- الإعلانات -

افغانستان۔وسائل پر قبضے کی جنگ

اقوام متحدہ کے حالیہ سالانہ اجلاس کے موقع پرافغان صدر اور امریکی صدر کے درمیان اہم ملاقاتیں ہوئیں۔جن میں افغانستان میں طویل امریکی جنگ اور شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرے کو ختم کرنے پر بات چیت ہوئی۔جبکہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائین میں کی گئی ملاقات میں دونو ں صدور نے خاص طور پرامریکی کمپنیوں کی جانب سے افغان معدنی ذخائر کی تلاش جیسے موضو عا ت کو فوقیت دی۔ ملاقات کے بعد بتایا گیا کہ معدنی ذخائر کی تلاش کے عمل میں امریکی کمپنیوں کی شمولیت سے کابل کی اقتصادی پالیسیوں کو تقویت حاصل ہو گی۔امریکی صدر ٹرمپ کی افغانستان کے معدنی ذخائر میں دلچسپی اور انتخابی مہم میں انخلا کے وعدے کے باوجود امریکی افواج کی افغانستان میں مزید توسیع کے اعلان کے پیچھے ناقدین دہشتگردی کے خاتمے سے زیادہ دیگر محرکات کو دیکھ رہے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کا وعدہ کیا تھا تاہم ان کی نئی حکمت عملی کے مطابق فی الحال ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا اوراب افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے تک امریکی افواج وہیں تعینات رہیں گی۔اس سے صاف واضح یہ ہوا کہ امریکہ کم از کم ٹرمپ کے ہوتے ہوئے کہیں نہیں جا رہا۔بظاہر غنی اور ٹرمپ حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ امریکی دستوں کے افغانستان میں قیام کی بڑی وجہ وہاں پچھلے چند ماہ کے دوران دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں ہیں تاہم کئی تجزیہ کاروں اور ماہرین کے مطابق افغانستان میں امریکی دستوں کی موجودگی میں توسیع کے فیصلے کے پیچھے کھربوں ڈالر کے معدنی ذخائر ہیں جن پر ہر دور میں حریصانہ نظر رکھی گئی۔ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں معدنی ذخائر کی مالیت ایک سے تین کھرب ڈالر کے درمیان ہے۔زمینی ذخائر سے مالا مال اس ملک میں تانبا، لوہا، پارہ، کرومائٹ اور زِنک کے ساتھ ساتھ سونے اور چاندی کے بھی ذخائر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ لیتھیم کے بہت بڑے ذخائر بھی دستیاب ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ لیتھیم جو موبائل فون سے لے کر لیپ ٹاپ کی بیٹریوں میں استعمال ہوتا ہے اور مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں کیلئے بھی لیتھیم کا استعمال اہم ترین ہو گا۔نیو یارک ٹائمز نے پچھلے ماہ اپنی رپورٹوں میں لکھا تھا کہ عین ممکن ہے کہ اسی سبب امریکی افواج کا افغانستان میں قیام مزید طویل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہو۔یقیناًان نایاب معدنیات کے حصول سے جنگ سے متاثر افغانستان کو فائدہ پہنچے گا لیکن ٹرمپ اس اقتصادی موقع سے خوب فائدہ اٹھانا چاہیں گے۔پچھلے دنوں افغان صدر نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ وہ امریکہ کی افغانستان سے متعلق نئی پالیسی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے افغانستان اور امریکہ کے مشترکہ اقتصادی تعاون کو اہمیت دیتے ہوئے اس کو خطے کیلئے خوش آئند قرار دیا۔غنی کا مزید کہنا تھا، ہمیں اب اس چودہ سالہ طویل افغان تنازعے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں، جو خزانے ہمارے ملک کے پاس ہیں، ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔صدر غنی نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ دہائیوں میں جاری خلفشار کی وجہ سے افغانستان کو خطے میں سب سے زیادہ نقصان پہنچا، جبکہ افغانستان قدرتی وسائل سے مال مال ہے۔ناقدین کا یہ کہنا بالکل درست معلوم ہوتا ہے کہ اگر امریکی صدر نے افغانستان میں دہشتگردی کی آڑ میں کان کنی کو مال غنیمت سمجھ کر استعمال کیا تو اس سے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں، جس کا نتیجہ ملک میں تشدد کے واقعات میں اضافہ اور امریکی فوجیوں پر حملوں میں تیزی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔2007 میں امریکی جیولوجیکل سروے کی ایک رپورٹ کے بعد سے افغانستان میں پوشیدہ ذخائر بین الاقوامی دلچسپی کا مر کز بنے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ اب تک ایک خواب ہی ہے کہ ان معدنی ذخائر کے ذریعے جنگ سے تباہ حال افغان باشندوں کو غربت سے چھٹکارا مل پائے گا۔افغانستان کے یہ معدنی ذخائر ہمیشہ ہی سے علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کو اپنی طرف کھینچتے آئے ہیں۔ قبل ازیں برطانیہ اور روس اس علاقے پر قابض ہونا چاہتے تھے۔اس وقت اس کھیل کو گریٹ گیم کا نام دیا گیا تھا۔افغانستان کے معدنی ذخائر کی مالیت اربوں ڈالر بتائی جاتی ہے اسی لیے ماہرین کے نزدیک یہ ایک ایسا کیک ہے،جس پر اب بھارت اور امریکہ کا ایکا ہے۔ ماہرین کے خیال میں افغانستان میں دہشت گردی کے ساتھ ساتھ یہ وسائل پر قبضے کی جنگ بھی ہے۔اس امر کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جولائی کے وسط میں وائٹ ہاس کے سیچوایشن روم میں ہونے والے ایک اجلاس صدر ٹرمپ نے صاف صاف کہہ دیا کہ افغانستان کی مدد اور حمایت کے بدلے افغان حکومت سے ملک کے تقریبا ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے قدرتی ذخائر سے حصہ طلب کیا جائے۔اس کے جواب میں سکیورٹی حکام نے کہا کہ پورے ملک پر کنٹرول حاصل کیے بغیر افغانستان کی معدنی دولت کی مارکیٹ میں داخل ہونا ممکن نہیں ہے۔ پھر صدر ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں کام کرنے والی چینی کمپنیاں تو کان کنی میں منافع کما رہی ہیں۔ادھر افغان صدر اشرف غنی کی دلچسپی بھی اسی میں ہے کہ امریکہ زیادہ سے زیادہ افغانستان میں قیام کرے تاکہ ان کی حکومت کو سہارا ملتا رہے۔

خواہشیں۔۔۔ شوق موسوی
سب کی مخالفت میں گو! لہجہ ہمیشہ سخت ہے
وہ تو وطن میں ہر کسی شخص کے ہیں بہت خلاف
خود کو وزیراعظم پاک زمیں بنائیں گے
شاید نہ بننا چاہیں وہ قائد حزبِ اختلاف