- الإعلانات -

امریکا کو پاکستان کے تعاؤن کی اشد ضرورت ۔۔۔!(1)

حسد اورگھمنڈ کسی شخص کے اندر اگرسرایت کرجائیں توحسداورگھمنڈ اْس کی عقل کونکال باہر کردیتے ہیں پھر یہی وہ بدترین موقع ہوتا ہے’جب انسان غور وفکر کرنے سے تہی دست ہوجاتا ہے کام کی بات یہ ہے اگرغورکرنے کے ساتھ ساتھ فکری تجسس اورعمیق گہرائی کے باہمی فکری ونظری عمل کوبھی اِس میں شامل کرلیا جائے اپنے میں سمجھنے کی عادت اپنا لی جائے تو پھریقین کیجئے اپنا ‘خود’ ہمیں خود بخود دکھائی دینے لگ جائے گا کہ ‘ہم خود کیا ہیں؟ ہم خود کتنی بڑی چیز ہیں’ ہمیں کوئی یہ کیوں بتائے کہ’کل ہم کیا تھے؟آج اچانک سے ہم خود’ کیا’ سے ‘کیا’ ہوگئے ہیں؟’بات اگرنہیں کی گئی ہے عوام کونہیں سمجھایا گیا ہے’جان بوجھ کر’ یا اپنے ہی دشمنوں کے آلہِ کار بن کرہم اب تک90۔80۔70 اور2000 کے زمانے میں ٹامک ٹومیاں ہی مارتے رہ گئے ہیں’تو اِس میں کسی کا کوئی قصور نہیں’قصوروارہم خود ہیں 1947 میں قیام پاکستان کے زمانے میں قوم کو یہ سمجھا گیا تھا ‘پاکستان اگرقائم رہ سکتا ہے توصرف اورصرف (خدانخوستہ) امریکا بہادرکی’نظرِکرم’ سے قائم رہ سکتا ہے اِس لیئے کہ دنیا بھر کے مالیاتی ادارے اورمہلک ا سلحہ سپلائی کرنے والے سبھی مغربی ممالک امریکا کی اَبروئےِ جنبش پرمتحرک ہوتے ہیں’گزشتہ کئی دہائیوں پراگرایک نظرڈالی جائے توایسا سمجھنا کچھ غلط بھی نہ تھا’ایک توامریکیوں نے ہمیں اپنی بغلوں میں تھاما ہواتھا، جبکہ دوسری جانب ہماری بدقسمتی یہ ہوئی کہ ہمارے ماضی کے کرپٹ ترین بیوروکریٹس کی فوج ظفرموج تھی چاہے اْن میں سے کچھ کا تعلق فوج سے سمجھ لیں’یا سویلین طبقہ تھا وہ سیاست دان قائد تھے’ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے بعد ماسوائے چند ایک کے’ تقریبا پوری کی پوری سیاسی قائدین کی’لاٹ کی لاٹ’ امریکی بازوؤں میں دبکنے کی بجائے افسوس! پاکستانی قوم نے اْنہیں امریکیوں کے ‘جوتے’ چمکاتے دیکھا ‘(معاف کیجئے گا) ہم اْس بدبخت امریکی سینٹر کا نام بھول گئے، جس نے کئی برس پیشتر پاکستانی قوم کو ایک ‘مغلظ گالی’بکتے ہوئے یہاں تک سبھی نے سنا تھا کہ یہ’پاکستانی تو صرف ایک امریکی ویزہ حاصل کرنے کے لئے ‘اِس حدتک’ بھی جاسکتے ہیں؟’ نجانے کون سے بدقسمت پاکستانی ہونگے؟