- الإعلانات -

کلبھوشن یادیو کا معاملہ۔ عالمی ادارے میں اُٹھایا نہیں گیا؟

22 اور23 ستمبر کی شب ہمارے وزیراعظم خاقان عباسی نے اقوامِ متحدہ کے سالانہ اجلاس میں پاکستانی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے بجا ارشاد فرمایا کہ اگر بھارت نے خطہ میں اپنی بالادستی کے مذموم عزائم کی شروعات کے لئے کوئی جارحیت کی تو پاکستانی فوج بھارت کو ایسا سبق سکھائے گی جسے وہ ہمیشہ یادرکھے گا وزیر اعظم پاکستان نے امریکا سمیت عالمی طاقتوں پر بھی واضح کردیا کہ پاکستان کو اتنا کمزورنہ سمجھا جائے افغان جنگ افغانستان کے اندر لڑی جائے پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی ہر مذموم کوشش کو پاکستان ناکام بنانے کی بھرپورعسکری سکت رکھتا ہے کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے یہ سب باتیں ہمارے وزیراعظم نے اقوامِ متحدہ کے فلور پر کیں مگر’کاش! جناب وزیراعظم خاقان عباسی دنیا بھر کے سربراہان کی موجودگی کا فائدہ اْٹھاتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں بھارت کی خفیہ ایجنسی’را’ کی پاکستان کے صوبے بلوچستان میں کی جانے والی مبینہ خفیہ کارروائیوں کا بھی تذکرہ کرتے کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں خطہ کی تسلیم شدہ ایٹمی ڈیٹرنس رکھنے والی علاقائی طاقتیں ہیں بھارت نے گزشتہ کئی برسوں سے بلوچستان میں ایران کی چہاہ بہار بندرگاہ کی آڑمیں وہاں اپنے ایجنٹ بھیجنے کی پالیسی پر مسلسل پراکسی حرکات میں ملوث ہے جسے پاکستان کی کسی بھی سیاسی حکومت نے کبھی سنجیدگی سے بھارت کے سامنے یا کسی بھی عالمی فورم پر نہ اْٹھاکر اپنی آئینی اعلیٰ سطحی ذمہ داریاں نہیں نبھائیں جس پر قوم کا یہ حق فائق بنتا ہے کہ وہ اپنے منتخب سیاسی قائدین سے سوال کرئے کہ آخر ایسی کون سی وجوہات یا رکاوٹیں ہیں جن کی بناء پر پاکستانی زعماء کلبھوشن یادیو جیسے قاتل بھارتی جاسوس کا حساس معاملہ عالمی سطح پر اْٹھانے سے آخر گریزاں کیوں ؟پاکستانی آرمی کی کورٹ مارشل سے پاکستان کے خلاف جاسوسی کرنے والے حاضرسروس بھارتی کمانڈرکلبھوشن یادیوکوجسے سزائےِ موت سنائی گئی ہے اْس نے اپنی سزائے موت کے خلاف’انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس’ میں اپیل دائر کرکے یہ جھوٹا تاثردینے کی کوشش کی ہیکہ سزا سناتے ہوئے شائد پاکستانی ملٹری کورٹ نے اْس کے ساتھ انصاف نہیں کیا؟ یہ ہے ہمارا آج کا اہم موضوع’جس پرہم بحث کریں گے ا وراپنے قارئین سے شئیرکریں گے کہ بھارت نے گزشتہ دس پندرہ برسوں سے پاکستان کے اندرونی امن امان کوتہس نہس کرنے کے علاوہ پاکستان کی اہم حساس فوجی تنصیبات کوتباہ کرنے کے لئے کیسے کیسے بہیمانہ منصوبے بنا ئے اوراپنے بہیمانہ منصوبوں کوعملی جامہ پہنانے کے لئے نئی دہلی نے اپنے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدارکوایک مسلمان’مبارک پٹیل’کا نام دے کرپہلے اْسے جعلی پاسپورٹ دیاپھرپاکستان کے مسلم پڑوسی ملک ایران میں داخل کرا یا جہاں بیٹھ کراْس نے دکھاوے کے لئے مبینہ کاروبارشروع کیاکاروبار کی آڑمیں ایران کے ساحلی شہرچہابہارمیں کلبھوشن یادیوالمعروف ‘مبارک پٹیل’ نے بلوچستان اورکراچی تک اپنا جاسوسی کا نیٹ ورک پھیلایا، پاکستان کے خلاف جاسوسی کے ساتھ ساتھ کلبھوشن یادیو نیایرانی سرحد سے ملحق بلوچی علاقے میں وہ ذاتی طور پراپنی نگرانی میں قتل وغارت گری کی دہشت گردی