- الإعلانات -

شہدائے البدر کس کے خوں کا صدقہ ہیں؟

Asif-Mehmood

بنگلہ دیش میں صلاح الدین قادر اور علی احسن مجاہد کے جنازے اٹھے تو احمد بن حنبل ؒ یاد آگئے: ”ہمارے جنازے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کون حق پر تھا“۔
پاکستانیت مصلوب ہو گئی لیکن پاکستان میں سکوتِ مرگ رہا۔قبرستانوں جیسا سناٹا۔ہر شام ٹاک شوز میں جھپٹ کر پلٹنے اور اور پلٹ کر جھپٹنے والے وزرائِ کرام ایک حرفِ مذمت ادا نہ کر سکے۔ایسے وقت میں جب دنیا پاکستانی ردعمل جاننا چاہ رہی تھی، قادر الکلام چودھری نثار علی خان بولے بھی تو بس اتنا :”ہم عالمی ردِ عمل کا جائزہ لے رہے ہیں“۔صلاح الدین قادر اور علی احسن مجاہد کے لاشوں کو زباں ملے تو کہیں:
” میری نمازِ جنازہ پڑھائی غیروں نے
مَرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے“
مجھے سب سے زیادہ مایوسی سیکولر احباب کے رویے سے ہوئی،حقوقِ انسانی کے یہ علمبردار بھی یوں چُپ ہوئے کہ جہانِ حیرت آباد ہو گیا۔وہ خواتین و حضرات بھی کہیں نظر نہ آئے جو ’ سول سوسائٹی‘ تخلص کرتے ہیں۔شاید ’ مینیو‘ دیکھے بغیر بات کرنا روشن خیالی کے آداب کے منافی ہو۔لیکن سچی بات ہے مجھے ان احباب سے بہت توقع تھی کہ وہ بولیں گے۔یہ احباب امت کے تصورِ موہوم کے ناقد ہیں اور ایک ’ نیشن سٹیٹ ‘ کی بات کرتے ہیں۔ان کا موقف ہے کہ ہمیں ’ امت‘ کے نام پر اپنے ملک کو کسی کشمکش کا اکھاڑا بنانے کی بجائے صرف ایک ’ نیشن سٹیٹ‘ کے مفادات کو مدِ نظر رکھنا چاہیے۔بنگلہ دیش میں آج مقتل آباد ہو رہے ہیں تو یہ امت کا نہیں یہ خالصتا ایک ’ نیشن سٹیٹ‘ کا معاملہ ہے اورپاکستان کے مفادات اور حقوقِ انسانی اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس عدالتی قتل کے خلاف پوری قوت سے آواز اٹھائی جائے۔لیکن یہ حضرات خاموش ہیں۔کیا اس لیے کہ مصلوب ہونے والوں کی اکثریت کا حلیہ ’ روشن خیال ‘ نہیں ہے اور وہ انسان کی اس تعریف پر پورا نہیں اترتے جو ’ مینیو‘ میں دی گئی ہے اس لیے حقوقِ انسانی کے نام پر ان کے حق میں آواز نہیںاٹھائی جا سکتی؟جس’ نیشنلزم‘ کا یہ احباب ہر وقت ابلاغ کرتے ہیں،وہ نیشنلزم کیا ہوا؟ اور جس ’ نیشن سٹیٹ‘ کی یہ ہر وقت بات کرتے تھے اس’ نیشن سٹیٹ‘ کے مفادات کہاں گے؟بنگلہ دیش میں جو ٹریبیونل بنایا گیا ہے ،دلیل اور انصاف کی دنیا میں اس کا کوئی اعتبار نہیں۔یہ سراسر انتقام ہے اور حقوقِ انسانی کا ابطال۔لیکن حقوقِ انسانی کے نام پر تحرک کے جملہ حقوق جن خواتین و حضرات کے نام محفوظ ہیں ان کی کوئی خبر نہیں۔صاف کیوں نہیں کہ دیتے : جس کی ڈاڑھی ہے وہ انسان نہیں، اورجو انسان نہیں اس کے حقوق ِ انسانی کہاں سے آ گئے“۔یہ احباب جانوروں کے حقوق کی بھی بات کرتے ہیں لیکن جس انسان کا حلیہ روشن خیال نہ ہو یا جو کسی مذہبی جماعت سے وابستہ ہو اس کے حقوق یہ مان کر نہیں دیتے۔اس پر بھی یہ تجاہلِ عارفانہ کہ سیکولرزم تو برداشت، تحمل اور رواداری کا نام ہے۔پاکستان کا فکری بیانیہ بھی چونکہ مذہبی ہے اس لیے پاکستان کے مفادات کو سینگوں پر لے لینا تو روشن خیالی قرار پاتا ہے، لیکن اس کے حق میں کلمہِ خیر کہہ لیا جائے تو یہ تھوڑا فرسودہ اور تھوڑا قدامت پسند رویہ کہلائے گا۔تحقیق کے بغیر ’البدر ‘ اور ’ الشمس‘ کی مذمت تو روشن خیالی ہے ،لیکن آپ مکتی باہنی کے مظالم پر خود بنگلہ دیش میں چھپی کسی کتاب کا حوالہ دینا چاہیں تو آپ فرسودہ خیالات کے مالک قرار پائیں گے۔ہمارے اپنے اپنے ظالم ہیں اور اپنے اپنے مظلوم۔ہم کسی ظلم کو ظلم کی نسبت سے نہیں دیکھتے بلکہ ظالم اور مظلوم کی نسبت سے دیکھتے ہیں۔ہم ظلم کی مذمت سے پہلے یہ اطمینان کر لینا ضروری سمجھتے ہیں کہ مظلوم کا تعلق ہمارے فکری گروہ سے ہے کہ نہیں۔مظلوم اگر دوسرے گروہ سے ہے تو ظلم ظلم نہیں رہتا۔ایک طبقہ ملالہ کے لیے آواز نہیں اٹھاتا اور دوسرا طبقہ عافیہ صدیقی پر ہونے والے ظلم کو ظلم نہیں کہتا۔ان دو انتہاوں کے بیچ ایک ایسے بیانیے کی ضرورت ہے جو تعصب سے پاک ہو اور جو ظلم کو مظلوم اور ظالم کی نسبت سے نہیں صرف ظلم کی نسبت سے دیکھے۔
