- الإعلانات -

کشمیریوں کو شناخت کے بحران سے دوچار کرنے کا پلان

پاکستان اور بھارت دو ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان برسوں سے چلے آ رہے کشیدہ تعلقات کی جھلک جہاں ایک طرف لائن آف کنٹرول پر دیکھنے کو ملتی وہاں اقوام متحدہ کے حالیہ سالانہ اجلاس کے موقع پر بھی دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف تندوتیز بیانات کا تبادلہ ہوایے.خصوصا جب پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت مظالم , لائن آف کنٹرول پر بھارتی سکیورٹی فورسسز کی بلا اشتعال فائرنگ اور بھارت کو جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی "ماں” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کو آگاہ کیا تو مودی حکومت ایسی سیخ پا ہوئی کہ جیسے اس کی دم پر کسی نے پیر رکھ دیا ہو.اس کے جواب میں بھارتی وزیرخارجہ نے پاکستان کو دہشتگردی کا کارخانہ قرار دے کر دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی.سشما سوراج نے کہا کہ بھارت نے دانشور، ڈاکٹر، انجینیئرز پیدا کئے جبکہ پاکستان نے دہشت گرد پیدا کیے .پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے جس پر بھارت جبری قابض ہو کر ڈھٹائی کا نمونہ بنا ہوا ہے.جبری قبضے کے اس معاملے کو جب بھی پاکستان کسی بین الاقوامی فورم پر اٹھاتا ہے بھارت بے بنیاد الزام تراشی پر اتر آتا ہے.جبکہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ الزام تراشی نہیں سو فیصد حقیقت ہے.مثلا کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ بھارت نے مقبوضہ وادی میں کشمیری مجاہدین خلاف فضائی حملوں کی اجازت دے دی ہے.یا یہ کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے لیے مودی حکومت ہر حربہ آزما رہی ہے. مجاہدین کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کی اجازت کی خبروں سے بھارتی اخبارات بھرے پڑے ہیں.بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ وادی کشمیر میں مجاہدین کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیلئے دہلی کے پرائم منسٹر آفس میں اجلاس ہوا جس میں بھارتی افواج کے تینوں سربراہان، وزیر داخلہ اور سینئر مرکزی وزیر سمیت اعلی انٹیلی جنس حکام نے شرکت کی۔ رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں آپریشن جیٹ کو جاری رکھنے کیلیے وزیراعظم کی جانب سے مکمل تائید حاصل ہے جبکہ کشمیر میں مجاہدین کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں بھارتی ایئرفورس کو اسرائیلی ماہرین کی سپورٹ حاصل ہے۔ اس طرح ایشیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہونے کے دعویدار بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں عوام کو کچلنے کیلئے ایک بڑا منصوبہ تیار کررکھا ہے. بھارت کے صدر پرنب مکھرجی نے مقبوضہ کشمیر میں فضائی حملوں کی منظوری دینے کے بعد حکم نامہ جاری کردیا ہے کہ اِن مجاہدین کو فضائی حملوں کے ذریعے مارا جائے جبکہ بی ایس ایف، پولیس اور فوج کو خصوصی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان مجاہدین کو دہشت گرد قرار دیکر میڈیا کے سامنے ان کی لاشیں پیش کی جائیں.اس فیصلے اور حکم نامے کے بعد گرفتار ہونے والے ہر کشمیری شہری کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ بنا کر پیش کرنے کی نئی بھارتی سازش شروع ہے۔کشمیر کی خصوصی حیثیت کا جہاں تک ایشو ہے یہ بھی پاکستان کی طرف سے الزام تراشی نہیں بلکہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ 2014کے اپنے انتخابی وعدے کے مطابق مودی سرکار بھارتی آئین سے کشمیر سے متعلقہ آرٹیکلز میں ترمیم کے در پے.اس وقت بھارتی سپریم کورٹ میں دو درخواستیں زیر سماعت ہیں جن میں سے ایک دفعہ 370 کے خاتمے اور دوسری ایکٹ 35A کے خلاف ہے۔370 کی وجہ سے جموں کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ حاصل ہے۔جبکہ آرٹیکل 35 اے کے مطابق کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری ہو سکتا ہے اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہو۔ کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا اور نہ ہی یہاں کا مستقل شہری بن سکتا ہے .ماہرین کے مطابق یہی آرٹیکل جموں و کشمیر کے لوگوں کو مستقل شہریت کی ضمانت دیتا ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ یہ آرٹیکل تب بھی تھا جب جموں و کشمیر مہاراجہ کے تابع تھا۔ اس وقت بھی یہاں کوئی باہر کا شہری زمین نہیں خرید سکتا تھا۔اس خصوصی سٹیٹس کو مٹانے کے لیے آر ایس ایس کے ایک تھنک ٹینک جموں کشمیر سٹڈی سینٹر نے سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کر رکھا ہے۔ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ آرٹیکل 370 پہلے ہی کمزور کردیا گیا ہے اب اس میں اگر کچھ بچا ہے تو صرف آرٹیکل 35A ہے ۔لہذا مقبوضہ وادی کے باسیوں کو خطرہ ہے کہ اگر آرٹیکل 35 اے بھی ہٹا دیا گیا تو بھارت کی دوسری ریاستوں سے آ کر لوگ یہاں جائیداد خریدیں گے اور مسلمان یہاں اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔یہی مودی کا پلان ہے کہ بھارت سے بڑی تعداد میں ہندو اور دیگر بھارتی یہاں آباد کیے جائیں۔مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کی تجویز سابقہ اسرائیلی وزیر اعظم شمعون پیریز نے اپنے ایک دورے کے دوران بھارتی حکومت کو دی تھی جس کے تناظر میں کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش جارہی ہے.بھارتی حکومت اس وقت بھی کشمیرمیں مغربی پاکستان سے ہجرت کرنیو الے سکھوں اور ہندوں کی کشمیر میں آبادکاری کے بعد پنڈت کالونیوں، سینک کالونیوں کے قیام, ریٹائرڈ بھارتی فوجیوں کی کشمیر میں آباد کاری اور بھارتی ہندو طلبا کو کشمیر میں مستقل رہائش کی اجازت دینے کے فارمولے پر تیزی سے کام کر رہا ہے.بھارت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کشمیر میں زمینی جنگ کے ساتھ ساتھ قانونی جنگ کے محاذوں پر بھی سرگرم ہے۔ اگر بھارت کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370اور آرٹیکل 35-Aمیں ترمیم کرانے میں کامیاب ہو گیا تو کشمیری اپنی شناخت کے بحران سے دوچار ہو جائیں گے.یہ بات کشمیریوں کو کسی صورت وارے نہیں ہو سکتی کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی نسلوں کو بھارتی تسلط کے حوالے کردیں. یہی وجہ ہے اقوام متحدہ کے حالیہ خصوصی اجلاسوں کے موقع پر کشمیریوں نے بھارتی ہتھکنڈوں اور مظالم کے خلاف آواز بلند کی۔ادھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ بھی بھارتی رویے سے مایوس ہے۔ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا نے ایک بیان میں کہا ہے ممبر ممالک نے 250 سفارشات تیار کی تھیں۔ان سفارشات میں سے ماورائے عدالت قتل آرمڈفورسز سپیشل پاور ایکٹ کی واپسی،اظہار رائے کی آزادی،پرامن احتجاج سے متعلق کوئی بھی سفارش بھارت قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق بھارت میں پولیس حراست کے دوران قتل،حکمران جماعت بے جے پی کی اتحادی انتہاپسند تنظیموں کی طرف سے اقلیتوں پر حملوں کے واقعات ہو رہے ہیں۔اقلیتی برادری بالخصوص مسلمانوں اور دلتوں پر ہونے والے حملے شدید خطرے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔2017کے پہلے سات ماہ کے دوران گائے کا گوشت کھانے کی اطلاع پر انتہاپسندوں نے 26 حملے کیے جن میں سات اقلیتی ارکان کو قتل کر دیا گیا۔اس میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا ہے کہ مودی سرکار میں اقلیت سے تعلق رکھنے والے خصوصا دلت کمیونٹی کے کسی انسان کے مقابلے میں گائے کی حرمت زیادہ ہے۔دلت کمیونٹی بھارت میں سب سے زیادہ پسماندہ پسی ہوئی اور مجبور کمیونٹی ہے.ایک دلت کی حیاتی کا بیشتر حصہ گٹر صاف کرتے گزر جاتی ہے یا وہی گٹر ان کی قبر بن جاتے ہیں.ایک غیر سرکاری بھارتی ادارے ‘پریکسس’ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دہلی میں سیوریج صاف کرنے والے تقریبا 100 خاکروب ہر برس ہلاک ہو جاتے ہیں۔جبکہ رواں برس جولائی اور اگست کے محض 35 دنوں میں 10 خاکروب ہلاک ہوئے۔اس پر کسی دلت نے خوب گرہ باندھی ہے کہ اگر ایک مہینے میں دہلی میں 10 گائیں مر جائیں تو ہنگامہ مچ جائے گا اور لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے مگر اسی شہر میں ایک ماہ میں 10 خاکروب ہلاک ہوئے لیکن کہیں سے ایک آواز تک نہ اٹھی۔اب کوئی سشماسوراج صاحبہ سے جو یہ دعوی کرتی ہے کہ بھارت نے دانشور، ڈاکٹر،اور انجینئرز پیدا کئے جبکہ پاکستان نے دہشت گرد پیدا,پوچھے کہ ان انجینئرز کا اچار ڈالنا ہے جو بند گٹر کھولنے کا حل نہیں دے پار رہے اور ہر ماہ دو ماہ بعد درجن بھر دلت ان ہی انجینئرز ڈاکٹرز اور دانشوروں کی پیدا کردہ گندگی کی صفائی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔کیا اسی کا نام خوشحالی اور ترقی ہے۔
*****