- الإعلانات -

اورپھرکوّاسفید ہوگیا

ٹی وی آن کیا تو پہلے چینل پر ایک باخبر صحافی چیخ چیخ کرکہہ رہے تھے ’’نوازشریف اب لندن سے کبھی واپس نہیں آئے گا ‘‘۔ ریموٹ کا بٹن پریس کیا اور اگلے چینل کی طرف بڑھ گیا ۔وہاں بھی کچھ ایسا ہی منظر تھا ۔وہاں جو صاحب گلا پھاڑ رہے تھے ، ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اندر کی خبریں ہوتی ہیں ۔ان کی چیخوں کے درمیان پتا چلا کہ موصوف یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ’’نواز شریف اب لندن سے پارٹی چلائیں گے اور آہستہ آہستہ الطاف حسین کی طرح ان کی گرفت بھی پارٹی پر بھی ڈھیلی پڑتی جائے گی ‘‘۔ اگلا چینل لگایاتوسنسنی نہ پھیلانے کے دعویدار چینل پر ایک ’’معروف دفاعی تجزیہ کار‘‘ کچھ اس طرح ڈرائیونگ فرمارہے تھے کہ ’’ نوازشریف اب واپس نہیں آئے گا کیونکہ وہ جیل نہیں جانا چاہتے ‘‘۔ تنگ آکر ایک اورچینل کا رخ کیا تو وہاں اس طرح کی آواز آئی ’’ میرے خیال میں وہ واپس نہیں آئیں گے کیونکہ یہاں جیل ان کی منتظر ہے ‘‘۔ اگلے چینل پر حب الوطنی سے سرشارایک اور تجزیہ کار ’’ مجھے انتہائی بااعتماد ذرائع سے پتاچلا ہے کہ شریف خاندان کے افراد ایک ایک کر ملک سے باہر چلے جائیں گے ‘‘ کی بولی بول رہے تھے ۔میں ’’دیکھتا جا شرماتاجا ‘‘ والی کیفیت سے دوچارتھا۔
اس کے بعد یوں ہوا کہ شہباز شریف بھی لندن روانہ ہوگئے ۔اب ان لوگوں کے تجزیوں کا خلاصہ کیا جائے تو اس طرح بنتا ہے کہ شہباز شریف لندن’’کسی ‘‘ کایہ خاص پیغام لے کر گئے ہیں کہ آپ وطن واپس نہ آئیں تو بہتر ہوگا اور اگر آپ واپس آئے تو آپ کے ساتھ کچھ اچھا ہونے والا نہیں ہے ۔لیکن یہ تمام ’’اندر‘‘ کی خبریں دھری کی دھری رہ گئیں جب نواز شریف نے وطن واپسی کا اعلان کیا ۔ان کے اعلان سے جہاں قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہواوہیں قوم کے یہ’’ہمدرد، باخبر ، محب وطن اوراندر کی خبر‘‘ رکھنے والے تجزیہ کار ایک بار پھر ننگے ہوگئے ۔قوم کو ایک بار پھر اندازہ ہو گیا کہ یہ بھانت بھانت کا چورن بیچنے والے کس کی دکانداری چمکا رہے ہیں ۔واپسی کے بعد ’’پکی اور معتبر ‘‘ خبروں کا بازار ایک بار گرم ہوچکا ہے ۔ان کا ننگا پن ایک بار پھر اس وقت بھی ظاہر ہوا جب چوہدری نثار نے نواز شریف سے ملاقات کی ۔بند کمرے میں دو افراد کی ملاقات تھی اور الہام یافتہ نسل کے یہ تجزیہ کار کہہ رہے تھے کہ چوہدری نثار نے نواز شریف پر یہ واضح کردیا ہے کہ وہ ان کے لیڈر ہیں لیکن کسی بچی کو ہمارے سروں پر مسلط نہ کریں اورمزید یہ کہ چوہدری نثار نے نواز شریف کو اپنے تمام تحفظات سے آگاہ کردیا ہے ۔لیکن اس ڈرامے کا ڈراپ سین بھی کچھ اس طرح ہوا کہ اگلے روز چوہدری نثار نے ایک بیان جاری کیا کہ میڈیا میں جو کچھ آرہا ہے وہ غلط ہے ، اس طرح کی کوئی ات نہیں ہوئی اور اس ملاقات کے متعلق غلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔اس بیان کے سامنے آنے کے بعد میڈیا اور ان ’’مستند ‘‘ تجزیہ کاروں کو معافی مانگنی چاہیے تھی لیکن مجال ہے کہ کسی ماتھے پر جوں بھی رینگی ہو۔
