- الإعلانات -

نواز شریف مقدمات کا سامنا کریں، تصادم کی راہ اختیار نہ کریں

سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے احتساب عدالت پیشی کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی مخالفین کو واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ شریف خاندان کا ہر فرد نہ صرف اپنے خلاف عائد الزامات کا سامنا کرے گا اور ملک آکر ان مقدمات کا سامنا کرے گا۔ ماضی میں بھی آمریت کے سامنے سر نہیں جھکایا، حالات کی سنگینی کا سامنا پہلے بھی کیا اور اب بھی کر رہا ہوں، پاناما کیس میں نشانہ میں اور میرا خاندان ہے، سزا پاکستان کو دی جا رہی ہے، جھوٹ پر مبنی بے بنیاد مقدمے لڑ رہا ہوں، اب حقیقی مقدمہ لڑنے کا تہیہ کرلیا۔ مجھے یقین ہے آخری فتح عوام اور پاکستان کی ہوگی، عظیم فیصلہ 2018میں آئے گا جو مولوی تمیز الدین سے لے کر اب تک کے تمام فیصلے بہا لے جائے گا۔پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آتے ہی عہدے سے سبکدوش ہو گیا لیکن اس فیصلے کو جب آئینی و قانونی ماہرین نے نہیں مانا تو میں اسے کیسے تسلیم کرلوں، ڈر ہے کہ پاکستان کسی سانحہ کا شکار نہ ہو جائے، خدارا اہلیت اور نااہلیت کے فیصلے 20کروڑ عوام کو کرنے دیں، ملکی تاریخ میں پانامہ کیس پہلا کیس ہے جس میں دفاع کرنے والے کے تمام آئینی و قانونی حقوق سلب کرلئے گئے جس عدالت نے خلاف فیصلہ دیا اس نے جے آئی ٹی بنائی، اسی عدالت نے نیب کو حکم دیا تمام ضابطے توڑ کر ریفرنسز دائر کرلئے پھر اسی عدالت نے نیب کا کنٹرول بھی سنبھال لیا، اب اگر ضرورت پڑی تو پھر وہی عدالت میری آخری اپیل بھی سنے گی۔ سارا بار ثبوت درخواست گزار کے پلڑے میں ڈال دیا گیا۔ آج پھر آمریت کے دور کے پسے ہوئے مقدمات کو استعمال کیا جا رہا ہے، انصاف و قانون کے تقاضے کس طرح پامال ہو رہے ہیں۔پانامہ میں کچھ نہیں ملا لہذا اقامہ پر سزا دی جا رہی ہے تاکہ لوگوں کو بات سمجھ آ جاتی لیکن اس فیصلے پر وکلابرادری، سمجھ بوجھ رکھنے والا ہر شخص اور نہ ہی کسی اور نے اسے تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلوں کے خلاف اپیل ہو یا نہ ہو ایسے فیصلے آتے رہے ہیں لیکن اس کے خلاف پہلا فیصلہ جی ڈی روڈ کے راستے عوام نے سنایا، جس کی گونج آج بھی موجود ہے۔ میرا ضمیر صاف ہے، عوام میرے ساتھ ہے، یہ سزا صرف مجھے نہیں پورے پاکستان کو مل رہی ہے۔اگر آئین پاکستانی عوام کو حکمرانی کا حق دیتا ہے تو اسے تسلیم کر لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا ووٹ 70برس سے نشانہ بننے والے وزرااعظم کا مقدمہ ہے یہ سب میں لڑتا رہوں گا اور فتح میری ہی ہو گی، امید کے ساتھ کھڑا ہوں کہ انصاف کہیں نہ کہیں زندہ ہے، الزام یہ ہے کہ بیٹے سے وصول کی گئی تنخواہ ظاہر نہیں کی، میرے اثاثے دیکھنے والے یہ تو دیکھ لیتے، دھمکیوں کے باوجود ایٹمی تجربے کس نے کئے تھے، لواری ٹنل، نیلم جہلم پاور پلانٹ، گیس کی قلت، لوشیڈنگ، دہشت گردی، سی پیک، غریبوں کیلئے ٹرانسپورٹ، کراچی بلوچستان اور فاٹا میں امن کا قیام پاکستان کی ڈوبتی معیشت کو اوپر لانا پاکستان کے عوام میں یقین پیدا کرنا، نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا، کیا یہ معمولی اثاثہ ہے، میرے لئے خوشی کی بات ہے کہ قوم میرے ساتھ ہے۔قائداعظم کے پاکستان، عوام، آئین، جمہوریت، عوام کے حق حکمرانی، ووٹ کے تقدس کا مقدمہ لڑ رہا ہوں اور لڑتا رہوں گا، جیت عوام اور پاکستان کی ہوگی، جانتا ہوں میرا اصل جرم کیا ہے، لیکن میں عوام کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔ خدارا ملک کو آئین کے مطابق چلنے دو، اہلیت اور نااہلیت کے فیصلے عوام کو کرنے دو، انصاف کو انتقام بنانے سے سزا عدالتی عمل کو ملتی ہے۔ حیلے بہانوں سے منتخب قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی کھیل نے ہی پاکستان کو دولخت کیا۔ سابق وزیراعظم نے جو فرمایا وہ ان کے خیال میں درست ہوگا لیکن ضروری نہیں کہ اس سے اتفاق کیا جاسکے۔ ماضی میں جمہوری حکومتوں کیخلاف جو سازشیں ہوتی رہی ہیں ان میں بعض جمہوریت کے علمبردار انہی سازشوں کا حصہ بنے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ملک کو قائم ہوئے 70 سال کا طویل عرصہ ہوگیا ہے آج تک قائداعظم کے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست نہ بنایا جاسکا اور نہ ہی پاکستان کے مسائل کا ادراک کیا جاسکا۔ عوام کے معیار زندگی بلند ہونے کی بجائے ایک تواتر سے گر رہا ہے، ہماری خارجہ پالیسی بھی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے، مہنگائی اور بیروزگاری کا دور دورہ ہے اور ملک میں سیاسی عدم استحکام کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ نواز شریف کو تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے کا موقع ملا لیکن وہ اس ملک کے عوام کا مقدمے لڑنے میں کامیاب نہ ہو پائے۔آج وہ عدالتوں پرکڑی تنقید کررہے ہیں اگرماضی کے دریچوں میں جھانکا جائے تو عدالتوں پر چڑھائی کا سہرا بھی انہی کے سر ہے۔ اب انہوں نے عدالتوں پر تنقید کا جو سلسلہ شروع کررکھا ہے یہ کسی بھی لحاظ سے جمہوریت، ملک اور قوم کیلئے سود مند نہیں ہے۔ کیسوں کی پیروی کرنا نواز شریف کا حق ہے وہ ان کا بھرپور انداز میں دفاع کریں لیکن اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی ہماری نظر میں درست نہیں ہے۔
پاکستان پر دہشت گردی کا الزام کیوں؟
بھارت اور امریکہ نے پاکستان سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے کا مطالبہ حیران کن ہے کیونکہ بھارت خود ایک دہشت گرد ملک ہے اور خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعے خطے کے امن کو تباہ کرنے کیلئے استعمال کررہا ہے۔ کلبھوشن کی گرفتاری اس کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے۔ لیکن بھارت اور امریکہ کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام بے بنیاد ہے اور حقائق کے منافی ہے۔ امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے کہا ہے ٹرمپ انتظامیہ دنیا میں کہیں بھی دہشتگردی کی محفوظ پناہ گاہوں کو برداشت نہیں کرے گی اس سلسلے میں بھارت کے ساتھ مل کر کام کریں گے جبکہ بھارتی وزیر دفاع نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیویارک اور ممبئی میں ہونے والے حملوں کے ذمہ دار پاکستان میں ہیں ایسے ممالک جو دہشتگردی کو حکومتی پالیسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں انہیں دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا چاہئے، بھارت جنگ سے متاثرہ ملک کو مستحکم کرنے کیلئے افغانستان میں ترقیاتی سرگرمیوں کو بڑھائے گا تاہم افغانستان کی سرزمین پر اپنے فوجی نہیں بھیجے گا۔ امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے اپنے دورہ بھارت کے دوران یقین دہانی کرائی ہے ٹرمپ انتظامیہ دنیا میں کہیں بھی دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو برداشت نہیں کرے گی۔ جیمز میٹس نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہم اس سلسلے میں بھارت کے ساتھ مل کرکام کریں گے۔دہشتگردی دونوں ممالک کو متاثر کرنے والا ایک مشترکہ مسئلہ ہے دونوں ممالک اس خطرے کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہم بھارت کے ساتھ دفاعی شعبے سے متعلق جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کریں گے۔ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہے پاکستان دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے جو دنیا کیلئے قابل تقلید ہے۔ بھارت اور امریکہ کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام بے بنیاد اور من گھڑت ہے دراصل بھارت اپنی سفاکی ، بربریت اور دہشت گردانہ کارروائیوں کو چھپانے کیلئے پاکستان پر الزام تراشی کررہا ہے، دنیا بھارت کے مکروہ کردار سے نا آشنا ئے محض نہیں ، پاکستان دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا جس میں اسے کافی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن یہ خطے میں امن کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