- الإعلانات -

دھوبی کے کتے نہ گھر کے نہ گھاٹ کے

حق خود ارادیت کی خاطر جان دینے والے کشمیریوں کی پکار سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت نے کرائے کے نام نہاد بلوچ لیڈروں سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کی 36 ویں سیشن کے موقع پر مظاہرہ کروایا۔چند مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لاپتہ افراد کو بازیاب کرنے، بلوچوں کے نسل کشی کو روکنے، سی پیک کے خلاف اور بلوچستان کے حق میں نعرے درج تھے۔ اس موقع پر ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن کے رہنما میر بہاول مینگل، شاہجہان بلوچ اور اصغر بلوچ نے خطاب میں بھارتی لب و لہجہ میں کہا کہ سی پیک ایک خونی منصوبہ ہے، یہ ترقی نہیں بلکہ قبضہ، استحصال اور لوٹ مار کو وسعت دینے کا ایک سامراجی منصوبہ ہے، اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے پاکستان چین سے ملکر بلوچستان میں ظلم و جبر اور ریاستی بربریت میں اضافہ کرچکی ہیں۔ گھروں کو لوٹ کر جلایا جاتا ہے بلڈوز کرکے مسمار کیا جارہا ہے لیکن اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے عالمی ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کرچکے ہیں۔چین خطے میں اپنی سیاسی، فوجی اور معاشی اجارہ داری قائم کرنے کیلئے گوادر میں اپنی تسلط جما رہی ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ گواد ر میں اپنی فوج کو تعینات بھی کررہی ہیں۔ گوادر میں سرمایہ کاری بلوچ سرزمین پر قبضہ کی مترادف ہے کیونکہ بلوچستان ایک جنگ زدہ خطہ ہے اور مقبوضہ علاقہ ہے۔اس کانفرنس کے منتظمین وہ تمام نکھٹو ہیں جو بات بلوچستان کے حقوق کی کرتے ہیں لیکن خود ٹھنڈے اور خوشحال ملکوں میں انتہائی پر تعیش زندگی بسر کرتے ہیں نہ محنت نہ مزدوری گھر بیٹھے چوری.ان کے بقول بلوچ پسماندگی کا شکار ہیں اور وفاق ان کے حقوق دینے کو تیار نہیں تو گزارش ہے کہ جنیوا میں پھر کیا کررہے ہیں۔یہاں پاکستان میں آئیے اور حقوق کی جنگ لڑیں۔بیرون ملک بیٹھ کر کٹھ پتلیوں کی طرح تماشہ سے کچھ نہیں ملنے والا۔ان نام نہاد بلوچ رہنماوں کے سرپرست مودی بلوچستان کو مقبوضہ کشمیر سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے لیکن مودی کو شاید علم نہیں کشمیری قیادت اپنی سرزمین پر روکھی سوکھی کھا کر جان قربان کررہی ہے ۔ان میں سے کوئی بھگوڑا نہیں جو کسی اور کی چھتری تلے چار بینر اٹھا کر حق نمک ادا کرتا ہو۔بلوچ جو اپنی مٹی سے جڑا ہے وہ بھی جانتا ہے کہ ان کے نام پر کیا تماشہ ہو رہا ہے۔وہ جانتا ہے کہ ہر سال ماہ ستمبر میں اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کو موقع غنیمت جانتے ہوئے بھارت کے ایما پر بعض نام نہاد بلوچ تنظیموں کے مٹھی بھر کارکن یو این بلڈنگ اور جنیوا میں پاکستان مخالف مظاہرہ کرکے پاکستان کی ساکھ کو بٹہ لگانے کی اپنے تئیں ناکام کوشش کرتے ہیں جس میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کا واویلا کیا جاتا ہے۔گزشتہ برسوں کی طرح اس برس بھی سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)کی طرف سے اشتہاری مہم چلائی گئی ہے۔
بی ایل اے کی اس گھناؤنی مہم کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب فرخ عامل نے اسے پاکستان کی سالمیت و خودمختاری پر حملہ قرار دے کر سوئس حکام پر واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ایسے کھیل تماشے بند کریں۔انہوں نے سوئس ہم منصب کو مراسلہ بھیج کر اپنے خدشات سے بھی آگاہ کیا جبکہ ادھر پاکستان میں نامزد سوئس سفیر تھامس کولی کو دفتر خارجہ طلب کر کے جنیوا میں پاکستان مخالف اشتہاری مہم پر شدید احتجاج کیا گیا۔انہیں باور کرایا گیا کہ پاکستان کیخلاف سوئٹزرلینڈ کی سرزمین کا استعمال عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔سوئس حکام کو بھجوائے گئے اپنے مراسلے میں فرخ عامل کا کہنا تھا کہ ‘بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جسے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں نمائندگی حاصل ہے جبکہ سوئٹزرلینڈ میں آزاد بلوچستان کا نعرہ پاکستان کی سالمیت و خود مختاری پر حملہ ہے۔