- الإعلانات -

کشمیر بارے دوٹوک مؤقف پر کشمیری قیادت کا خیر مقدم

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کشمیریوں کی بھرپور ترجمانی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خطاب کے موقع پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور طریقے سے اْجاگر کیا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقوق کی بات کی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی شدید پامالی کو بھی بے نقاب کیا۔ شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے آج یواین چارٹر کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کی کوششوں کو طاقت کے ذریعے سے کچلنے کے لیے 7لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔ بھارت کشمیر میں جنگی جرائم اور جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ پاکستان کا کشمیر سے متعلق بڑا واضح موقف رہا ہے اور ہم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سمیت دْنیا کے تمام فورمز پر اس امر کو واضح کیا کہ کشمیری عوام کی اْمنگوں کے عین مطابق مسئلہ کشمیر کا حل جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کیلئے ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے بھی اسی موقف اور پالیسی کو بڑے جامع انداز میں اپنے جنرل اسمبلی کے خطاب کے دوران دْنیا کے سامنے رکھا۔وزیراعظم کے موثر اور جامع خطاب سے پاکستان کے موقف کو نہ صرف بامقصد انداز میں سنا گیا بلکہ اس کو پذیرائی بھی حاصل ہوئی ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی نے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ خطاب جس میں انہوں نے تنازعہ کشمیر سمیت تمام اہم مسائل کوجرات مندی سے اجاگر کیا، کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیر اعظم پاکستان کا خطاب کشمیر کی امنگوں کے مطابق حق وصداقت پر مبنی تھا۔ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ عالمی فورسز پر اٹھایا ہے اور اس دیرینہ سیاسی مسئلے کو بامعنی مذاکراتی عمل کے ذریعے اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل پر ہمیشہ زور دیا ہے۔تاہم بھارتی حکومت نے جموں وکشمیر پر اپنے غیر قانونی تسلط کو طول دینے کیلئے ہمیشہ ظلم وتشددکے تمام ہتھکنڈوں کو استعمال کیا ہے اور اس کے باوجود بھی وہ آج تک کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کمزور نہیں کر سکا ہے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ شاہد خاقان نے کشمیر کے لوگوں کے سیاسی حقوق کے حق میں آواز بلند کر کے ثابت کردیا ہے کہ وہ کشمیر کے دوست اور خیرخواہ ہیں۔ عالمی برادری کشمیریوں کی خواہشات کا احترام کرے اور اس خطے میں امن کے لیے مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا کردارادا کرے۔ صدر آزاد جموں وکشمیر سردارمسعود خان نے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے کشمیری عوام کی امنگوں کا ترجمان قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے اپنے پہلے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو دوٹوک اور جراتمندانہ انداز میں اجاگر کیا۔ ان کا تقریر کا بیشتر حصہ مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے متعلق تھا۔ اہل جموں وکشمیر اس پر وزیر اعظم پاکستان کے شکر گزار ہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ میں اہم ملاقاتوں خصوصاً سیکرٹری جنرل انٹینو گوٹیرس کے ساتھ بھی مسئلہ کشمیر اٹھایا اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے زور دیا۔ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ میں جاندار موقف اپنا کر کشمیریوں کی امنگوں کی ترجمانی کی ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے مسئلہ کشمیر سے متعلق دو ٹوک اور جاندار موقف اختیار کیا ہے۔عالمی سطح پر حق خود ارادیت کی حمایت حاصل کرنے میں مدد ملے گی ۔ شاہد خاقان عباسی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور جنگ بندی لائن پر بھارتی جارحیت سے متعلق حقائق دنیا کے سامنے رکھے ہیں اور بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے۔ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی طرف سے خصوصی نمائندے کا تقرر ناگزیر ہے اگر اقوام متحدہ نے اس مسئلے کو نظر انداز کیا تو حالات سنگینی کی طرف جا سکتے ہیں۔اسی طرح مختلف سیاسی ، مذہبی اور سماجی جماعتوں کی طرف سے وزیر اعظم کو مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے پر خراج تحسین پیش کیاگیا۔ پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم نے کشمیر پر بھرپور بات کر کے کشمیریوں کا حق ادا کر دیا۔ اسی طرح اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے بھی مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے دو ٹوک موقف کو سراہا۔ یہ حقیقت ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے جس جراتمندانہ انداز سے مسئلہ کشمیر پر دوٹوک موقف اختیار کیا ہے اس سے کشمیری عوام کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور تحریک آزادی کو نئی جہت ملی ہے۔ گزشتہ سال بھی میاں محمد نواز شریف نے جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران برہان مظفروانی کا ذکر کیا تھا۔ اس سال بھی وزیراعظم پاکستان کی تقریر کشمیریوں کے ساتھ اسی کمٹمنٹ کا تسلسل ہے۔اقوام متحدہ میں کشمیریوں کی ترجمانی کرنے پر پوری قوم وزیراعظم پاکستان کے شکر گزار ہے۔ بھارت طاقت کے بل بوتے پر زیادہ دیر تک کشمیری عوام کو غلام نہیں رکھ سکتا ۔کشمیر ی عوام اپنے حق خود ارادیت کیلئے لاکھوں قربانیاں دے چکے ہیں۔ حق خودارادیت پر سمجھوتہ ممکن نہیں۔ عالمی برادری کشمیریوں کے حق خود ارادیت کیلئے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد کرائے۔ مسئلہ کشمیر کے حل میں مزید تاخیر سے خطہ میں امن کو خطرات لاحق ہوں گے۔