- الإعلانات -

پاک سعودی تعلقات اور دوستی کے لازوال رشتے

پاکستانی اگر کسی سرزمین کو اپنے ملک سے بڑھ کر چاہتے ہیں اور اس کی سلامتی اور ترقی کی دعائیں مانگتے ہیں تو روئے زمین پر اس جگہ کو سعودی عرب کے نام سے پکارا جاتا ہے ، سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دوستی کے رشتوں کے علاوہ سب سے بڑا رشتہ مذہب کا ہے کیونکہ سعودی عرب میں ہمارا قبلہ بیت اللہ اور ہمارے پیارے آقا محمد عربیﷺ کا دربار واقع ہے یہ وہ فضیلت ہے جو سعودی عرب کو دیگر اسلامی ممالک سے منفرد اور ممتاز بناتی ہے ، قیام پاکستان کے فوراً بعد سعودی عرب نے بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کو یہ پیغام بجھوایا کہ اسلام کے نام پر بننے والی مملکت اور سعودی عریبیہ جسد واحد کی طرح ہے اوردونوں ممالک کے مفادات مشترک اور دکھ سکھ سانجھے ہیں۔ سعودی عرب کے جتنے بھی فرمانروا آئے انہوں نے پاکستان کے ساتھ اپنی خصوصی محبت اور دلچسپی کا اظہار کیا اور پھر اس کا عملی ثبوت بھی فراہم کیا۔ ہمارے مشرقی ہمسائے بھارت نے جب1965ء اور 71ء میں رات کی تاریکی میں ہم پہ وار کیے اور جنگیں مسلط کی تو وہ لمحات بڑے آزمائش کے تھے کیونکہ اس وقت پاکستان عین عالم شباب میں تھا اور ایک نئی مملکت کے پاس محدود وسائل تھے مگر اس وقت سعودی عرب نے نہ صرف سفارتی سطح پر پاکستان کی مدد کی بلکہ مالی طورپر بھی بے پناہ مدد کی۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جب عنان حکومت سنبھالی تو انہوں نے پاکستان کو اپنی پہلی ترجیح میں رکھا اور کہا کہ پاکستان ان کا دوسرا گھر ہے، عالمی سطح پر ہونے والے تمام معاہدوں میں پاکستان کو باخبر رکھا اور تقریباً تمام معاملات میں پاکستان کو اپنے ساتھ چلانے اور شریک رکھنے کی کوشش کی گئی۔ سعودیوں کی اس محبت کے جواب میں پاکستانیوں نے بھی کچھ کم نہیں کیا اور اپنے ملک کے تیسرے بڑے شہر ( لائل پور)کا نام سعودی فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز کے نام کردیا آج یہ شہر پاک دوستی کی ایک مثال کے طورپر فیصل آباد کہلاتا ہے۔ پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد سعودی عرب نے پاکستان کی بے پناہ مالی مدد کی اور پاکستان کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونے میں مدد دی ، پاکستان سے لاکھوں کی تعداد میں افرادی قوت منگوا کر کثیر زر مبادلہ کی صورت میں پاکستان کو امداد فراہم کی۔ اسلام آباد میں موجود سلطانہ فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ادارہ موجود ہے جس کے تحت صحت، تعلیم اور پیشہ وارانہ فنون کی تربیت مہیا کی جارہی ہے یہ ادارہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ایک پیاری اہلیہ کے نام سے منسوب ہے، پاکستان میں زلزلہ آئے، طوفان آئے یا اور کوئی قدرتی آفت آجائے ان معاملات میں سب سے زیادہ اور سب سے پہلے امداد برادر دوست ملک سعودی عرب کی عوام اور وہاں کی حکومت فراہم کرتی ہے اور ان تمام باتوں سے ہٹ کر دونوں ممالک کے مابین جو رشتہ ہے اسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی۔ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین پائی جانے والی لازوال دوستی کے بدلے میں پاکستان سعودی افواج کی تربیت کا فریضہ بھی سرانجام دیتا ہے۔ شاہ سلمان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مسلم ممالک کی ایک مشترکہ اتحادی فوج بنانے کا جب فیصلہ کیا تو اس کا پہلا سربراہ بھی انہوں نے پاکستان سے جنرل راحیل شریف کی صورت میں لیا ظاہر ہے یہ بھی ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ امت مسلمہ کی مشترکہ فوج کی قیادت پاکستان کے حصہ میں آئی۔ سعودی عرب میں پاکستان کے مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کررکھی ہے جس سے پاکستانی معیشت کو مضبوط ہونے میں کافی مدد ملی ہے۔ آج سعودی بھائی اپنی مملکت کی تشکیل کی 86 ویں سالگرہ منارہے ہیں اس موقع پر دونوں ممالک کے عوام کو اور حکومتوں کو نہ صرف اس دوستی کی تجدید کا عہد کرنا چاہیے بلکہ آنے والے دنوں میں مشترکہ مفادات کے تمام منصوبوں کو ہر ممکن کامیاب بنانے کی کوشش کرنا چاہیے۔

فرق۔۔۔ شوق موسوی
جو بھی کہتے تھے نہیں آئیں گے تھوکا چاٹ لیں
پیش خود ہوتے نہیں یہ حال ہے عمران کا
کیس وہ اپنے بھگتنے کیلئے لوٹ آئے ہیں
فرق یہ ہے ایک آمر اور سیاستدان کا