- الإعلانات -

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے 

اس وقت ملکی حالات دگرگوں کی سی کیفیت کے حامل ہوچکے ہیں ،مسائل کی جانب کوئی توجہ نہیں ہے ،کوئی اپوزیشن لیڈر اتارنے کے درپے ہے ،کوئی وارنٹ کے چکروں میں پھنسا ہوا ہے ،کوئی پیش ہورہا ہے اورپیش ہونے کے بعد پھرسے پرواز بھرنے کی تیاریوں میں ہے ،اصل معاملات اورمسائل کدھر دبیز تہوں میں دبے ہوئے ہیں ،عوام کے حقوق کو بغدے سے قتل کیا جارہا ہے مگر کوئی بھی پرسان حال نہیں ۔ہر جانب حقوق سلب ہورہے ہیں کسی کو اتنی توفیق ہی نہیں کہ اس حوالے سے کوئی آواز اٹھائے ،اقتدار کے ایوانوں میں بھی پانامہ ہی پانامہ گونج رہی ہے ،اللہ تعالیٰ بیماروں کو بھی صحت دے ،تیمارداروں کو بھی توفیق دے کہ وہ صحت مند ہوکر اسی ملک میں اپنی زندگی گزربسر کرسکیں ۔گذشتہ دنوں بہت زیادہ شور مچ رہا تھا کہ میاں نوازشریف وطن واپس نہیں آئیں گے مگرہماری رائے ذرا سب سے مختلف تھی اورپھر اسی طرح ہوا وہ آئے ،عدالتوں میں پیش ہوئے ،اس کے بعد انہوں نے ایک پریس کانفرنس شاہانہ انداز میں داغ دی ،دراصل وہ پریس کانفرنس کم ،ن لیگ کا جلسہ زیادہ تھا ۔بادشاہ سلامت نے تقریر کرنی تھی ،پوری قوم کو بتانا تھا ،کچھ اداروں کی کلاس لینی تھی اوراسی کانفرنس کے بعد ن لیگ کے حامیوں کے نعرے بازی بھی ہونا قرار پائی تھی ۔ابھی پریس کانفرنس کا آغاز نہیں ہوا تھا میاں صاحب اپنی کرسی پر براجمان ہوئے تو اس ناچیز نے میاں صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب یہ پریس کانفرنس ہے ۔کم از کم صحافیوں کو آگے آنے کا موقع فراہم کیا جائے اورکارکنوں کوباہر کیا جائے مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے ۔بات آئی گئی ہوگی ۔پریس کانفرنس کا آغاز ایک لکھی لکھائی تقریر کی گئی جو دل کی بھڑاس نکالنی تھی وہ انہوں نے نکالی ۔جب وہاں پر موجود صحافیوں نے اپنے اپنے سوالات داغے تو میاں صاحب خاموشی سے اٹھ کر پنجاب ہاؤس کی بالائی منزل پر چل دئیے اور یوں تمام صحافی منہ تکتے رہ گئے ۔اس کو کہتے ہیں بادشاہت ،کیا مجال کہ رعایا کوئی سوال کرسکے ،ان کا دل چاہے گا تو جواب دیں گے نہیں دل چاہے گا تو نہیں دینگے ۔ہم تو یہاں یہ کہتے ہیں کہ اب میڈیا نے بھی اپنی عزت کچھ زیادہ ہی ٹکاٹوکری کردی ہے ۔ایک وہ بھی زمانہ تھا جب الیکٹرانک میڈیا نہیں ہوا کرتا تھا۔پرنٹ میڈیا کے صحافی ایک وقت تک پریس کانفرنس کا انتظار کرتے اور اس کے بعد روانہ ہوجاتے پھر پریس کانفرنس کرنیوالا سیاسی رہنما یا وزیر تاخیر سے آنے پر معذرت کرتا اور اس کے بعد پھر پریس کانفرنس کی جاتی تھی مگر اب تو حالات ہی مختلف ہیں ۔اگر پریس کانفرنس تین بجے ہونی ہے تو وہاں پر کیمرے اورمائیک کئی کئی گھنٹے پہلے ہی پہنچ جاتے ہیں ۔اپنی عزت خود ہی بنانا پڑتی ہے جب تک میڈیا اپنی پہچان صحیح انداز میں نہیں کرائے گا تو اسی طرح اس کی تذلیل ہوتی رہے گی ۔ان سیاسی لوگوں کے گارڈز مارتے رہیں گے ۔ٹی وی پر اینکرز گلے پھاڑ پھاڑ کر دہائی دیتے رہیں گے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوگی ۔سیاسی حالات تو جو چل رہے ہیں وہ تو اپنی جگہ انہی حالات کے دوران ہمارے وزیر خارجہ نے باہر جاکر ایک ایسا بیان داغ دیا جو پاکستان کے حق میں کم اور دشمنوں خصوصی طور پر بھارت کے فیورمیں زیادہ جاتا ہے ۔یہ بیان کیوں دیا گیا اس کے پس پردہ کیا محرکات ہیں ۔اس بارے میں تو ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن یہ بات ضرور ہے کہ کمال کی خارجہ پالیسی ہے بجائے اس کے کہ اپنے ملک کا دفاع کیا جائے ایسی باتیں کرکے دفاع تو درکنار ہمارے خیال میں تو دشمنوں کو ہرزہ سرائی کرنے کا مستند موقع فراہم کردیا گیا ہے ۔خارجہ پالیسی بنانا وقت کی انتہائی اہم ضرورت ہے کیونکہ جب امریکی وزیردفاع بھارت گیا پھر افغانستان گیا اور وہاں سے اس نے صرف پاکستان کیخلاف بیان داغنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا ۔اس وقت ضرورت تھی کہ ایک مضبوط خارجہ پالیسی ہوتی مگرشاباش ہے ہمارے وزیرخارجہ کو کہ جو ایوان میں تو کھڑے ہوکر بڑے دبنگ انداز میں یہ کہتے ہیں کہ ’’کوئی شرم ہوتی ہے ،کوئی حیاء ہوتی ہے ‘‘مگر بیرون ملک جاکر انہوں نے سب چیزوں سے آزاد ہوکر وہ کچھ کہا کہ بقول رمضانی کے
ہوئے تم دوست جس کے اس کا دشمن آسماں کیوں ہو
اب ملک کے اندر ذرا نظر دوڑائی جائے تو تحریک انصاف نے جو اس وقت اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کا شور مچا رکھا ہے وہ بھی محض ایک بازگشت کی طرح ہے جو خو دہی ایک کمرے میں شور مچا کر اپنی آوازیں سن رہے ہیں کیونکہ جس ایم کیو ایم سے وہ ملے ہیں اس کے دس ممبر تو بیرون ملک ہیں باقی ہر ذی شعور خود فیصلہ کرسکتا ہے کہ کیونکر نمبر گیم پی ٹی آئی جیت سکے گی ۔لہذا اب بہتر یہی ہے کہ 2018ء کا انتظار کریں عوامی عدالت میں جائیں وہاں پر پانامہ ،اقامہ ،اثاثہ ریفرنس اور دیگر مقدمات رکھیں اور جوبھی قوم فیصلہ کرے اس کو سر تسلیم خم کریں نہ کہ ملک کو انارکی کی طرف لے کر جائیں ۔