پاکستان توشروع روزسے ہی امریکی کیمپ میں رہا، پھربھی امریکیوں کے دلوں میں سے پاکستانیوں کے لئے زہریلی نفرتیں کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتی ہی رہیں’ الحمداللہ! پاکستانی قوم کی تیسری نسل کو اللہ تعالیٰ کا شکر اداکرنا چاہیئے کہ آج چونکہ پاکستان بالکل بدل چکا ہے’ کبھی کسی نے سوچا ہوگا کہ امریکی نائب وزیرخارجہ پاکستان آنا چاہتی ہوں تو اْنہیں یہ کہہ دیا جائے نہیں محترمہ! آپ صدر ٹرمپ کے دئیے گئے متنازعہ پالیسی بیان کے بعد’پاکستان پرشدید قسم کے متعصبانہ زہریلے دہشت گردی اوردہشت گردوں کے سہولت کاروں کوپناہ دینے جیسے لغواورجھوٹے الزامات لگائے جانے کے بعد اب آپ پاکستان کی سرزمین پرقدم نہیں رکھ سکتیں’ گزشتہ چند ہفتوں میں وائٹ ہاؤس کابینہ کے دواہم اراکین کوپاکستان نے صاف انکارکردیا کہ وہ پاکستان تشریف نہ لائیں’ پاکستانی وزارتِ خارجہ کی راہیں درست جرات مندانہ سمت میں استوار کرنے والی جو بھی ‘فیصلہ ساز قوتیں’ہیں، اْن کی یہ’انقلابی خوبیاں انقلابی تبدیلیاں’ ہم پاکستانیوں کوہی نہیں بلکہ برطانیہ لندن میں رائل یونائیڈڈ اسٹیڈیز انسٹی ٹیوٹ کے اْن محبَ وطن لائق و فائق اور ذہین افراد کو اب سجھائی دینے لگی ہیں’حال ہی میں’رائل یونائیٹڈ اسٹیڈیز انسٹی ٹیوٹ لندن’میں پاکستانی ڈیسک پرریسرچ کرنے والی کئی ممتاز شخصیات نے’بدلتے پاکستان’ کی اپنی ایک جائزہ رپورٹ عالمی میڈیا میں جاری کی ہے’ جس کے خوشگوارمندرجات ہمارے خیال سے ملکی الیکٹرونک میڈیا میں ہونے والی شبانہ روز کی بحث وتمحیص کا حصہ ہونی چاہیئے تھی ،جس کی پاکستانی عوام کو بخوبی آگہی ملنی چاہیئے تھی’کل تک جو کہاجارہا تھا کہ (خدانخواستہ) پاکستان کوامریکی صدرٹرمپ کی طرف سے دی جانے والی دھمکی کے بعد کسی بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے؟ٹرمپ نے پاکستان کوبڑی سخت الفاظ میں کوئی بڑی دھمکی شمکی دیدی ہے’ اب ہمارا کیا بنے گا؟ قوم کوکس قدرخوف زدہ کردیاگیا ہے جبکہ مغرب کے کئی ممالک جن میں برطانیہ سرفہرست ہے برطانیہ کے ایک اہم عالمی شہرتِ یافتہ تھنک ٹینکس(آریوایس آئی)کی جاری کی ہوئی تفصیلی رپورٹ جوکہ دوحصوں پر مشتمل ہے، غیر ملکی آلہ کار طبقات پاکستان کوامریکا سے خوف زدہ کر نے والوں کو پہلی فرصت میں یہ رپورٹ ضرورپڑھ لینی چاہیئے تاکہ اْنہیں بھی معلوم ہوسکے کہ امریکی صدرٹرمپ نے امریکی اسٹبلیشمنٹ کوپاکستان کے ساتھ دشمنی والا رویہ اپنا کر کتنا ’بیک فٹ‘ پر لاکھڑا کیا ہے بلکہ حواس باختہ کردیا ہے’برسبیلِ تذکرہ اگریہاں یہ کہہ دیا جائے توکوئی مظائقہ نہیں ہونا چاہیئے’ماضی میں اکثر طنزًکہا جاتا تھا، انگریزی کے حرفِ تہجی کا پہلا لفظ’اے’ کواگر تین مرتبہ دہرائیے مثلا’اے’ سے ‘اللہ’ ‘اے’ سے’امریکا اور’اے’ سے ‘آرمی’ پاکستان کے تحفظ کے لئے یہی تین ‘اے’ کافی ہیں؟یہ پڑھ کرکچھ لوگ ناراض ہوجاتے ہیں بہت سے افراد کہتے ہیں’یہ بالکل صحیح ہے’ اللہ’ تویقیناًہے اوراِس میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن ‘امریکا’ کے بغیرپاکستان جائے گا کہاں؟اور’اے’ سے آرمی’ مطلب یہ ہے کہ آرمی اور پاکستان کیسے لازم اورملزوم مان لیئے جائیں؟اگر کوئی پاکستانی کہہ دے تو اْس کی پکڑ ہوگئی ؟ امریکی سینٹر جان کیری کہہ دے کہ’ ‘پاکستان کی آرمی پاکستان کی بائنڈنگ فورس ہے‘‘ تو سب واہ واہ کریں؟ یہی تو ہے ہمارے سیاسی اوربیوروکریٹس کلب کا غلامانہ دوغلے پن کامزاج’ان کے’اظہارِکمزوری’کے اِس بے حد مایوسانہ تصورکوہمارے خیال سے آج یقیناًبڑی ٹھیس پہنچی ہوگی جب پاکستانی فوج کے سپہ سالارجنرل قمر جاوید باجوہ نے’پاکستان کی قومی اسمبلی نے اور پاکستانی قومی سلامتی کے مشیرریٹائرڈ لیفٹینٹ جنرل ناصرخان باجوہ نے یک زباں ہوکر’یک خیال اوریک تصور ہوکرامریکیوں کو صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اپنا سامانِ حرب وضرب اپنے پاس ہی رکھیں، اب پاکستان کوکسی بھی عالمی مالیاتی ادارے کے سامنے جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے’اب پاکستان کو ٹرمپ کے امریکا کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے’کیونکہ ٹرمپ نے پاکستان پرکڑی تنقید کرکے بصیرت افروزی’ کا کوئی نیا ثبوت فراہم نہیں کیا’ 1947 سے آج تک امریکا کے ہرصدرنے پاکستان پرمتعصبانہ تیروتبر ہی برسائے’ہر امریکی صدر نے پاکستان پرجھوٹے’لغواور بے سروپا بلکہ بھارتی شہ پر یکطرفہ الزامات ہی لگائے ہیں، کبھی بھی کسی امریکی صدر نے پاکستان کی طرف سے بڑھائے جانیوالے دوستی کے ہاتھ کونیک نیتی کے ساتھ دوستی کا ہاتھ سمجھنا گوارا تک نہیں کیا’ الٹا عالمی سطح پرپروان چڑھنے والی خطرناک دہشت گردی کی بیخ کنی کرنے پرپاکستانی فوج کی امریکا نے کبھی تعریف و ستائش بھی نہیں کی’ہمیشہ پاکستان کو امریکا نے بہت بری طرح سے مایوس کیا ہے،بلکہ یہاں تک کہہ دیا جائے توبات میں اورزیادہ منطق اورزیادہ وزن پیدا ہوجائے گا کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے پاکستانی الیکٹرونک میڈیا سمیت کئی ممتازملکی اخبارات کے مالکان اوراْن اخبارات کے بکاؤ قسم کے چند قلمکاروں اورٹی وی کے بکاؤ قسم کے چند اینکرپرسنز کو خریدنے کے لئے لاکھو ں ڈالرز کی مد میں اْنہیں خریدا ‘ اب توامریکا میں یہ عام بحث ہورہی ہے کہ ٹرمپ نے پاکستان کو موضوعِ گفتگو بناتے ہوئے جنوبی ایشیا سمیت ایشائی وسطی ریاستوں سے ممکنہ حاصل ہونے والے مفادات پرجو کڑی زک لگائی ہے اِس کا ازالہ شائد ہی ممکن ہوسکے گا تاہم اب تک جتنا پلوں کے نیچے سے تلخ گندہ پانی گزرچکا ہے اْس کا ازالہ ہونا بہت مشکل ہے’امریکی مفروضوں کی بنیادوں پر مستقبل کے فیصلے کرنے کی بڑی خاص شہرت رکھتے ہیں۔
(۔۔۔جاری ہے)