- الإعلانات -

پاکستان اور لٹیرے

کوئی سو سال سے بھی زیاد ہوتے ہیں جب غالب نے کہاتھا کہ **مفت کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن** لگتا ہے کہ غالب نے یہ شعر ہماری سیاسی قیادتوں کے رویوں کو ذہن میں رکھ کر لکھا تھا اور غالب کو اندازہ تھا کہ ادھارکی پیتے رہنے اور ادھار نہ چکائے جانیکی صورت میں محاسبے اور ممکنہ طور پر ہتک اور کورٹ کچہری میں کارروائی کا خدشہ بھی تھا اور انہوں نے اپنے خدشے کا اظہار بھی کردیا کہ کوئی بھی صورت حال پیش آسکتی ہے عزت چونکہ وقار کا ایک احساس ہوتا ہے جسے محسوس کیا جا سکتا ہے یہی قلق غالب کو بھی تھا کہ محسوس کریں تو ندامت نہ کریں تو حکومت ،بعینہ یہ کچھ ہمارے پیارے پاکستان میں ہو رہا ہے غالب نے تو معاملہ مفت کی مے تک محدود رکھا جس میں غالب کی ذات ہی متاثر ہوسکتی تھی لیکن ہمارے پیارے ملک میں یہ معاملہ ہے کہ 20 کروڑ انسانوں سے متعلق ہے جس سے نہ صرف عوام پاکستان براہ راست متاثر ہو رہے ہیں بلکہ اس کا اثر آئندہ نسلوں تک جائے گا اور ہمارے حکمران ہیں کہ قرضوں کی یہ مے بڑے دھڑلے سے پئے جارہے ہیں ڈالروں کے جام پر جام لنڈھائے جارہے ہیں جو نہایت بڑا قومی جرم ہے اوریہاں کسی میں احساس جرم اور ندامت کا شائبہ تک نہیں اور قرضے بھی تاریخ کے مہنگے ترین قرضے لئے گئے لیکن اب تک پتہ نہیں چل رہا تھا کہ قرضے گئے کہاں زمین پر تو کا اثر کوئی نہیں ہوا نہ کوئی ہسپتال بنا نہ صحت کے مسائل حل ہوئے نہ درسگاہیں بنیں نہ امن و امان کے مسائل حل ہوئے اور نہ نیشنل ایکشن پلان کے فوجی نکات کے علاوہ کسی نکتے پر عمل ہوا ریاست پاکستان کی اکلوتی اسٹیل مل تباہ و برباد کردی گئی جو نون لیگ کے موجودہ سینیٹر ریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم ملک کی سربراہی میں انتہائی کامیاب اور منافع بخش ادارہ تھی جب انہوں نے اسٹیل مل کا چارج چھوڑا تو 110 ارب بنک اکاونٹ میں تھے اور اس سے دوگنا مال اسٹاک میں موجود تھا اس کے بعد پیپلز پارٹی کے فاروقی برادران کا سنہری دور آیا تو انہوں نے اسٹیل مل کے ساتھ وہ سلوک کیا جو فاتح فوج مفتوحوں سے کرتی ہے فاروقی برادران کے خلاف کرپشن کے مقدمات قائم کر دئے گئے اور ان مقدمات کا حشر وہی ہوا جو پاکستان میں عموما ہوا کرتا ہے اور ان مقدمات کے عوض وفاقی محتسب بنادئے گئے یعنی ڈاکو قاضی بنا دئے گئیاور یوں معتبر قرار پائے اور ان پر مقدمات کسی کو بھی یاد نہ رہے اس کے بعد نون لیگ جیسی تجارت و صنعت دوست حکومت اقتدار میں آئی شریف خاندان جو اسٹیل کی صنعت کے جادو گر بھی کہلاتے ہیں ان کے دور میں اس مل کی حالت یہ ہوئی جیسے 71 کی جنگ کے بعد انڈیا نے مشرقی پاکستان میں صنعتوں کے ساتھ کیا تھا کراچی اسٹیل مل بند ہو چکی ہے ملازمین کو پچھلے کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں اور وہ سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں لگتا ہے کہ جنرل عبدالقیوم ملک صاحب کی انتظامی اہلیت اور لیاقت مشتبہ قرار پا چکی ہے نون لیگ کے دور میں ملکی ترقی کی کتاب میں چند سڑکوں اور پلوں کے علاوہ کچھ نہیں پیپلزپارٹی؟ زرداری پارٹی آئی کاری گر لوگ تھے لمبی الجھنوں میں الجھنے کی بجائے کہ خریداریاں کی جائیں اور لمبے لائحہ عمل اختیار کئے جائیں کاغذوں پر کارروائیاں کردی گئیں یوں ان کا کام بھی ہو گیا ترقی بھی ہو گئی اور ریکارڈ بھی بن گیا انہیں یقین تھا کہ کوئی ان کی کار گزاری کا پیچھا نہیں کیا جائے گاکہ برسر زمین کچھ ہے بھی کہ نہیں اس لئے کہ انہیں یقین تھا ان کے بعد میں آنے والے ان سے بھی بڑے کاریگر ہیں بلکہ کئی کارروائیوں کے موجد بھی، دراصل یہ امداد باہمی کا معاملہ رہا ہے اور سب کے سب ” لٹو تے پھٹو ” والی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور ایک جیسے ہیں کسی کو یہ خوف نہیں تھا کہ بعد میں آنے والے کوئی احتساب کریں گے یہی ہماری سنہری تاریخ ہے وگرنہ آج درجنوں نئی جیلیں بنانا پڑتیں ایک مختصر مدت میں ریکارڈ حد تک قرضے لے لئے گئے جب ڈکٹیٹر مشرف 2008 میں اقتدار چھوڑ کر گیا تو آئی ایم ایف کو کئی ارب ڈالر واپس کئے گئے اورواجب الادا قرضے 34 ارب ڈالر رہ گئے تھے اور ڈالر 60 روپے کا تھا گوادر کی بندرگاہ بن چکی تھی مکران کوسٹل ہائی وے اور میرانی ڈیم بن چکے تھے پشاور گوادر ہائی وے بھی کافی حد تک بن چکی تھی اس کے بعد آنے والے جمہوری حکمران 24 ارب ڈالر قرض لیکر اپنی ذاتی جمہوریت کو خاصی مضبوط کر چکے تھے جو امریکہ فرانس کینیڈا دبئی اور دیگر درجنوں مقامات پر پھل پھول رہی ہے سینما کی ٹکٹیں بلیک کرنے والے کھرب پتی بن چکے ہیں جن کے آبا قائد اعظم جیسے عظیم لیڈرکو برابھلاکہتے لیکن ان ناہنجاروں نے یہ نہیں سوچا کہ اگر قائداعظم پاکستان نہ بناتے تو یہ کھرب پتی کیسے بنتے اور آج ان کی نسلوں کے ساتھ وہی سلوک ہو رہا ہوتا جو آج انڈیا میں اقلیتوں کے ساتھ ہورہا ہے موجودہ غیرجاگیردار صنعتکار حکمران 25 ارب ڈالر غیر ملکی قرضہ اور 3.1 کھرب روپے داخلی قرضے لے چکے ہیں اور یوں ان کی جمہوریت لندن امریکہ دبئی پانامہ اور قطر میں خاصی توانا ہو چکی ہیں اور اس توانائی کی کچھ جھلکیاں آج کل چین سے بھی سامنے آئی ہیں پانامہ، مے فیئر فلیٹس ،دبئی اسٹیل ملز عزیزیہ اسٹیل مل حدیبیہ پیپر ملز اور دیگر معاملات عدالت میں جاچکے ہیں عدالت سے غلط بیانی غلط بیانی کی سزا 7 سال تک ہے لیکن سپریم کورٹ نے ” ہتھ ہولا” رکھا ہے صرف نااہل قراردیا ہے پورا ٹبر ہی ملزم قرار پا چکا ہے وزیر خزانہ پر آمدنی سے زیادہ اثاثے رکھنے کا الزام ہے جو چند سالوں میں 91 گنا بڑھ چکے ہیں ان کی ترقی کا سہانہ سفر سائکلیں کرائے پر دینے سے شروع ہوا تھابیٹے کھرب پتی بن چکے ہیں دبئی میں کئی بلند و بالا بلڈنگوں کے مالک ہیں دنیا کی مہنگی ترین گاڑیوں کے شو روم کے مالک ہیں وزیر خزانہ اسے برکت کا شاخسانہ قرادیتے ہیں موصوف میاں خاندان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں اور عدالت میں بیان حلفی دے چکے ہیں جس میں ثبوت مکمل ہیں عدالت میں فرد جرم عائد ہو چکی ہے وزارت چھوڑنے سے انکار کر چکے ہیں غیرت مند لوگ تو محض الزام پر مستعفی ہو جاتے ہیں