- الإعلانات -

صحافی قانون دان چوہدری اصغر علی گھرال

شیکسپیئر نے کہا تھا کہ دنیا ایک تھیٹرہے اور ہم سب اس میں اپنا اپنا کردا ادا کرتے اور پھر واپس چلے جاتے ہیں دیکھا جائے تو حقیقت بھی کچھ اسی طرح ہے زندگی کے اس تھیٹر میں ان گنت کردار کوئی نیک کوئی بد ، کوئی امیر کوئی غریب ، کوئی تاجر ہے کوئی اجیر ہے ، کوئی جاگیردار کوئی مزارعہ ہے ، کوئی بسیار خوری سے بیمار ہے کوئی فاقہ کشی کا شکار ہے کوئی عوام سے پیار بھی کرتا ہے اور عوام کو لوٹ کر منی لانڈرنگ اور لوٹ مار کر کے عوام ہی سے پوچھتا ہے ۔ کہ مجھے کیوں نکلالا؟ اور کوئی قیمے والے د و نان اور بریانی کی ایک پلیٹ پر پھر اسی کے نعرے لگانے میں لگا ہے کیونکہ اس کے پیٹ کی آندھی بھٹی کو خواراک کا ایندھن اسے ایسا کرنے پر مجبو ر کرتا ہے لیکن دنیا میں پھیلے ان کرداروں میں کچھ روشن کردار بھی ہیں جو تمام زندگی علمی ادبی محاذوں پر عوامی خدمت کرتے نظر آتے ہیں ان ہی روشن کرداروں میں ایک چوہدری اصغر علی گھرال ایڈووکیٹ بھی ہیں جو تحصیل کھاریاں کے ایک چھوٹے سے گاؤں گھرال میں پیدا ہو کر اپنی خدا داد صلاحیتوں سے قلم کے محاذ اور وکالت کے میدان سے ہوتے ہوئے سیاسی سماجی محاذوں پر پسے ہوئے طبقوں مظلوموں ، مجبوروں ، ضرورت مندوں کی داد رسی کرتے اپنے اخلاق و کردار کی خوشبو بکھیرتے اپنی یادوں کے چراغ روشن کرتے ایک روز خاموشی سے اپنے چاہنے والوں پیار کرنے والوں کو اداس و سو گوار چھوڑ کر بہشتی سفر پر ایک نئی زندگی اور نیا حلقہ احباب بنانے کیلئے بڑی وضع دار ی سے رخصت ہو جاتے ہیں ۔ چوہدری اصغر علی گھرال سے میری پہلی ملاقات 1985ء ؁ میں ہوئی جب پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وکالت کا لائسنس لینے کیلئے پنجاب بار کونسل سے رجوع کیا تو بار کونسل نے مجھے گھرال صاحب ممبر پنجاب بار کونسل کے رو برو انٹرویو کیلئے پیش ہونے کی ہدایت کی گھرال صاحب سے گجرات میں میری پہلی ملاقات اس قدر خوشگوار تھی کہ آخری دم تک ان سے ملاقاتوں کا سبب بنی اصغر علی گھرال دراز قد وجیہہ خوبصور ت انسان تھے عجز و انکساری اور پیار کرنا ان کی عادت تھی جو ان سے ایک بار ملتا بس انہی کا ہو کر رہ جاتا گھرال صاحب خدادا صلاحیتوں کے مالک تھے انہوں نے 1945ء ؁میں اس وقت کے مشہور اخبار میں کالم نگاری شروع کی اور اپنی قلم سے سماجی ، عوامی ، سیاسی مسائل کا احاطہ کیا اور پھر1955ء ؁ میں اس وقت کے ممتاز قانون دان حکیم چراغ ایڈووکیٹ کے دفتر سے وکالت کا آغاز کر کے مختصر عرصہ میں اپنی خدادا صلاحیتوں کی وجہ سے نا م کمایا وہ دو مرتبہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گجرات کے سیکرٹری جنرل اور دو مرتبہ ممبر پنجاب بار کونسل منتخب ہوئے اور وکلاء کی فلاح وبہبود کیلئے گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ گھرال صاحب کے گاؤں اور ارد گرد کے علاقوں کے لوگ فوج میں ملازمت کو ترجیح دیتے تھے اس طرح فوج سے محبت گھرال صاحب کے خمیر میں شامل تھی جنگ ستمبر کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید پر گھرال صاحب نے خالص جذبوں میں ڈوبی ایک کتاب تصنیف کی تو اس کے چرچے خاص و عام میں ہونے لگے جس پر اس وقت کے صدر پاکستان فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان نے انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا موصوف شہید ذو الفقار علی بھٹو کے افکار و نظریات سے متاثر تھے لیکن گجراتی سیاست اور چوہدر ی ظہور الٰہی شہید سے ذاتی دوستی اور تعلق نے انہیں مسلم لیگ کے ساتھ منسلک رکھا اور یہی تعلق ان کی اولاد تک پہنچا جس پر ان کے صاحبزادے خالد اصغر گھرال دو مرتبہ (ق لیگ )کے ٹکٹ پر ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہو کر عوام کی خدمت کرتے رہے اصغر علی گھرال کو زندگی میں کئی ایسے مواقعے بھی دستیاب ہوئے کہ جن سے وہ چور دروازوں سے لکھ پتی یا کروڑ بھی بن سکتے تھے اور اپنے اثاثوں میں منی لانڈرنگ اور چور بازاری کی کمائی سے کسی چھوٹے سے سرے محل یا لندن میں کوئی دو چار فلیٹوں کے مالک بھی ہو سکتے تھے لیکن انہوں نے بنک بیلنس اور محل مینارے ٹاور اور پلازے بنانے کی بجائے حلقہ احباب بنانے پر ترجیح دی۔
(باقی:سامنے والے صفحہ پر)