- الإعلانات -

امریکا کو پاکستان کے تعاؤن کی اشد ضرورت ۔۔۔!(2)

گزشتہ سے پیوستہ
اکثر وبیشتراپنے ایسے جلد بازی کے فیصلوں میں ہمیشہ تاریخی غلطی ضرور کربیٹھتے ہیں جیسا کہ وہ اب یہ سمجھ رہے ہیں کہ بھارت کی بہ نسبت پاکستان میں ‘ملٹری اورسویلین’فاصلے اب کبھی کم نہیں ہونگے؟بلکہ مزید بڑھیں گے؟ یہی اْن کی سب سے بڑی بھول ہے اِسی بھول میں امریکی غلطیوں پرغلطیاں کرنے کی راہ پرچل پڑے ہیں ذرااندازہ تولگائیے کہ صدرٹرمپ نے جس روزسے پاکستان پر لعن وطعن اوردشنام تراشی کی جسارت کی ہے اِس کے جواب میں پاکستانی حکومتی ردِعمل میں کتنا تحمل پایا گیا اورکتنی متانت دکھائی گئی یہ پاکستانی قوم کی اعلیٰ ظرفی ہے، جبکہ صدرٹرمپ نے پاکستان کولالچ کابپتمسہ دیتے ہوئے بلیک میلنگ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا، مانتے ہیں آجکل پاکستان کے اندر’سیاسی سراسیمگی’کا ایک منظر ضرورہے، ایک جمہوری معاشرے میں ایسا ہونا کوئی تعجب اوراچھنبے کی بات نہیں’اعلیٰ عدلیہ و ملکی جمہوری ادارے اپنا اپنا کام کررہے ہیں چند روزبعد سیاست مضبوط ومستحکم پائیدانوں پریقیناًاستوار ہوجائے گی لیکن جیسا امریکی سوچ رہے ہیں ویسا کبھی نہیں ہوگا پاکستان میں آئین اورقانون کی بالادستی ہرصورت میں پختہ سے پختہ تر ہوگی اور یہ ہے وہ خاص نکتہ جوچند بکاؤقسم کے’چند قلمکاراوراینکرپرسنزیا تو سمجھ نہیں رہے یا جان بوجھ کراْنہوں نے اپنے مذموم اہداف خود ہی قائم کررکھے ہیں’ہمہ وقت پاکستانی فوج پرتنقید و تنقیص کے نشتربرسانے والوں کے لئے یہ اطلاع اگر ‘خبر’ ہے، تو پھر یہ توبڑی بے خبری کا افسوس ناک مقام ہے اْنہیں سیاسی تبصرے اورتجزئیے جیسے حساس امورکوتج کرکے کوئی اورپیشہ اختیار کرلینا چاہیئے ،جو آج تک یہ نہ جان سکے کہ ‘پاکستان حقیقی طور پرتبدیل ہوچکا ہے،’ ہاں شورشرابا نہیں ہوا سب کچھ خاموشی سے پورے وقار کے ساتھ وقوع پذیر ہورہا ہے پاکستان کی اِس حقیقی تبدیلی میں پاکستانی فوج کا ایک کلیدی کردار ہے’جسے’’ رائل یونائیٹڈ اسٹیڈیز انسٹی ٹیوٹ آف لندن ‘‘نے اپنی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں تسلیم کرکے پاکستان اورپاکستانی فوج کوشاندار خراجِ تحسین پیش کیا ہے ‘کامیاب آپریشن ضربِ عضب’نے دنیا کے مانے ہوئے عسکری ماہرین کوانگشت بدنداں کردیا وہ تاحال حیرت اوراستعجاب کے عالم میں غرق یہ سمجھنے میں منہمک ہیں کہ ایک ایسے ملک(پاکستان) کی فوج نے جس کے وسائل بہت ہی محدود’ جس ملک کی فوج کے پاس عالمی خطرناک دہشت گردوں سے مقابلہ کرنے کے لئے جن مہلک ہتھیاروں کی ضرورت ہونی چاہیئے تھی‘ وہ ہتھیار اورآلات اْن کے پاس نہیں‘ پھر بھی وہ ایسے کٹھن اور دشوار گزارعلاقوں میں’دشوارگزارپہاڑی دروں میں قائم دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں تک کیسے جا پہنچے نہ اْنہوں نے فضائی حملوں کا سہارہ لیا زمینی راستوں سے پیدل ہی اپنے کندھوں پربھاری بھرکم مشین گنیں اْٹھائے پاکستان کے اِن فوجی جوانوں اورافسروں نے اپنی قیمتی جانوں کی پرواہ بھی نہیں کی’پاکستانی فوج کے جوانوں نے دہشت گردوں کی بچھائی بارودی سرنگوں کوبھی صاف کیا غیرملکی ممتاز ریٹائرڈ عسکری افسران کہتے ہیں کہ کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ اِن پاکستانی فوجیوں کے ساتھ کوئی ‘ان دیکھی طاقت’بھی اِن کا ساتھ دے رہی تھی؟ کیونکہ پاکستانی فوج نے’آپریشن ضربِ عضب’کو کامیابی سے ہم کنار کرکے ثابت کردیا ہے کہ پاکستانی فوج نے بہادری اوردلیری کا وہ عظیم الشان عسکری تاریخی کارنامہ کردکھایا جو 200 سال میں برطانیہ کی فوج نہ دکھا سکی’جس میں بہت بری طرح سے وہ ناکام رہی’یہ وہ مکالمہ تھا ،جوبرطانیہ کے فیلڈ آرمی کے کمانڈر لیفٹنیٹ جنرل پیٹرک سینڈرز نے رواں برس مئی میں ہونے والی ایک ملاقات میں بیان کیا تھا’کیا یہ مقام پاکستانی قوم اورپاکستانی افواج کے لئے باعثِ فخر نہیں ہے کہ دنیا کی اولین اورسرفہرست عسکری اکیڈمی’رائل فوڈ اکیڈمی سنڈھرسٹ’ میں دنیا بھر سے آئے ہوئے کیڈٹس نے اْن کے ممتازعالمی شہرتِ یافتہ عسکری اساتذہ نے جن میں سے ایک برطانیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سرنکولاس کارٹر’ جو کسی وقت نوجوان پاکستانی کیڈٹ بعد میں پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے استاد رہ چکے ہیں، اِن سبھی نے خواہش ظاہر کی ہے کہ برطانیہ سمیت جرمن اور چیک فوجی کیڈٹس کی تربیت کے لئے پاکستانی اعلیٰ فوجی افسران کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ وہ بھی اپنی عملی پیشہ ورانہ مہارتوں سے عسکری میدانوں میں ویسی ہی بے مثال تاریخی خدمات انجام دے سکیں جیسے کہ پاکستانی فوج کے افسراورجوان خدمات انجام دے رہے ہیں’ اب جو طبقات یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا والا’اے’اپنی اہمیت بڑی حد تک کھوچکا ہے وہ غلط نہیں بالکل صحیح سوچ رہے ہیں’ بقول پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ’امریکا نے پاکستان میں اپنی پان کی جو دکان گزشتہ70 سالوں سے کھول رکھی ہے وہ اسلام آباد سے اپنا مکمل ‘پاندان’اْٹھاکر واپسی کی راہ لے’ افغانستان میں مستقل امن قائم کرنا افغان عوام کا اورخطہ کا اپنا مسئلہ ہے’ جس میں افغانستان کا پڑوسی ملک ایشیا کا ایک اورعظیم سپرپاور روس اب اپنی انگیز کھیلنے کے لئے نئی انگڑائی لے چکا ہے’ہرصورت میں اب ایشیا کا ایک اور سپرپاور ملک چین کے ساتھ روس کوبھی ایشیا کو محفوظ اور پُرامن بنانے کے لئے اب اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،علاقائی ایٹمی طاقتوں کا یہ ملاپ فطری ناگزیریت کی مثال رکھتا ہے ،جس سے کسی حال میں بھی مفرممکن نہیں‘ افغانستان میں امریکی اورنیٹوافواج کی عبرت ناک ناکامیوں سے اب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ امریکا افغانستان میں مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ وہ خود ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے’یادرہے کہ ‘جزوی فتح’ بھی امریکا کا مقدر اب کبھی نہیں بن سکتی’آج قدرت نے امریکا کو کس مقام پر لاکھڑا کردیا ہے وہ پاکستان سے کہتا ہے ‘ڈومور؟’ جبکہ آج پاکستان دنیا سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرببانگِ دہل کہہ رہا ہے’اب دنیا ڈومور’کرے’بقول (آریوایس آئی) کہیں وہ یہ تو نہیں کہنا چاہ رہے ہیں کہ کل کلاں کوامریکا پر ایسی بھی کوئی افتاد بھی آسکتی ہے کہ وہ(امریکا) پاکستان سے درخواست کربیٹھے کہ امریکا کے مالی تحفظ کے لئے امریکا کو پاکستان کے تعاؤن کی اشدضرورت ہے مگر‘اُس وقت خطہ کے حالات کیا ہوں گے یہ بہت ہی قبل از بات ہے ۔(ختم شد)
*****