جگہ جگہ آزاد بلوچستان کے اشتہاروں اور بسوں پر جاری اشتہاری مہم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے اپنے مراسلے میں سوئس حکومت سے شدید احتجاج کیا اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔احتجاجی مراسلے میں سوئس حکام کو بتایا گیا کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔برطانیہ اور امریکہ میں بی ایل اے کے کئی نمائندے دہشت گرد قرار دیے جا چکے ہیں اور یہ کالعدم دہشت گرد تنظیم، بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملوں میں ملوث ہے.بی ایل اے کے دہشت گرد بچوں، خواتین، مسیحی برادری اور شیعہ آبادی کے قاتل ہیں۔اقوام متحدہ کا دفتر رکھنے والے پرامن شہر جنیوا میں دہشت گرد سرگرمیاں تشویش کا باعث ہیں جبکہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گردوں نے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیلئے جنیوا کا استعمال کیا۔اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز کے سامنے پاکستان دشمن عزائم کا ہونا انتہائی تشویشناک ہے، لہٰذا سوئٹزرلینڈ حکومت پوری قوت اور سنجیدگی سے ان اشتہاروں کے معاملے سے نمٹے، جنیوا شہر کے حکام کو کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور اس معاملے کی تحقیقات کرکے آئندہ ایسا ہونے سے روکا جائے۔کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں اور اشتہاری کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مشن اور سفارت کاروں کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے۔پاکستان کو اس بات کا طعنہ دینا کہ دہشت گرد اس کی زمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرتے ہیں, وہ اپنے ہاں بھی جھانکیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے.دہشت گردوں کی جانب سے سوئس زمین کا پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونا انتہائی تشویشناک ہے،اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے، جنیوا حکام کالعدم بی ایل اے کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا نوٹس لیں اور معاملے کی مکمل تحقیقات کر کے مستقبل میں انہیں روکاجائے۔پاکستان ایک خود مختار ملک اور اس کا تمام وفاقی اور صوبائی علاقوں پر مکمل کنٹرول ہے.جہاں کے شہری وفاقی اکائی پر کامل یقین رکھتے ہوئے ہرقسم کی جمہوری اور سیاسی سرگرمی میں آزادانہ حصہ لیتے ہیں۔ بیرون ملک کچھ شر پسندوں کا بلوچستان میں انسانی حقوق کا واویلا بے بنیاد اور پاکستان مخالف لابی کا کیا دھرا ہے۔اس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے سوا کچھ نہیں۔دنیا اس سے اچھی طرح باخبر ہے کہ بھارت اپنے ہاں اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کہ جس کی نشاندہی اقوام متحدہ کے ہائی کمشنربرائے انسانی حقوق زید رعد ال حسین نے بھی کی ہے کو چھپانے کے لیے بیرون ملک خود ساختہ جلاوطن نام نہاد بلوچ رہنماوں کی پشت پنہائی کررہا ہے۔طارق فتح جیسے کرائے کے ٹٹووں کی کیا حیثیت ہے جو دھوبی کے کتے نہ گھر کے گھاٹ کے کی طرح در در خوار ہوتے رہتے ہیں.بھارت اپنے مذموم اور گمراہ کن مقاصد میں نہ پہلے کبھی کامیاب ہوا ہے اور نہ آئندہ کبھی کامیاب ہو گا تاہم جنیوا جیسے پرامن ملک میں دہشت گرد تنظیموں کی ایسی سرگرمیاں ضرور تشویشناک ہیں.جن کا تدارک بہرحال کرنا ضروری ہے۔آخر میں بس اتنی گزارش ہے کہ خود ساختہ جلاوطن لیڈرز ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں کہ دھوبی کے کتے بارے ایک ضرب المثل ہے وہ کہیں ان پر تو فٹ نہیں آتی۔

اپنی بات۔۔۔ شوکت کاظمی
تلاش حسنِ حقیقی میں کُو بہ کُو رہا میں
تمام زندگی سرگرمِ جستجو رہا میں
اگرچہ لوگ اسے بزدلی سمجھتے رہے
سبھی کے ساتھ ہمیشہ نرم خُو رہا میں