بنگلہ دیش میں دی جانی والی سزاﺅں کو دلیل قانون اور انسانیت کی رو سے دیکھیے۔ چند پہلو بہت اہم ہیں۔
حکومتوں کی غلط پالیسیاں اپنی جگہ، جن لوگوں نے دفاعِ پاکستان کی جنگ لڑی کیا انہوں نے غلط کیا؟جب یہ لڑائی ہوئی اس وقت پاکستان کی ریاست تھی،بنگلہ دیش کا کوئی وجود نہ تھا۔پاکستان کی ریاست کے تحفظ کے لیے لڑنا غلط کیسے ہو گیا؟ اس وقت جو بھی ہوا، پاکستان میں ہوا۔پاکستان کی زمین پر ہوا۔ریاست پاکستان نے کوی مقدمہ قائم نہیں کیا تو بعد میں وجود میں آنے والی ریاست مقدمات کیسے شروع کر سکتی ہے؟ یہ سوال بہت اہم ہے۔ 19 مارچ 1972 کوجب بنگلہ دیش حکومت نے وہاں پاکستانیوں پر مقدمات کا فیصلہ کیا اس وقت پاکستان میں چار لاکھ بنگالی موجود تھے۔پاکستان نے ان سب کو روک لیا اور بھٹو صاحب نے کہا کہ اگر بنگلہ دیش نے مقدمات قائم کرنے ہیں تو ہم بھی ان بنگالیوں پر مقدمات قائم کر سکتے ہیں۔ان میں سے کچھ اہم سرکاری عہدوں پر فائز تھے اور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ریاست کے راز باغیوں کو دیے۔کیا ان کو غداری کے الزام میں کٹہرے میں لا کھڑا کرنا کوئی مشکل کام تھا؟لیکن پاکستان نے ایسا نہیں کیا۔بنگلہ دیش نام کی تو اس وقت کوئی ریاست ہی نہیں تھی وہ کیسے مقدمات کا آغاز کر سکتی ہے۔انسانیت کے نام پر مقدمہ چلایا گیا ہے تو کیا کسی مقدمے میں مکتی باہنی کو بھی کوئی سزا سنائی گئی؟کیا وہ وہاں پھول بیچنے آتے تھے۔پاکستان نے مکتی باہنی کے مظالم کبھی صحیح طور پر بیان ہی نہ کیے کہ کہیں مغربی پاکستان میں مقہم چالیس لاکھ بنگالی انتقام کا نشانہ نہ بن جائیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مکتی باہنی کوئی صوفیوں کی انجمن تھی۔
یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ بنگلہ دیش کن حالات میں اقوام متحدہ کا رکن بنا۔بھٹو صاحب نے چین سے کہا کہ بنگلہ دیش ہمارے قیدیوں پر جنگی مقدمات قائم کرنا چاہتا ہے اس لیے آپ اس کی اقوام ِ متحدہ کی رکنیت کو ویٹو کر دیں تا کہ اس پر دباﺅ بڑھے۔25 اگست 1972 کو چین نے ویٹو کر دیا۔چنانچہ بنگلہ دیش کو رکنیت نہ مل سکی۔اس پر دباﺅ بڑھ گیا۔ چنانچہ بعد میں معاہدہ ہوا کہ کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی۔پاکستان نے بھی بنگالیوں کو واپس جانے کی اجازت دے دی اور بنگلہ دیش نے بھی ایسی کوئی کارروائی نہ کی۔یہ لوگ بعد میں بنگلہ دیش حکومتوں کا حصہ بھی رہے اور اس سے وفاداری کا حلف بھی لیا۔الشمس کے کمانڈرصلاح الدین قادر وزیر اعظم خالدہ ضیاءکے مشیر برائے پارلیمانی امور رہے۔چیزیں معمول پر آگئی تھیں لیکن اب پھر نفرت اور انتقام کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔جو بین الاقوامی معاہدے کے بھی خلاف ورزی ہے۔اور ظلم بھی کہ یہ کارروائی جس طرح چلای جا رہی ہے اس کا انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔ٹریبیونل کے سابق سربراہ نعیم الحق کی جو سکائپ گفتگو 2012 میں منظر عام پر آئی اس کے بعد اس خونی کھیل کو انصاف کا نام دینے کے لیے آدمی میں دو میں سے کوئی ایک خصو صیت ہونا ضروری ہے۔ اول : وہ بد دیانت ہو۔دوم: پرلے درجے کا احمق اور متعصب ہو۔

ملک تو کشمکشِ اقتدار کے حریفوں کی ہوس نے توڑا لیکن مقتل کسی اور کو آباد کرنے پڑے۔سراج الحق چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ صرف انہی کو زیبا ہے:
” مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے“