- الإعلانات -

ترقی کیلئے وفاق کی تمام اکائیوں میں ہم آہنگی ضروری

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلوچستان کے 173 رکنی طلباء و اساتذہ کے وفد سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ ملک مخالف پروپیگنڈا میں ملک دشمن غیر ملکی ایجنسیاں ملوث ہیں، پاک فوج ہر قسم کے اندرونی وبیرونی چیلنجز سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور کوئی بھی پاکستان کو بری نظر سے دیکھنے کی جرأت نہیں کرسکتا ، بلوچستان کے بغیر پاکستان نامکمل ہے ،بلوچستان میں ترقی ،استحکام اور امن کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کرسکتا ، نوجوان نسل پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں ، نوجوان اپنے مثبت کردار سے قومی یکجہتی وترقی میں کردارادا کریں، نوجوان نسل ملک مخالف پراپیگنڈا سے کبھی بھی متاثر نہ ہوں، پاک فوج نے پوری قوم کی حمایت سے ملک کو دہشت گردی اور تشدد سے پاک کرنے کیلئے بہت اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ آرمی چیف نے کہا کہ بلوچستان کے بغیر پاکستان نامکمل ہے ،بلوچستان میں ترقی ،استحکام اور امن کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کرسکتا ، نوجوان نسل پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں ، نوجوان اپنے مثبت کردار سے قومی یکجہتی وترقی میں کردارادا کریں ۔نوجوان نسل ملک مخالف پراپیگنڈا سے کبھی بھی متاثر نہ ہوں ۔ملک مخالف پروپیگنڈا میں ملک دشمن غیر ملکی ایجنسیاں ملوث ہیں ۔طلباء کو تعلیم پر توجہ ، سخت محنت کرنے اور منفی سرگرمیوں سے بچنا ہوگا ۔تعلیم ہماری قومی ترجیحی ہے ۔ کوئٹہ میں نسٹ یونیورسٹی کا قیام اسی سلسلے کی کڑی ہے ، بلوچستان متحرک اور صلاحیتوں سے مالا مال نوجوان نسل رکھنے والا صوبہ ہے ، پاکستان کا مستقبل بلوچستان کی قابل اور باصلاحیت نوجوان نسل سے وابستہ ہے ۔قومی مقاصد کے حصول کے لئے اپنی تمام صلاحتیں بروئے کار لائیں گے ۔پاک فوج ہر قسم کے اندرونی وبیرونی چیلنجز سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور کوئی بھی پاکستان کو بری نظر سے دیکھنے کی جرأت نہیں کرسکتا ۔آرمی چیف نے طلباء کو یقین دہانی کرائی کہ پاک فوج انہیں ایک محفوظ اور مستحکم پاکستان دینے کیلئے پرعزم ہے ۔پاک فوج نے پوری قوم کی حمایت سے ملک کو دہشت گردی اور تشدد سے پاک کرنے کیلئے بہت اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ آرمی چیف نے بجا فرمایا ہے ترقی کیلئے وفاق کی تمام اکائیوں میں ہم آہنگی انتہائی ضروری ہے، امن و استحکام بلوچستان کی خوشحالی کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا یہ حقیقت ہے کہ ریاست دشمن عناصر غیر ملکی ایجنسیوں کے تعاون سے پاکستان کیخلاف پروپیگنڈا کرتے چلے آرہے ہیں نوجوانوں کو گمراہ نہیں ہونا چاہیے، پاک فوج دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پرعزم ہے ، پاک فوج کا دہشت گردی کیخلاف کردار نہ صرف لائق تحسین ہے بلکہ دنیا کیلئے قابل تقلید بھی ہے۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کا کردار تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ نوجوان قیمتی اثاثہ ہیں ان کو اپنی توانائیاں ملک کی ترقی کیلئے صرف کرنی چاہئیں کیونکہ مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے ۔ وطن سے محبت کا یہ تقاضا ہے کہ اس کی ترقی کیلئے بھرپور کردار ادا کیا جائے۔
پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے
ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ پاکستان کا نیوکلئیر سیکورٹی کے حوالے سے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام جدید ترین اور محفوظ ہاتھوں میں ہے ،پاکستان کا جوہری پروگرام عالمی معیارات اور آئی اے ای اے کے قواعد کے مطابق ہے، سی پیک منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے،دوست ممالک کی منصوبے میں شمولیت کے حوالے سے دونوں ممالک طریقہ کار طہ کررہے ہیں،کہ روس اور چین الگ الگ پاکستان کیساتھ مشترکہ فوجی مشقیں منعقد کر رہے ہیں،مقبوضہ کشمیر میں صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے ،بھارت کشمیریوں کی تحریک آ زادی کو دبانے کے لئے غیر انسانی سلوک کر رہا ہے،بھارت سیز فائر لائن کی بھی مسلسل خلاف ورزی کر رہاہے اور جان بو جھ کر سول آ بادی کو نشانہ بنا رہا ہے،عالمی برادری نو ٹس لے، پاکستان جنیوا میں جاری اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں بھر پور اندا ز میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اٹھائے گا، ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت عالمی تنظیموں اور میڈیا نے پیلیٹ گن کے استعمال کو غیر انسانی فعل قرار دیااور پیلٹ گننز سے متاثرین کی تصاویر شائع کیں،بھارتی میڈیا نے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کیلئے یہ مسئلہ اچھالا، پاکستان میں داعش کی منظم موجودگی نہیں ہے،بھارت افغانستان میں تخریب کارانہ کردارا دا کر رہا ہے، تعمیر نو کے منصوبوں کی آڑ میں پاکستان میں دہشتگردی پھیلائی ہے،افغانستان کی سرزمین اور وہاں پر مو جود دہشت گرد تنظمیوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔
افغان طلبہ کیلئے سکالرشپ
گزشتہ روز لاہور میں منعقدہ ایک تقریب میں ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے زیر اہتمام 3000 افغان طلبہ کو پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں اگلے پانچ سالوں میں علامہ محمد اقبال اسکالرشپ اسکیم کے تحت اسکالرشپ دیے گئے ۔افغان طلبہ کو یہ اسکالر شپ میڈیکل، انجینئرنگ، بزنس ایدمنسٹریشن ، زراعت سمیت دیگر شعبہ جات میں دیے جائیں گے ۔اس تقریب میں گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ بطور مہمان خصوصی ,افغان ایجوکیشن منسٹر کے ایڈوائزر امان اللہ فقیری،پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر زاخیل وال، افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ اور افغانستان کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کا ایک وفد بھی اس موقع پر موجود تھا۔یہ اپنی نوعیت کی اہم تقریب تھی جس میں حکومت پاکستان نے افغانی طلبہ کیلئے یہ موقع پیدا کیا تاکہ وہ بھی پاکستان میں دستیاب اعلیٰ تعلیمی مواقع سے بھر فائدہ اٹھا سکیں۔افغان طلبہ کیلئے ایسے سکالر شپ پہلی دفعہ جاری نہیں کیے گئے بلکہ گاہے گاہے اس کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ افغان طلبہ اپنی ہوم لینڈ کے قریب اچھی تعلیم حاصل کر پائیں۔صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان افغان خواتین کیلئے بھی ایسے سکالرشپ کا بھی ارادہ رکھتا ہے کیونکہ افغان خواتین میں خواندگی کی شرح بہت کم ہے۔اس موقع پرگورنرپنجاب ملک رفیق رجوانہ نے کہا کہ افغان طلباکا پاکستان میں سکالرشپ حاصل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں ممالک نہ صرف محبت اور احترام کے رشتے میں جڑے ہوئے ہیں بلکہ اعتماد کی رسی کو بھی تھامے ہوئے ہیں۔ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمدنے افغانی طلبہ کو کہا کہ حکومت پاکستان نے افغانی طلبہ کیلئے یہ موقع پیدا کیا تاکہ ہم اپنے افغان بہن بھائیوں کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کر سکیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن فرد سے فرد اور ادارہ سے ادارہ کے مابین تعلقات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے مستقبل قریب میں افغانستان کی یونیورسٹیوں سے اساتذہ کو پاکستان مدعو کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ افغانستان کی افرادی قوت اور اعلیٰ تعلیم کی کوالٹی بہتر بنانے میں پاکستان مثبت کردار ادا کر سکے۔افغانستان ایجوکیشن منسٹر کے ایڈوائزر امان اللہ فقیری نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس جا کر پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات میں بہتری کیلئے کام کریں۔بلاشبہ پاکستان اور افغانستان گہرے برادرانہ اسلامی اخوت کے رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔بس تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات اور بین الاقوامی سازشوں کی وجہ سے کچھ فاصلے ضرور بڑھے ہیں لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ دونوں طرف سے ان فاصلوں کو پاٹنے کی خواہش موجود ہے سٹوڈنٹ سکالر شپ پروگرام اسی سلسلے کی کڑی ہے۔