- الإعلانات -

نائن الیون کی فنڈنگ اعتراف

syed-rasool-tagovi

اگلے دن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کوالالمپور میں ایشیا پیسفک سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے بین الاقوامی دہشت گردی سے مقابلے کیلئے نئے عالمی عزم کے ساتھ نئی حکمت عملی بنانے پر زور دیا۔انہوں نے فرمایا کہ” کسی بھی سیاسی نظریئے، پیسے اور ہتھیاروں سے جنگجو تنظیموں کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا جاسکتا“۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف نئی حکمت عملی کا سنہری مشورہ کون دے رہا ہے۔جناب نریندر مودی، جنہیں گجرات کے مسلمانوں کے قتل عام پر قاتل اعلیٰ کا لقب ملا،جن پر امریکہ جانے پر پابندی تھی،گوگل نے جسے دنیا کی ناپسندیدہ شخصیت ڈکلیئر کیا،بھارتی میڈیا جنہیں منحوس قرار دے رہا ہے۔برطانیہ میں جسے گو مودی گو کے نعروں کا سامنا کرنا پڑا۔جس کے طرز حکمرانی کے خلاف ادیب، شعرا،فلمساز ،سائنسدان،سابق فوجی،اورکئی نامور دانشور اعلیٰ اعزازات اور ایوارڈ احتجاجاً واپس کررہے ہیں۔جس کی حکومت میں پچاس فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے، دو کروڑ سے زائد ایسے افراد موجود ہیں جو پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے حشرات کھانے پر مجبور ہیں،65فیصد شہریوں کو باتھ روم کی سہولت میسر نہیں۔ جہاں خوراک اور بنیادی ضروریات کے حصول کےلئے دنیا بھر میں سب سے زیادہ خواتین جسم فروشی جیسا مکروہ دھندہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں،جہاں کے 22صوبے مرکزی حکومت سے آزادی کا مطالبہ کرچکے ہیں،50سے زائد علیحدگی پسند تحریکیں متحرک ہیں۔جس کے زیر قبضہ کشمیر میں لاکھوں کشمیر ی خون میں نہلائے جا چکے ہیں۔جہاں ریاستی دہشت گردی پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں چیخ رہی ہیں۔جس کی اپنی خفیہ ایجنسی سی بی آئی کے اعلیٰ افسر اور نئی دلی کے سابق پولیس کمشنر انکشاف کر رہے ہیں کہ9/11 دھماکوں کے لئے فنڈنگ بھارت سے ہوئی تھی۔حیرت ہے وہ دنیا کو دہشت گردی سے نمٹنے کے مشورے دے رہا ہے۔
بھارت ہی کے ایک اہم اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نئی دلی کے سابق سی بی آئی افسر نراج کمار نے انکشاف کیا ہے کہ 9/11 دھماکوں کے لئے فنڈنگ اغوا برائے تاوان کے ذریعے کی گئی اور عمر شیخ نے یہ رقم حملہ آور عطا محمد کو فراہم کی۔عمر شیخ کو یہ رقم دہشت گرد آفتاب انصاری نے فراہم کی تھی جو کلکتہ میں واقعہ امریکن سنٹر پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ آفتاب انصاری امریکن سنٹر پر حملے کے الزام میں اس وقت مغربی بنگال کی جیل میں قید اور سزائے موت کا منتظر ہے۔نراج کمار کا مزید کہنا تھا کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے لئے عطا محمد کو پیسوں کی فراہمی کی تصدیق ایف بی آئی کے کاونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جان ایس پسٹول نے بھی امریکی سینیٹ کی دہشت گردوں کی معاونت کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کے سامنے 2003ءمیں تصدیق کی تھی“۔ مگر اسکے جواب میں حملہ افغانستان پر کر دیا گیا،ساتھ صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹا کر انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا ۔افغانستان کو القائدہ کی خاطر تاراج کیا گیا تو صدام کو تباہ کن ہتھیاروں کے شبہ میں لٹکایا گیا۔
دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر امریکی نیٹو افواج نے 12 سال میںافغانستان دھرتی کو مٹی کے ڈھیر میں بدل دیا۔ ساتھ پاکستان کو بھی دہشت گردی کی جنگ کی لپیٹ میں لا کرایک لمبی آگ میں جھونک دیا۔بھارت کا ایک عہددار اقرار کررہا ہے کہ نائن الیون کے حملوں کے لئے فنڈنگ بھارت سے ہوئی تھی مگر ڈومور کے مطالبے پاکستان سے۔اس دورنگی کا کیا کیاجائے۔ پیرس حملوں کے بعد بھی بھارت کی کوشش ہے کہ اسے پاکستان سے جوڑ دیا جائے۔کیا دنیا صرف مکروفریب پر یقین رکھتی ہے ۔نائن الیون کے وقت اگر سچ پر مبنی کارروائیوں کا آغازہوتا تو آج امن کا راج ہوتا۔ہرآنے والی گھڑی تصادم کے خطرات نہ ہوتے۔یور پ ،مغرب،عرب ممالک ،جنوبی ایشیا کہاں کہا ں تصادم کے بادل نہیں منڈلا رہے، خصوصاً جنوبی ایشیا میںتو پہلے ہی چنگاریاں دہک رہی ہیں۔ مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس کے امکانات بہت بڑھ چکے ہیں۔حالیہ ایک ڈیڑھ سال کے اندر بھارت واحد ملک ہے جسکے اپنے تمام پڑوسی ممالک کیساتھ سرحدی تنازعات میں اضافہ ہوا ہے۔پاکستان اورچین کیساتھ تو بھارت جنگیں لڑچکا ہے جبکہ برما، نیپال بنگلہ دیش کے ساتھ بھی سرحدی جھگڑے چل رہے ہیں۔نیپال کی نئی حکومت کےساتھ کشیدگی کی وجہ سے اسکی اقتصادی ناکہ بندی بھی کررکھی جس سے وہاں انسانی بحران کا خطرہ پیدا ہورہا ہے۔بنگلہ دیش کے ساتھ بھارت کے تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو یہاں بھی ایک دریائی جزیرے کا تنازعہ نمایاں نظر آتا ہے۔ بھارت کا اپنے جنوب مشرقی پڑوسی سری لنکا کے ساتھ تامل علاقوں کے حوالے سے تنازعہ ہے، بھارت اور بھوٹان کے درمیان بھی سرحدی تنازعہ حل طلب ہے۔ ایسا ہی جھگڑا میانمار کیخلاف بھی کھڑا کر رکھا ہے۔یوںپورا جنوبی ایشیا بھارت انتہا پسندی کا شکار ہے ،جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔اس صورتحال میں مودی عالمی امن کے لئے مشورے دیتا پھرتا ہے۔ابھی نائین الیون کے زخم بھرے نہیں کہ پیرس حملوں نے دنیا کو خوف سے دوچار کردیا ہے۔نائین الیون ایک ایسا زلزلہ تھا کہ جس کے آفٹرشاکس نے اب تک ہزاروں جانوں کو نگل لیا ہے۔ ابھی تک یہ تعین نہیں ہو پارہا کہ اس کااصل ذمہ دار کون ہے،جبکہ ایک بھیانک اور لغو پروپیگنڈے کے ذریعے عالم اسلام کو نشانہ بنا کر اسے تاراج کردیا گیا ہے۔نائین الیون کے حوالے سے بھارتی خفیہ ایجنسی سی بی آئی کے ایک سابق اعلیٰ افسر کا تازہ انکشاف چونکا دینے والا بھی ہے اور سوالیہ نشان بھی کہ امریکی سامراج نے اس مذموم پلاننگ سے جان بوجھ کر پہلو تہی کئے رکھی۔یہی وہ دہرا معیار ہے جس سے شدید نفرت جنم لیتی ہے۔