- الإعلانات -

بنگلہ دیش میں پھانسیوں پر پاکستان مصلحت کا شکار کیوں؟

riaz-ahmed

وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما علی حسن مجاہد اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے صلاح الدین قادر کو پھانسی دیئے جانے پر شدید ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام تلخیاں بھلا کر تعلقات آگے بڑھانا چاہتے ہیں لیکن بنگلہ دیش میں ایک گروہ بھائی چارے کی فضاکوبحال ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔
چودھری نثارکا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں انسانوں کا قتل عام ہو رہا ہے انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے اس قتل عام پر خاموش ہیں۔ میں انتہائی رنجیدہ ہوں کہ ہم ان لوگوں کیلئے کچھ نہ کر سکے جن کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے آج سے 45 سال پہلے اپنے وطن پاکستان سے وفاداری نبھائی اور اس وقت کی ایک آئینی اور قانونی حکومت کا ساتھ دیا۔ انسانیت کے قتل اور پاکستانیت سے انتقام کی آگ کو اب ٹھنڈا ہونا چاہیے۔ حاسدین جو بھی کہہ لیں پاکستانی اور بنگلہ دیشی عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ دونوں برادر ممالک کو قریب سے قریب تر دیکھنا چاہتے ہیں۔
دفتر خارجہ پاکستان نے بنگلہ دیش میں معمر بنگالی سیاسی رہنماﺅں کو پھانسی دیئے جانے پر شدید دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بنگلہ دیش سے ماضی کو بھول کر آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشنر نے گزشتہ روز ان پھانسیوں پر بنگلہ دیش حکومت کو پاکستان کا احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنماﺅں کو دی جانے والی پھانسیوں کی سیاسی رہنماﺅں نے شدید مذمت کی ہے اور اسے سیاسی انتقام اور حکومتی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔ سینٹ میں قائد ایوان راجہ محمد ظفرالحق نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں سیاسی انتقام جس انداز لیا جا رہا ہے کہ ایک کھلی حکومتی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ اس دہشت گردی کے خلاف عالمی طاقتوں کو بھرپور مزاحمت کرنی چاہئے۔ یہ قتل کی واردات سنگین خونریزی کے واقعات کا جواز بن سکتی ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ آج پاکستان کے عوام کیلئے یوم سیاہ ہے، بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے قائدین نے امام حسینؓ کی یاد تازہ کردی ہے ۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ صلاح الدین قادر چودھری اور علی احسن مجاہد کا واحد جرم پاکستان سے محبت ہے جس کی انہیں اتنی بڑی سزا دی گئی۔ امیر جماعتہ الدعوہ حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے قائدین کو پھانسیوں سے ایک بار پھر نظریہ پاکستان زندہ ہورہا ہے۔ پھانسیاں اور قیدوبند کی صعوبتیں حق کی آواز نہیں دبا سکتیں۔
بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت کی جانب سے 71ءکی جنگ میں پاکستان توڑنے پر منتج ہونیوالی تحریک مکتی باہنی کی مزاحمت کرنیوالے اس وقت کے پاکستانی بنگالی سیاسی قائدین اور کارکنوں‘ جن میں اکثریت جماعت اسلامی کی ہے‘ کیخلاف 45 سال قبل کے اس واقعہ کی بنیاد پر غداری کے مقدمات چلانے اور ان مقدمات میں سزائے موت دینے کا سلسلہ گزشتہ سال سے شروع ہے جو بنگلہ دیش کی 45ویں سالگرہ کا جشن مناتے ہوئے حسینہ واجد کی حکومت نے شروع کیا تھا۔ چنانچہ بنگلہ دیش کے دو بزرگ اپوزیشن رہنماﺅں علی حسن مجاہد سیکرٹری جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور صلاح الدین قادر قائد نیشنل پارٹی بنگلہ دیش کو گزشتہ روز تختہ دار پر چڑھائے جانے تک بنگلہ دیش میں اب تک پاکستان کے ساتھ وفاداری نبھانے کے جرم میں چار اپوزیشن لیڈر تختہ دار پر چڑھ چکے ہیں جبکہ مطیع الرحمان نظامی کو بھی بنگلہ دیشی ٹربیونل کی جانب سے سزائے موت مل چکی ہے اور انکی اپیل سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ گزشتہ سال جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل عبدالقادر ملا اور محمد قمرالزمان کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ اسکے علاوہ جماعت اسلامی کے پروفیسر غلام اعظم اور ابوالاکلام محمد یوسف کا ٹرائل کے دوران جیل ہی میں انتقال ہو گیا جبکہ اس وقت جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے عہدیداران میرقاسم علی‘ مولانا عبدالسبحان اور اظہار الاسلام سمیت 30 ہزار کے قریب اپوزیشن کے سیاست دان اور کارکن پاکستان کیساتھ وفاداری کے جرم میں جیلوں میں پڑے اپنے خلاف مقدمات بھگت رہے ہیں۔
