- الإعلانات -

بھارتی دہشت گردی کا فروغ خطے کے امن کیلئے خطرہ

ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے بہت موثر انداز میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنا موقف پیش کیا ،بھارت پوری دنیا میں پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے بدنام کرنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ وہ خود دہشت گردی کو فروغ دینے والا سب سے بڑا ملک ہے ،کلبھوشن یادیو اور احسن اللہ احسان کا اعترافی بیان اس بات کی دلیل ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے ، بھارت خود اپنے ملک میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرواتا رہا ہے تاکہ وہاں موجود مسلمانوں اور پاکستان کو موردالزام ٹھہرایا جاسکے ، بھارت جس طرح مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کررہا ہے وہ روزروشن کی طرح عیاں ہے ، امریکہ نے ہمارے نقطہ نظر کو سمجھا ہے ، افغانستان میں صورتحال پچھلے چالیس سال سے پیچیدہ ہے جس سے غیر ریاستی عناصر فائدہ اٹھا رہے ہیںِخطے میں خراب صورتحال کااثر صرف پاکستان پر نہیں بلکہ خطے کے دیگر تمام ممالک پر ہوگا۔ بھارت پوری دنیا میں پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔بھارت پاکستان میں دہشت گرددوں کو مالی معاونت فراہم کررہا ہے ، بھارت میں چھپنے والی کتاب کے مطابق بھارت خود اپنے ملک میں دہشت گردی کے حملے کروا رہا ہے اور الزام وہاں کے مسلمانوں پر یا پاکستان میں غیر ریاستی عناصر پر لگادیتا ہے ۔ بھارت جس طرح مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کررہا ہے وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔ ہمارے بھارت اور افغانستان سے تعلقات کی نوعیت مختلف ہے ، افغانستان سے ہمارے تعلقات عوامی سطح پر ہیں اور روزانہ ہزاروں لوگ علاج معالجے اور رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے آتے ہیں ، ہمارے ملک میں 30لاکھ سے زائد افغان مہاجرین موجود ہیں جن کے مسلسل افغانستان میں تعلقات موجود ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہماری افغانستان کے ساتھ طویل بین الاقوامی سرحد بھی موجود ہے ۔ بھارت پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کررہا ہے ، ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی ہندوستان کو اچھی نہیں لگ رہی اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان مشرقی سرحد پر توجہ دے ۔ افغانستان بارڈر پرہونے والے موجودہ اور اس سے پہلے ہونے والے واقعات ایک سوچھی سمجھی سازش کا نتیجہ ہیں ، بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی دنیا کی توجہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے ہونے والے مظالم کی طرف سے ہٹانا ہے ، ہندوستان پاکستان پر مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کروانے کا الزام لگاتا رہا ہے ۔2009میں تین ہزار قبریں دریافت ہوئیں جن کو بھارتی فوج نے جعلی مقابلوں میں مارا تھا جو کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ، اس معاملے کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ امریکہ سے ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں ، امریکی نائب صدر اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات حوصلہ افزا رہی اور ہمارے آپس کے تعلقات طویل عرصہ سے چلے آرہے ہیں ، پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ مل کر کام کریں گے ، آگے چلیں گے اور مل کر بات چیت بھی کریں گے ۔ہماری امریکہ کے ساتھ وسیع تر پیمانے پر بات چیت ہے، ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا ، اس خطے میں خراب صورتحال کا اثر صرف پاکستان پر نہیں بلکہ دیگر تمام ممالک پر بھی ہوگا ۔ پچھلے 15سال سے دنیا میں معاشی بحران چل رہا ہے جس کی وجہ سے ایشیا بین الاقوامی دنیا کیلئے فیورٹ اکنامک زون کے طور پر سامنے آیا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بجا فرمایا ہے بھارت دہشت گردی کو فروغ دینے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کی دہشت گردانہ کارروائیاں اب ڈھکی چھپی نہیں رہی ہیں ، کلبھوشن کا اعترافی بیان واضح ثبوت ہے کہ بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے اور وہ خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعے پاکستان کے اندر دہشت گردی کروا رہا ہے، پاکستان بھارتی دہشت گردی کیخلاف کئی بار احتجاج کرچکا ہے اور دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کرواتا چلا آرہا ہے لیکن تعجب ہے کہ اقوام عالم کی نظریں بھارت کی طرف نہیں جارہی جو ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں بربریت کے پہاڑ ڈھائے ہوئے ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں دے رہا تو دوسری طرف دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے خطے کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش کررہا ہے، پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور چاہتا ہے کہ بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور کا حل مذاکرات سے نکالا جائے اور اس سلسلے میں پاکستان کی امن کاوشیں لائق تحسین ہیں لیکن بھارت ان کوششوں کو سبوتاژ کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا جس سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہورہاجب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا خطے میں پائیدار امن قائم نہ ہوسکے گا، بھارت کا معاملہ الٹا چورکوتوال کو ڈانٹنے والا ہے ، خود دہشت گرد ملک ہے اور الزام پاکستان پر دھر رہا ہے لیکن دنیا اس کے عزائم کو بھانپ چکی ہے۔
فوجی چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کا حملہ
خیبرایجنسی کی تحصیل جمرود کے دورافتادہ علاقے راجگل میں افغانستان بارڈر کے نزدیک نئے سیکورٹی فورسز کے چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کے حملے میں چیک پوسٹ کے کمانڈنگ افیسر لیفٹیننٹ ارسلان عالم شہید جبکہ فورسز کی جوابی کاروائی میں تین عسکریت پسند بھی ہلاک ہوگئے ۔ عسکریت پسندوں اپنے ساتھیوں کی لاشیں اپنے ساتھ اٹھا کر افغانستان لے گئے پاک افغان سرحد پر راجگل کے قریب قائم کیے گئے نئے بارڈر پوسٹ کے کمانڈنگ آ فیسر 22سالہ لیفٹیننٹ ارسلان عالم ڈیوٹی پر موجود تھے کہ اس دوران افغانستان کی جانب سے عسکریت پسندوں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ شہید ہوگئے ۔ارسلان عالم تین بہنوں کا اکلوتا بھائی جبکہ راولپنڈی کا رہائشی تھا ۔وادی تیراہ راجگل تحصیل جمرود کا دور افتادہ علاقہ ہے جہاں پر گھنے جنگلات اور بلند پہاڑ ہے جو جمرود تاریخی باب خیبر سے شمال مغرب کی طرف افغانستان کے ساتھ مورگہ کے مقام پر سرحد ہے جہاں پر ایک مہینے پہلے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن خیبر فور شروع کرکے ان علاقوں کو کلئیر کردیا کیا گیا ہے ۔ لیفٹیننٹ ارسلان عالم کی نماز جنازہ پشاور گیریژن میں ادا کردی گئی جس میں گورنر خیبر پختونخوا ،کور کمانڈر پشاور، عسکری اور فوجی حکام اور شہید کے رشتہ داروں نے شرکت کی۔نماز جنازہ کے بعد شہید کے جسدخاکی کو اس کے آبائی گاؤں روانہ کردیا گیا، جہاں شہید کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپر د خاک کردیا جائے گا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے لیفٹیننٹ ارسلان عالم کی شہادت کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ درحقیقت بطور خودمختار قوم ہماری بقا کی جنگ ہے۔ہماری بہادر افواج نے دہشتگرد عناصر کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور اس دوران اس نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ سیکورٹی اداروں پر بزدلانہ حملوں سے انسداد دہشتگردی کی کارروائیاں جاری رکھنے کا ہمارا عزم کمزور نہیں ہوسکتا۔ پاکستانی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کاحملہ اس امر کا عکاس ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہورہی ہے جس سے خطے کا امن خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے، پاکستان دہشت گردی کیخلاف مشترکہ کارروائیوں کا خواہاں ہے لیکن افغان حکومت اس سلسلے میں دیدہ دانستہ غفلت کا مظاہرہ کررہی ہے، پاکستان دہشت گردی کی کارروائیوں سے نمٹنا بخوبی جانتا ہے۔