جب تک وہ لندن میں تھے تب تک یہی کہاجارہاتھا کہ نوازشریف عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے ۔انہوں نے عدالتوں سے ٹکراؤ کا فیصلہ کرلیا ہے ۔لیکن جونہی وہ واپس آئے انہوں نے کہا کہ عدالتوں کے سامنے پیش ہوں گے ۔پھر وہ دن بھی آیا جب وہ عدالت میں پیش ہورہے تھے اور چورن بیچنے والے اپنے ماتھے سے پسینا صاف کررہے تھے ۔اب کسی میں اتنی ہمت تو تھی نہیں کہ اپنی لسّی کو کٹھا کہتا ۔اسی تناظر میں یہ بیان نما مطالبہ یا مطالبہ نما بیان سامنے آیا کہ اسمبلیاں تحلیل کر کے فوری طورنئے انتخابات کیے جائیں ۔اس کی وجہ یہ سامنے آئی کہ شاہد خاقان ایک کٹھ پتلی وزیراعظم ہے کیونکہ وہ کوئی فیصلہ اپنی مرضی سے نہیں کرسکتا۔یہ وجہ سن کر عرصے سے فالج زدہ یا قومے میں گئے مریضوں کا بھی ’’ہاسا‘‘ نکل گیا ہوگا کیونکہ تکلف برطرف ، کیا کے پی کے میں سارے فیصلے پرویزخٹک صاحب کررہے ہیں ؟ اس بنیاد پر تووہاں کی اسمبلی کو اس وقت ہی تحلیل ہوجانا چاہیے تھا جب پہلا فیصلہ ہی اسمبلی کی بجائے بنی گالہ میں ہواتھا۔ پہلا بیانیہ یہ تھا کہ نوازشریف جب تک وزیراعظم ہے ، اس کے خلاف ’’درست‘‘ تحقیق ہو سکتی ہے اور نہ ’’آزادانہ ‘‘ فیصلہ۔مسلم لیگ کا بیانیہ تھا کہ اس سے نظام کو خطرہ ہے اور تحریک انصاف کا اصل ہدف اسمبلیوں کی تحلیل ہے۔جوابی بیانیہ یہ تھا کہ نظام کو کیسے خطرہ ہے؟نیا وزیراعظم منتخب ہوگا اورنظام چلتا رہے گا
۔لیکن تحقیق بھی ہوئی ، فیصلہ بھی آیا ، نواز شریف گھر بھی گیااور نیا وزیراعظم بھی آیا لیکن بلی تھیلی سے باہر آگئی ہے اور وہی بات کہ نئے انتخابات کرائیں جائیں ۔ان حالات میں نظر یہی آرہا ہے کہ اصل ہدف نہ نوازشریف تھا اور نہ ہی عدل وانصاف کی حکمرانی مقصودتھی بلکہ اصل ہدف یہ تھا کہ مارچ سے پہلے حکومت کو ختم کردیا جائے ۔کیونکہ مارچ میں سینٹ کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ نواز وہاں عددی قوت حاصل کرلے گی اور اس طرح آنے والی ’’یقینی ‘‘ حکومت کے لیے ایوان بالا میں مشکلات پیدا ہوں گی ۔لیکن نواز شریف نے پہلے فیصلہ تسلیم کرکے ، اس کے بعد وطن واپس آکر اور پھر عدالت میں پیش ہو کر ان تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے ۔اب ملک کے ’’ہمدرد لیڈر اور صحافی حضرات ‘‘ کی ساری امیدیں اس کاکے کی طرف لگی ہیں جس نے اکتوبر یا دسمبر میں بطن مادر سے باہر قدم رنجہ ہونا لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس سارے کھیل میں ہمارے ’’لیڈر‘‘ ملک کے اداروں کو بھی بدنام کرہے ہیں ۔انہیں چاہیے کہ اداروں کو بدنام کرنے کی بجائے یہ دیکھیں کہ ان کا کوا کب کب سفید ہواہے ؟