کے کئی واقعات میں ملوث رہا بھارتی جاسوس کلبھوشن نے کراچی کا بھی سفر کیا جہاں کئی کالعدم فرقہ وارانہ تنظیموں سے اْس نے رابطے قائم کیئے اْنہیں فنڈنگ بھی کی تاکہ کراچی شہر میں انارکی’ انتشار’بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ جیسے انتہائی المناک وارداتیں کی جاسکیں کلبھوشن نے اپنے اِن تمام جرائم کا اعتراف کورٹ مارشل تفتیش کے دوران مجسٹریٹ کے روبرو کیئے جن میں صاف اْس نے بتایا کہ وہ ممبئی کا رہنے والا ہے اب بھی بحریہ میں وہ سروس میں ہے اْسے ‘را’ کی مکمل حمایت اور سرپرستی حاصل ہے وہ پاکستان میں جاسوسی، تخریب کاری اور دہشت گردی کاذمہ دار ہے اْس کی گرفتاری سے تفتیشی مراحل تک عالمی قوانین کے مطابق اْسے ہر ممکن سہولت فراہم کی گئی ملٹری کورٹ سے سزائےِ موت ملنے کے بعد قوم اپنے حکمرانوں سے پوچھنے کا حق رکھتی ہے، آج تک ہمارے حکمران نے کن مصلحتوں کی بناء پر کلبھوشن کا معاملہ التواء میں ڈالا ہوا ہے کیوں تاخیر کی جارہی ہے اِیسے ہی تاخیری حربوں کی آڑ میں اْسے جان بوجھ کر وقت دیا گیا کہ وہ اپنی سزائےِ موت کے خلاف عالمی عدالت میں جاسکے جوکہ وہ عالمی عدالت میں جاپہنچا وہاں سے کیا فصلہ آناہے ،جن لوگوں کا اجتماعی قتلِ عام اِس بھارتی جاسوس نے کیا ہے اْن کے لواحقین تاحال منتظر ہیں کہ کلبھوشن کو اْس کے انسانیت کش جرائم کی وہ سزافورا ملے جس کا وہ مستحق ہے، عوام انتظار میں ہمیشہ رہے گزشتہ برس گزرگیا عوام کو امید تھی کہ شاید اگلے برس ستمبر میں جب اقوامِ متحدہ کا سالانہ اجلاس منعقد ہوگا پاکستانی وزیر اعظم ہوسکتا ہے کلبھوشن یادیو کا یہ حساس معاملہ عالمی ادارے کے سامنے رکھیں گے لیکن اِس بار بھی عوام منتظر ہی رہے پاکستانی وزیر اعظم نے کسی بھی عالمی سربراہ سے یا براہِ راست بھارتی وزیر اعظم نریندرامودی سے ہی بات کرتے کہ بھارت بلوچستان میں اپنی خفیہ ایجنسی’را‘ کو لگام دیں کہ وہ بلوچستان میں تخریبی کاروائیوں سے باز آجائے کلبھوشن کے سفاکانہ جرائم کی فہرست بہت طویل ہے اْسے پاکستانی حساس سیکورٹی ادارے آئی ایس آئی نے گرفت میں لینے کے لئے کئی برس تک اْس کی’ریکی’ کی پاکستان میں وہ کہاں کہاں گیا؟ افغانستان تک اْس کا نیٹ ورک پھیلاہوا تھا جس کا اْس نے مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا تھا کلبھوشن یادیو نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اصل میں اْس کا خاص ٹارگٹ یہ تھا کہ کسی صورت میں بھی گوادرمیں چین کے تعاؤن سے تعمیرہونے والی بندر گاہ مکمل نہ ہوسکے ہرصورت میں بلوچستان کو ملسل عدم استحکام کیئے رکھنا اْس کے مذموم عزائم میں شامل تھا۔ یاد رہے کہ ساڑھے چاربرس پیشتر کوئٹہ میں ہزارہ مسلم شیعوں زائرین کی بسوں کو روک کر اْنہیں بسوں سے اتار کر لائن میں کھڑا کرکے مشین گنوں سے بھون دیا گیا تھا، ایسے دلخراش واقعات ایک مرتبہ نہیں غالبا تین مرتبہ دہرائے گئے، بھارت کو اِس بے گناہ خون کا جواب تو دینا ہی پڑے گا جو اْس نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی سرپرستی میں خود کروائے تھے جن مسلمانوں کا اجتماعی قتل باربار ہوا ہے وہ آج بھی اِسی آس میں منتظر ہیں کہ کلبھوشن کو قانون اور آئین کے مطابق سزائےِ موت کب ملتی ہے؟ کاش ! وزیر اعظم عباسی صاحب قومی سلامتی کا حساس اور اہم یہ معاملہ بھی اپنے انجام تک پہنچانے میں اپنے عوام اور اپنے ملک کی کوئی تشفی کرپاتے؟۔
*****