- الإعلانات -

وغیرہ و غیرہ کالم نگار کا نامکمل سچ۔۔۔(2)

گزشتہ سے پیوستہ
۱۹۷۰ء انتخاب محب وطن حلقوں کے سوچ کے مطابق ،مجیب کے پاکستان سے علیحدگی پر مبنی اور اگر تلہ میں بھارت کی ایما پر بنائے ہوئے چھ نکات، بھٹو کے نظریہ پاکستان کے خلاف اسلامی سوشل ازم، ولی خان کی پاکستان مخالف قوم پرستی اور مفتی محمود صاحب کی مدر پارٹی ہندوستان کی کانگریسی علماء جو پاکستان کے مخالف تھے کی سوچ پر ہوئے تھے۔ جو قاعد اعظم ؒ بانی پاکستان کے دو قومی نظریہ، نظریہ پاکستان اور آئین پاکستان کے بھی مخالف سوچ کے تحت لڑے گئے تھے۔ مشرقی پاکستان میں مکمل غنڈہ گردی کا رائج تھا۔قوم پرست بنگالیوں نے کسی مخالف کو جلسہ تک نہیں کرنے دیا۔جماعت اسلامی کو پاکستان بچانے کیلئے پہلا تحفہ ایک جلسہ میں اس کے کارکن کو شہید کر کے قوم پرستوں نے دیا تھا۔ وہ الیکشن بین لاقوامی جمہوری اصولوں کے بھی خلاف تھے۔ جب غدار پاکستان نے بھارت سے مل کر پاکستان کے دو ٹکڑے کر دیے تھے۔ تو مغربی پاکستان میں نئے سرے سے عوام کی رائے لینا ضروری تھی جو نہیں لی گئی۔متحدہ پاکستان کے تحت لڑے گئے اُس وقت کے الیکشن کسی طرح بھی منصفانہ نہیں تھے ۔پاکستان جو ’’ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاللہ ‘‘ کے نام سے بنا تھا۔ پاکستان کے اسلامی نظریہ کے مطابق نہیں تھے۔ زور دبردستی، غندہ گردی، قوم پرستی اور غلط نظریات پر مبنی الیکشن تھے۔ہاں سیکولر اور بھارت نواز حلقے ان انتخابات کو صحیح مانتے ہیں۔ اب وغیرہ وغیرہ کالم نگار کے جماعت اسلامی والے نامکمل سچ کی بات کرتے ہیں۔ واہ سے نامکمل سچ تیرا کیا کہنا!۔ آیئے ہم آپ کو مکمل سچ بتائیں۔ کہتے ہیں دوسری جماعتیں کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی نے پاکستان توڑنے میں ساتھ دیابلکہ عمل بھی کیا۔ صاحبو!کیا جب کوئی دشمن ملک کسی ملک کو توڑنے کیلئے فوج کشی کرے تو محب وطن صرف تماشہ دیکھتے رہیں۔ اپنے ملک کو بچانے کے لیے اپنے ملک کی فوج کا ساتھ نہ دیں تاکہ دشمن آرام سے ان کے ملک کوتوڑ دے۔ مثلاً اگر آج خدا ناخواستہ ہمارے ملک پر ہمار ازلی ادشمن بھارت ایک بار پھرحملہ کر دے تو محبت وطن لوگ پاکستا ن کی فوج کا ساتھ نہ دیں؟جماعت اسلامی مشرقی پاکستان میں نے کیا کیا تھا۔ یہی کیا تھا نا جو محب وطنوں کو کرنا چاہیے۔ کہ محب وطن بنگالیوں کی البدر تنظیم بنا کر پاک فوج کی بغیر کسی لالچ کے صرف پاکستان کی حفاظت کے لیے ساتھ دیا تھا۔کیا یہ پاکستان بچانے کا عمل تھا کہ پاکستان توڑنے کا عمل تھا۔ کیا وغیرہ وغیرہ کے کالم نگار کو پاکستان کی ازلی دشمن اندرا کا وہ تاریخی بیان نہیں پڑھا جس میں اس نے فخریہ کہا تھا کہ ’’ دو قومی نظریہ میں نے خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے مسلمانوں سے ہزار سالہ حکمرانی کا بدلہ بھی لے لیا ہے‘‘۔ جماعت اسلامی کے بانی بار بار کہتے رہے ہیں کہ بنگلہ دیش کو قائد اعظمؒ کے تحریک پاکستان میں بیان کیے گئے اسلامی وژن ، دو قومی نظریہ اور اسلامی نظام کے نفاذ سے ہی متحد رکھا جا سکتا ہے جس پر حکمرانوں نے کان نہیں دھرے اور اور ہمارے بنگالی بھائی، جنوں نے پاکستان بنانے میں ہم سے زیادہ قربانیاں دی تھیں ہم سے الگ ہو گئے۔ کیا جماعت اسلامی نے اب تک قائد اعظم ؒ کے دو قومی نظریہ کو بنگلہ دیش میں زندہ نہیں رکھا ہوا جس کی وجہ سے اس کے سات مرکزی رہنماؤں کو بنگلہ دیش کی بھارت نواز حسینہ واجدحکمران نے سولہ پر چڑھا دیا۔ ہزاروں مرد و خواتیں کارکنوں کو پابند سلاسل کر دیا۔ ولی خان کو وغیرہ وغیرہ کا کالم نگار کی طرف سے محب وطن کے سرٹیفیکٹ کے لیے اتنا عرض ہے کہ حال میں شائع ہونے والی کتاب’’فریب ناتمام‘‘ کے اس بیان کو بھی پڑھ لیں تاکہ ریکارڈ درست ہو جائے اور مکمل سچ قارئیں کے سامنے بھی آجائے۔’’ ولی خان کی عوامی نیشنل پارٹی کے منحرف کیمونسٹ کارکن جمعہ خان صوفہ صاحب اپنی کتاب میں فرماتے ہیں’’ میں اجمل خٹک کے کہنے پر افغانستان میں خودساختہ جلا وطن تھا۔ولی خان نے افغانستان کے قوم پرست حکمران سرادار داؤد خان کو کہا تھا کہ پاکستان کی فوج بھارت سے شکست کے بعد کمزرو ہو گئی ہے۔ اس وقت پاکستان توڑ کر پشونستان بنانے کا سنہری موقعہ ہے۔ سردار داؤد نے اپنے دور حکمرانی میں فریب ناتمام کتاب کے منصنف جمعہ خاں صوفی کو یہ پیغام دے کر ولی خان کے پاس پشاور بھیجا اور کہا کہ میں آپ کے پختون زلمے(ولی خان کے نوجونوں کی تنظیم) کو فوجی تربیت دینے کے لیے تیار ہوں۔ ولی خان نے پھر پختون زلمے اور بلوچ علیحدگی پسندوں کو افغانستان بھیجا۔ ولی خان نے واپسی پیغام جمعہ خان کے ذریعے سردار داؤد کو بھیجا کی کچھ پشتون پائلٹ پشاور سے جیٹ طیارے اغوا کر کے کابل کے ہوئی اڈے پر اتریں گے ان کو پاکستان کے حوالے ہرگز نہ کرنا۔ افغانستان میں ان دہشت گردوں کے کیمپوں کاحساب کتاب یہی جمعہ خان صوفی صاحب رکھتے تھے۔ وہ بھارتی سفارت خانے سے فنڈبھی لینے جاتے تھے۔ ولی خان کے ان ٹرینڈ دہشت گردوں نے پاکستان میں دہشت پھیلائی۔ حیات محمد شیر پاؤ کو قتل کیا۔پاکستان میں جگہ جگہ دہشتگردی کی کاروائیاں کیں۔ لاہور واپڈا کے دفتر پر حملہ کیا جس میں درجن بھر شہری شہید ہوئے۔ بلوچستان میں فوج کے خلاف لڑائی شروع کی۔بھٹونے اس بغاوت کے غلاف کے فوجی ایکشن لیا۔ ولی خان کی پارٹی خلاف قانون قرار پائی۔ ولی خان پر پاکستان کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم ہوا۔ جس کو بھٹو دشمنی میں ضیاء الحق نے بعد میں ختم کیا‘‘۔ ہمارے دوست وغیرہ وغیرہ کے کالم نگار اس کتاب کو پڑھ لیں اور ایک کالم دوبارہ لکھ کر مکمل سچ بیان کر دیں تاکہ قارئین تک مکمل سچ پہنچ جائے۔ اللہ مثلِ مدینہ ریاست، مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو غداروں سے بچائے آمین۔