- الإعلانات -

امریکہ اور برطانیہ سے تجارتی روابط

اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر نیویارک میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاک امریکہ دو طرفہ تجارت کے فروغ کیلئے مختلف اقتصادی وفود سے ملاقاتیں بھی کیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سی پیک نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع پیدا کئے۔ مغربی ممالک سے سرمایہ کاری کے اضافی ذرائع کے خواہاں ہیں۔ حکومت سرکاری اور نجی شعبے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔سیاسی استحکام کے باعث عالمی تجارتی برادری کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوا۔امریکی نائب صدر مائیک پنس سے وفود کے ہمراہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جو بات چیت ہوئی وہ مقررہ وقت سے15منٹ زیادہ جاری رہی۔ اس ملاقات میں امریکی نائب صدر نے امن اور سلامتی کے شعبوں میں پاکستان سے طویل مدتی شراکت داری کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کیلئے نئی راہیں تلاش کرنے کا جو عندیہ دیا وہ باہمی سرد مہری کے خاتمے کا بھی اشارہ ہے۔ وزیر اعظم سے نیویارک میں ورلڈ اکنامک فورم کے ایگزیکٹو چیئرمین کلاؤس شواب نے ملاقات میں کہا کہ پاکستان کی حالیہ معاشی ترقی سے متاثر ہوں۔ چیئرمین عالمی اقتصادی فورم نے وزیر اعظم کو فورم میں شرکت کی دعوت دی۔ دونوں رہنماؤں نے رابطے برقرار رکھنے اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ امریکہ پاکستان کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اس وقت دوطرفہ تجارت کا حجم پانچ ارب 30 کروڑ ڈالر ہے۔ گزشتہ 10 سالوں کے دوران دوطرفہ تجارت کا حجم دوگنا ہو چکا ہے۔پاکستانی مصنوعات کی امریکی منڈیوں تک رسائی ایک خوش آئندہ اقدام ہے اور اس میں اضافہ ممکن ہے۔امریکی وفد نے بتایا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بہت سے شعبوں میں شراکت داری ہے لیکن تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں کو دوطرفہ تعلقات میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ 16 سال کے دوران دوطرفہ تجارت میں 247 فیصد اضافہ ہوا ہے۔امریکہ کو اس بات پر فخر ہے کہ اس تجارت سے ہزاروں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے وسائل دستیاب ہوئے اور پاکستانی اس حقیقت سے آگاہ ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس بارے میں مزید اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ امریکہ پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ امریکہ عالمی سپر پاور ہے جس کے ساتھ پاکستان مختلف میدانوں میں سمجھوتوں کے ذریعے بندھا ہوا ہے جبکہ واشنگٹن کیلئے بھی یہ بات آسان نہیں کہ وہ اسٹرٹیجک محل وقوع کے حامل پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں زیادہ عرصے تک سرد مہری برقرار رکھ سکے۔ برطانیہ میں قیام کے دوران وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے برطانوی اقتصادی وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مختلف شعبوں میں مضبوط اور تاریخی شراکت داری قائم ہے جو آنے والے سالوں میں مزید مضبوط ہو گی۔ پاکستان برطانوی حکومت کی جانب سے مختلف ترقیاتی اقدامات میں معاونت کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ برطانوی وفود نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دو طرفہ تجارتی انتظامات مستقبل میں مزید فروغ پائیں گے۔ برطانوی وفود پاکستان کا دورہ کرینگے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے سے متعلق امور پر بات چیت کرینگے۔ اس وقت بر طانیہ پوری یونین کی تجارتی ترجیحی سکیم جی ایس پی پلس کے ذریعے پاکستان کے ساتھ تعا ون کررہا ہے اور اس تعاون او ربر طانیہ کی حما یت سے پاکستان میں پائیدار تر قی اور اقتصادی نمو حو صلہ افزا ہے۔ اس سے برطانیہ میں صارفین کو کاروبار کرنے میں بھی مد د ملتی ہے۔ چونکہ برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہو رہا ہے۔ ہمیں تجارتی انتظامات کو تیز ی سے عبوری کئے جانے کو فوری طو رپر یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ برطانیہ کا پختہ ارادہ ہے کہ ان ترجیحات کو دو طرفہ بنیادوں پر بر قرار رکھا جائے اور بر طانو ی مارکیٹوں تک فر اخ دلی سے رسائی دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ چونکہ برطانیہ ابھی تک یورپی یونین کا رکن ہے اس لیے برطانیہ یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سکیم سے پاکستان کے استفادہ کرنے کے عمل کو جاری رکھے گا جبکہ اس کے بدلے میں پاکستان کو انسانی حقو ق ، مز دوروں کے حقوق او رما حول کو بہتر بنانا ہو گااور پاکستان کو جی ایس پی پلس سکیم کے حصہ کے طورپر کئے گئے وعدوں اورعز م کے تحت گڈ گورننس میں بھی بہتری لانا ہو گی۔ برطانیہ تجارتی رکاوٹیں دورکرنے اور غربت میں کمی لانے اور ملازمتوں کے موقع پید ا کرنے میں پاکستان کی مددکرے گا۔ دونوں حکومتیں پاکستان میں برطانوی تجارت اور سرمایہ کاری میں مز ید اضافہ دیکھنا چاہتی ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی کاروباری ادارے برآمدات اور برطانیہ میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکسٹائلز سے لے کر ادویات سازی تک ، انجینئرنگ کھیلوں کے سامان،لیگل اور بزنس سر وسز جیسے شعبہ جات کی عالمی اقتصادیات میں وسیع امکانا ت پائے جاتے ہیں۔ ہم نے ان تعلقات کو مستقبل میں دونوں ممالک کے مابین مز ید مضبوط بنانے کے لیے کام کرنے کاعزم کر رکھا ہے۔پاکستان کا کہنا ہے کہ جی ایس پی پلس مراعات جاری رکھنے کے لیے قانونی تقاضے پورے کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ان افواہوں کی بھی تردید کی گئی کہ سزائے موت پر پابندی جی ایس پی پلس کی شرائط میں شامل ہے۔ جی ایس پی پلس کے تحت اقوام متحدہ کے ستائیس کنونشنز میں سے زیادہ تر پر عمل درآمد کی آئینی ذمہ داری صوبوں پر عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا وفاق صوبوں کو انسانی حقوق کے ان کنونشنز پر عملدرآمد کی حساسیت سے آگاہ کر رہا ہے۔ بقول وزیر تجارت کہ جی ایس پی پلس کے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو یورپی یونین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
*****