گزشتہ ایک سال سے بنگلہ دیش میں ایک ایسے جرم میں حکومت کے مخالفین کی گرفتاریوں اور انہیں موت کی سزائیں دینے کا سلسلہ جاری ہے جو وقوعہ کے وقت جرم میں شمار ہی نہیں ہوتا تھا۔ شیخ مجیب الرحمان نے بھارتی سازشوں اور اسکی سرپرستی میں ہونیوالے سقوط ڈھاکہ کے بعد اگرچہ ”بنگوبندھو“ کا خطاب پا کر بنگلہ دیش میں چھ سال تک عوامی لیگ کی حکومت قائم کئے رکھی اور پھر فوجی انقلاب میں اپنے پورے خاندان سمیت ماسوائے حسینہ واجد کے‘ اس جہانِ فانی سے اٹھ کر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئے تاہم بھارتی سازشوں سے بنگلہ دیش کے قیام کی نوبت نہ آتی تو شیخ مجیب الرحمان اور انکے ساتھی بھی غداری کے مجرم ہی ٹھہرتے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین ایک معاہدہ کے تحت سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان کی سلامتی کیلئے مکتی باہنی کیخلاف جنگ لڑنے والے اس وقت کے بنگلہ دیشی پاکستانیوں کیخلاف بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے درج کردیئے گئے غداری کے مقدمات ختم کرنے پر شیخ مجیب الرحمان کی جانب سے رضامندی کا اظہار کیا ۔ یہ مقدمات 45 سال تک سرد خانے میں پڑے رہے اور اس دوران بنگلہ دیش میں حکومتوں کی تبدیلی کا سلسلہ جاری رہا۔ شیخ مجیب کے قتل کے بعد جنرل ضیاء الرحمان اقتدار میں آئے اور انکے جاں بحق ہونے کے بعد انکی بیوی خالدہ ضیاء اقتدار کی مسند پر فائز ہوئیں جبکہ جمہوریت کے عمل میں بنگلہ دیش میں انتخابات کے ذریعے بھی حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں چنانچہ خالدہ ضیاءکی طرح حسینہ واجد بھی اقتدار میںآئیں اور اپوزیشن لیڈر بھی بنیں مگر اب اقتدار میں آکر انہوں نے بنگلہ دیش میں پاکستانیت کو ختم کرنے کیلئے وہ کھیل کھیلنا شروع کردیا ہے جو پاکستان کی سالمیت کے درپے بھارت کا مطمع نظر ہے۔
غداری کے مقدمات کا جو معاملہ حسینہ واجد اب گڑھے مردے کی طرح اکھاڑ کر زندہ کررہی ہیں تو یقیناً اسکے پس پردہ محرکات میں بھارتی ہاتھ ہی کارفرما ہے کیونکہ بھارت بنگلہ دیش کو عملاً اپنی کالونی بنا چکا ہے اور حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کی خودمختاری بھارت سرکار کے پاس گروی رکھ دی ہے۔
حد تو یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے جو باشندے حسینہ واجد کی حکومت کے ہاتھوں اپنی پاکستانیت کی سزا بھگت رہے ہیں‘ ان کیلئے پاکستان کی جانب سے بھی حکومت کی سطح پر کسی عالمی فورم پر کوئی آواز نہ اٹھائی گئی۔ اگر پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش میں 45 سال قبل کے مقدمات کے ٹرائل شروع ہوتے ہی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو جاتا اور حکومت اقوام متحدہ‘ او آئی سی‘ سارک تنظیم اور دوسرے عالمی و علاقائی تعاون کے اداروں سے رجوع کرلیتی تو شاید بنگلہ دیش حکومت پر عالمی دباﺅ پڑنے سے وہاں اپوزیشن لیڈروں کو تختہ دار تک لے جانے کی نوبت ہی نہ آتی۔
حکومت پاکستان نہ جانے کس مصلحت کا شکار رہی مگر اسکی خاموشی اور کمزوری نے بھارت کے اشارے پر ناچنے والی حسینہ واجد کی حکومت کے حوصلے مزید بلند کر دیئے جس نے بنگلہ دیش کے قومی ہیروز کے نام پر ایوارڈ ینے کی تقریب میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بلایا اور انہوں نے اس فورم پر فخریہ اعلان کیا کہ وہ مکتی باہنی کی پاکستان توڑنے کی تحریک میں عملاً حصہ لے چکے ہیں۔ انکے اس بیان کے بعد تو اس بارے میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہی تھی کہ مکتی باہنی کی تحریک درحقیقت بھارت کی پاکستان توڑنے کی تحریک تھی۔
اب وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خاں نے بزرگ بنگلہ دیشیوں کیخلاف ہونیوالی کارروائی پر اپنے دل کا دکھڑا رویا ہے تو انکے محض ذاتی ہمدردی کے اظہار سے تو بنگلہ دیش حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑیگا۔ ابھی 30 ہزار کے قریب بنگلہ دیشی اپنے خلاف غداری کے مقدمات میں ٹرائل کے مراحل سے گزر رہے ہیں اس لئے چودھری نثار علی خاں کو اپنے ذاتی جذبات قومی خارجہ پالیسی میں شامل کرانے کی کاوش کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ معاملہ کابینہ میں لانے کا عندیہ دیا ہے تو وہ بنگلہ دیش کیساتھ خارجہ پالیسی کی سمت درست کرانے کیلئے پارلیمنٹ میں قرارداد بھی لائیں اور وزیراعظم نوازشریف کو بھی پاکستانیت کی سزا بھگتنے والے بزرگ بنگلہ دیشیوں کیساتھ یکجہتی کے اظہار کیلئے جھنجوڑیں۔