یہ وہ’آپریشنل’ علاقے ہیں جہاں پاکستانی فوج نے امریکی سینٹروں کو اِن علاقوں میں لیجاکریہ دکھایا ہے کہ پاکستانی فوج کتنی دلیری’ ‘جرات مندی اوربے پناہ بہادری کے ساتھ پاکستان کے آئین شکنوں’پاکستان اور افغانستان سمیت خطہ کے علاوہ دنیا کے امن کے لئے مستقل خطرہ بننے والوں کوعبرت کانشانہ بناکرانہیں واصلِ جہنم کررہی ہے’پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آرنے یہ اہم اقدام اٹھاکر انسانیت کے خلاف ہونے والے بہیمانہ جرائم کا اصل چہرہ ان ممتاز امریکی سینٹروں کے سامنے بے نقاب کرکے کم ازکم اتنا تو کردیا کہ آج امریکا میں اگر کوئی بھارت نواز امریکی لابی پاکستان پر دہشت گردی کو فروغ دینے جیسا کوئی احمقانہ الزام لگائے گی تو جوابا انہیں بھی خود امریکیوں کی زبانی اصل صورتحال کا علم ہوجائے گا ہر سچ کے پیچھے چھپی ہوئی نیک نیتی کو کسی نہ کسی وقت سامنے تو آنا پڑتا ہے پاکستان پر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزامات لگا کرسامراجی بربریت اورجبرکو آپس میں گڈمڈ کرکے دنیا کوجتنا جھوٹ سنانا تھا وہ سنا چکا اسے بھی اصل حالات کا علم تبھی ہوگا جب وہ خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لے جیسا کچھ چند ہفتے قبل چند ممتاز امریکی سینٹروں نے قبائلی علاقوں میں خود مشاہدہ کیا ہے’سینٹرجان مکین’ کسی تعارف کے محتاج نہیں انہوں نے جو وہاں پر دیکھا ہے ان کی اپنی زبانی کیوں نہ سن لیا جائے وہ کہتے ہیں کہ ‘میں اور میرے ساتھیوں جن میں سینیٹر لنڈسی اولین گراہم’ سینٹرالیگزبلین وارین اورسینیٹر شیلڈون شامل تھے ہم نے قبائلی علاقوں میں جہاں پاکستانی فوج کے جوان اوران کے افسرزیک جان اوریک قالب ہوکرمسلح جنونی دہشت گردوں کے ساتھ نبردآزما ہیں ہم نے ان علاقوں کا ایک بہت ہی اہم اورمعلوماتی دورہ کیا اِس میں کوئی دورائے نہیں اور کوئی شک وشبہ نہیں کہ واقعی پاکستانی فوج بڑے دل کے ساتھ بڑے جگر کے ساتھ اِن دہشت گردوں کا براہِ راست مقابلہ کررہی ہے پاکستانی فوج کے لئے یہ مسلح دہشت گرد گروہ کسی چیلنج سے کم نہیں اور پاکستانی فوج اِس چیلنج کو قبول کرکے ان سے باقاعدہ جنگ لڑرہی ہے ہم اپنی آنکھوں سے پاکستانی فوج کو کامیابیاں سمیٹتے ہوئے دیکھا ہمیں اب محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کو طاقتور دنیا کو پاکستان کی جیسی کھل کر مددواعانت کرنی چاہیئے تھی، ویسی مددواعانت کرنے سے دنیا یقیناعین وقت پرپیچھے ہٹ گئی اوریہی طاقتور دنیا کی بہت بڑی غلطی کی گئی’جس کا ازالہ شائد ہی اب ممکن نہیں ہو سکے گا؟کیونکہ پاکستانی فوج نے وادیِ راجگال جیسی مشکل ترین جنگ کا پانسہ اپنے حق میں پلٹ لیا ہے دہشت گرد بہت بری طرح سے مارے جارہے ہیں یا وہ افغانستان کے پہاڑی دروں میں پناہ لینے پرمجبور ہورہے ہیں’یقیناًمیرے دیگرمعزز سینٹرزساتھی بھی ایسے ہی جذبات و احساسات رکھتے ہوں گے’ہمیں تسلیم کرنا پڑرہا ہے کہ پاکستانی فوج نے بے پناہ جانی اور مالی نقصانات اٹھانے کے بعد اِس خطہ میں امن قائم کرنے میں اپنی تاریخی ذمہ داری کو بھرپور طور نبھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہیاب پتہ چلا کہ جہاں برطانیہ جیسی طاقت اپنے قدم نہیں رکھ سکی وہاں علاقائی اور عالمی امن کو یقینی بنانے کی خاطر پاکستانی فوج نے ایک اور کامیابی کی تاریخ رقم کردی قوم اپنی فوج پر کل بھی فخر کرتی تھی آئندہ بھی فخروانبساط کرتی رہے گی۔
*****