لگتا ہے کہ آقا انہیں ایسا نہیں کرنے دے رہے کہ ابھی ملکی معیشت پوری طرح تباہ نہیں ہوئی یہی دشمنوں کا ایجنڈہ ہے ،لگتا ہے کہ موصوف اپنے لیڈر کی طرح پوری عزت سے نکالے جانے کے خواہشمند ہیں ملکی معیشت جس حال کو پہنچا چکے ہیں کوئی اور ملک ہوتا تو جھولا جھلا دیتا غرض یہ کہ مقتدر شب و روز اپنی جمہوریت مضبوط سے مضبوط تر کر رہے ہیں ادھر حلیفوں مولانا صاحب ،چادرپوشوں اور سرخپوشوں کی جمہوریت بھی خاصی توانا ہو چکی ہے بلکہ سرخپوش تو امریکی لانڈری سے سرخیاں دھلوا چکے ہیں سب بظاہر سرخ نظر آنے والا رنگ ہرا ہو چکا ہے اور تمام شرکا جمہوریت کی ترقی کا عمل پورے زور و شور سے جاری وساری ہے اور اگر ترقی ایسے ہی جاری رہی تو پاکستان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو جائیں گے ملک پر واجب الادا سود قومی پیداوار سے بڑھ چکا ہے اور ریاست پاکستان سود ادا کرنے کے قابل بھی نہ رہی جو بہت قریب ہے اسطرح خدا نہ خواستہ ہمارا ملک جمہوریت کے فیوض و برکات کی تاب نہ لاتے ہوئے ڈیفالٹ کر جائے گا ہمارے دوستوں کا منصوبہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کو اتنا مضبوط اوراتنا توانا کردیا جائے کہ ملک ہی نظر نہ آئے صرف جمہوریت ہی جمہوریت رہ جائے اس کے بعد امکانی طور پر مطالبہ آ سکتا ہے کہ اثاثے ہمارے حوالے کردو جن کی آبیاری قوم نے اپنے خون جگر سے کی ہے اور یہی ہمارے دشمنوں کا اصل ہدف ہے اور اس کی ایک سے زیادہ وجوہات ہیں پہلے پہل تو ہمارا جوہری پروگرام جو بھارت کی نیندیں اڑائے ہو ہے خاص طور پر ٹیکٹیکل ویپن جنہوں نے انڈیا کی کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرن کا ستیا ناس کرکے رکھ دیا جس کو انڈیا نے اربوں ڈالر خرچ کرکے پلان کیا تھا یوں انڈیا کی 25 سال کی پلاننگ اور سرمایہ ضایع ہو گیا ہم ہیں کہ ہرا مشروب پی کر سو رہے ہیں وطن عزیز پر چاروں جانب سے یلغار شروع ہو چکی ہے قومی ڈھال بنے ہوئے اداروں کو منظم طریقے سے بدنام کیا جارہا ہے نام نہاد اور مشکوک کردار کے حامل رہنماؤں کی جانب سے عدلیہ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ وہ دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کے فیصلے لے سکیں دانستہ طور پر دوست دشمن بنائے جا رہے ہیں شاید یہی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے انڈیا پھر سے بارڈر گرم کر چکا ہے آئے روز لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ہو رہی ہے اب بھی وقت ہے عام آدمی قوم بنے بحیثیت قوم جاگیں اور آنے والے خطرات کا ادراک کریں اور اسکے مقابلے کی تیاری کریں یہ ہمارا اور ہمارے بچوں کا ملک ہے رہنماؤں کا حال آپ دیکھ چکے ہیں سب کے بچے اور مال و متاع ملک سے باہر ہے یہ صرف لوٹنے کے لئے آتے ہیں اور لوٹ کر اڑن چھو یو جاتے ہیں اللہ ہمارے چھپے اور ظاہری دشمن دونوں کا منہ کالا کرے دنیا اور آخرت میں ذلیل و رسوا ہوں اللہ ان خون چوسنے والی جونکوں سے نجات عطا فرمائے اللہ اس وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے ۔آمین
****