- الإعلانات -

انسان دشمن بھارت اور ۔ ۔ !

گزشتہ ہفتے یو پی کے گاؤں ’’ منوہر پورہ ‘‘ میں ایک دلت کو زندہ جلا دیا گیا مگر بھارتی میڈیا کے اکثر حلقوں نے اس خبر کو اس قابل نہ سمجھا کہ اسے دو کالمی خبر کے طور پر اخبار کے کسی اندرونی حصے میں ہی جگہ دی جائے مگر گائے کو مارنے کے الزام میں دہلی کے نواحی قصبے غازی آباد میں ایک درجن گھروں کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا ، مگر آفرین ہے انسان دوست ہونے کے دعویدار بھارت کے ان حلقوں پر جو اس تمام صورتحال کے باوجود چشم پوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالکل خاموش ہیں اور تقریباً ہر روز بھارت کے مختلف مقامات پر گائے کو مارنے کے خود ساختہ الزامات گھڑ کر کوئی نہ کوئی نیا شوشہ چھوڑتے رہتے ہیں ۔ اسی پس منظر میں مبصرین نے کہا ہے کہ ہندوستانی حکمرانوں کا یوں تو صدا سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ وہ عدم تشدد کے پیروکار ہیں مگر زمینی حقائق پر نظر ڈالیں تو ہر ذی شعور کو اس تلخ سچائی کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں انسانی حقوق کی پا مالیاں جس قدر بھارت میں ہو رہی ہیں اس کا عشرِ عشیر بھی کسی دوسرے معاشرے میں ڈھونڈ پانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے ۔ مثال کے طور پر کسے علم نہیں کہ اچھوت ہندو غالباً دنیا بھر میں بد قسمت ترین مخلوق سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان کے ہم مذہب ہونے کے دعویدار ہندوؤں کی بھی ایک بھارت اکثریت ان کو چھونے تک سے گریزاں ہیں اور انھوں نے یہ من گھڑت مفروضہ قائم کر رکھا ہے کہ دلت اس قابل نہیں کہ انھیں اپنے برابر کا انسان سمجھا جائے ۔ اسی صورتحال کا جائزہ لیتے غیر جانبدار مبصرین نے کہا ہے کہ نہتے کشمیریوں پر تو جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں وہ اظہر من الشمس ہیں اور اس کے مرتکب افراد کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے مگر یہ صورتحال بھی انسانی حوالے سے کسی بڑے المیے سے کم نہیں کہ بھارت میں بہ زعمِ خود اونچی ذات کہلانے والے کروڑوں ہندو بھی بد قسمت اچھوتوں کو کسی بھی ضمن میں درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے ۔ دوسری طرف یہ یہ امر بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ RSS نامی انتہا پسند ہندو تنظیم نے 1925 میں اپنے قیام سے لے کر آج تلک اس موقف کو کبھی راز نہیں رکھا کہ اس کا ہدف برِصغیر جنوبی ایشیاء کو اکھنڈ بھارت میں تبدیل کرنا اور یہاں رام راجیہ قائم کرنا ہے۔اور RSS کے سیاسی ونگ BJP نے بھی خود کو کبھی ہندو انتہا پسندی کے نظریات سے لا تعلق قرار نہیں دیا بلکہ اس کا ہمیشہ سے ہی اعلانیہ موقف رہا ہے کہ بھارت کی تقسیم اور پاکستان کا قیام ایک سیاسی حادثہ تھا جسے قبول نہیں کیا جا سکتا ۔اسی تناظر میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے غالباً صحیح کہا ہے کہ بھارت دہشتگردی کی ماں ہے ۔