- الإعلانات -

یوم عاشور، مذہبی روادا ری اور فعا ل سیکیورٹی انتظامات

ملک بھر میں یوم عاشور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ نواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے چھوٹے بڑے قصبوں اور شہروں میں ذوالجناح علم اور تعزیے کے جلوس برآمد ہوئے ، عزاداروں نے امام عالی مقام اور ان کے ساتھیوں کو ماتم داری اور زنجیر زنی کے ذریعے نذرانہ عقیدت پیش کیا، نوحے اور مرثیہ پیش کیے گئے۔ ذاکرین نے امام حسینؓ کے فلسفہ شہادت پر روشنی ڈالی اور کہاکہ کرب و بلا میں نواسہ رسولؐ نے اپنا کنبہ دین اسلام کیلئے قربان کردیا مگر باطل کے سامنے جھکنا گواراہ نہ کیا۔ اسلام کی سربلندی اور بقاء کیلئے کربلا کے مقام پر دی جانے والی قربانی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہر طرف اسلام کی شمع روشن دکھائی دیتی ہے۔ حق اور باطل کے معرکے میں بظاہر تو یزید کی جیت دکھائی دی لیکن وہ دائمی موت مر گیا اور آج اس کا نام لیوا کوئی نہیں۔ امام حسینؓ نے حق و صداقت کیلئے جو قربانی دی یہ ایک ایسی عظیم قربانی ہے جو اس سے پہلے نہ کسی نے دی اور نہ کوئی دے پائے گا۔ نواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؓ کی قربانی کا یہ اعجاز ہے کہ آج دین اسلام کی سربلندی دکھائی دیتی ہے اور حسینیت ہر طرف چھائی ہوئی ہے اور یزیدیت کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔ اس قربانی کا یہ درس ہے کہ جابر سے جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بیان کرنے سے گریز نہ کیا جائے اور اگر اسلام کی خاطر ہمیں اپنا جان و مال قربان کرنا پڑ جائے تو دریغ نہ کیا جائے۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کرب و بلا کے بعد۔ یوم عاشور کے موقع پر امن و امان قائم رکھنے کیلئے سخت سیکورٹی کے انتظامات دیکھنے میں آئے ، پولیس کے ساتھ ساتھ پاک فوج، رینجرز اور ایف سی نے انتہائی فرض شناسی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دئیے جس سے کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا، تمام مسالک نے اپنے اپنے انداز میں امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں کو اپنے اپنے انداز میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ آج مسلمان بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور نااتفاقی کی وجہ سے یہودونصاریٰ غالب دکھائی دیتے ہیں ، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اسوہ شبیری کو اپنائیں تاکہ مسائل اور مصائب کے گرداب سے نکل سکیں۔ شہدائے کربلا کی قربانی ہمیں یہ درس دیتی ہے حق کی خاطر اپنی جان و مال لوٹا دیں اور باطل کے سامنے کبھی نہ جھکیں حسینیت نے جس طرح یزیدیت کو شکست دی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ حسینؓ کی قربانی کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دوام مل گیا اور یزیت ہمیشہ کیلئے ختم ہوگئی۔ یوم عاشور پر سیکورٹی کے موثر اور فعال انتظامات لائق تحسین ہیں ۔ شیعہ سنی مسالک کے لوگوں نے جس مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا یہ قابل ستائش ہے ۔ حکومت کے بہترین حفاظتی انتظامات بھی قابل تعریف قرار پائے ہیں۔ امام حسینؓ نے اسلام کی سربلندی اور بقاء کیلئے جو قربانی دی ہے اس پر آج عالم اسلام اور انسانیت رشک کررہی ہے۔ انسانیت کو اس پر ناز ہے ، نواسہ رسولؐ کی قربانی ایک ایسی عظیم قربانی ہے جو کسی نے نہ دی ہے نہ کوئی دے پائے گا۔ تمام مسالک کے علماء کو چاہیے کہ وہ آپس میں مل جل کر رہیں اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیں کیونکہ ملک کو اس وقت مذہبی رواداری کی انتہائی ضرورت ہے نفاق ہمارے لئے نقصان دہ ہے ہمیں فرقہ واریت سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہے اور درس کربلا سے سبق حاصل کرنا ہے۔ درس کربلا یہ ہے کہ ہم آپس میں مل جل کر رہیں اور فاسق اور فاجر یزید کے عبرتناک انجام سے سبق حاصل کریں۔ امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ اور انکے جانثار ساتھیوں کو جتنا بھی نذرانہ عقیدت پیش کیا جائے کم ہے۔ امام حسینؓ نے اپنا گھر بار لوٹا کر اپنے نانا کا دین بچا لیا۔ آج اسلام کی جوشمعیں جل رہی ہیں وہ اسی قربانی کا پیش خیمہ ہیں۔ مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے اس تسلسل کو جاری رہنا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر لانے کا معاملہ ،اتفاق رائے کی ضرورت
اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے کہنے پر فخر الدین جی ابراہیم کو چیف الیکشن کمشنر لگایا تھا اور فخر الدین جی ابراہیم کے کہنے پر ہی 2013میں نگران وزیراعظم لگایا ، پی ٹی آئی کو اپوزیشن لیڈر لانے کی خواہش تھی تو بتا دیتے ان کی خواہش کا احترام کیاجاتا لیکن پی ٹی آئی نے ہمیشہ ناپختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کو فائدہ پہنچایا ہے۔تحریک انصاف نے متحدہ اپوزیشن کو توڑ دیا ہے جس سے میرا دل بہت زیادہ دکھی ہے۔اگر تحریک انصاف کو اپوزیشن لیڈر تبدیل کرنا ہی تھا تو مجھے بتا دیتے میں خود تبدیل ہوجاتا ۔ایم کیو ایم دو ماہ پہلے تک تو حکومت میں تھی لیکن آج کل معلوم نہیں کہ ایم کیو ایم لڑکی والوں کے ساتھ ہے یا لڑکے والوں کے۔ اگر پی ٹی آئی اسی طرح اپوزیشن کو تقسیم کرتی رہی تو اس کا فائدہ حکومت کو ہوگا۔ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام دوست اور اپوزیشن جماعتیں قومی اسمبلی میں میرے ساتھ کھڑی ہیں ۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ ناپختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کو ہی فائدہ پہنچایا ہے ۔ماضی میں نگران وزیراعظم اور چیف الیکشن کمشنر پی ٹی آئی کی مرضی سے لگے تھے۔ پی ٹی آئی نے اپوزیشن میں بہت بڑی دراڑ ڈال دی ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر پی ٹی آئی ، پیپلزپارٹی کے درمیان بڑھتے فاصلے اس امر کا عکاس ہیں کہ سیاسی جماعتوں میں سیاسی رواداری کا فقدان ہے بہتر ہوتا کہ اتفاق رائے سے اپوزیشن لیڈر لایا جاتا۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ
حکومت نے عوام پر ایک اور پٹرول بم گرا دیا ہے جس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے جو غریب عوام پر بوجھ کا باعث قرار پایا ہے ۔حکومت نے پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت بڑھا دی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے اور مٹی کے تیل کی فی لٹر قیمت میں 4 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ پٹرول کی نئی قیمت 73 روپے 50 پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل کی 79 روپے 40 پیسے اور مٹی کے تیل کی 48 روپے فی لٹر ہوگی۔ لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 46 روپے فی لٹر ہوگی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اقتصادی ماہرین نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اضافے سے مہنگائی اور عوامی مشکلات بڑھیں گی۔ سیاسی جماعتوں نے بھی قیمتوں میں اضافے کیخلاف قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں آواز اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے اوگرا نے پٹرول کی قیمت میں 2.35 روپے ڈیزل کیلئے 2.17 روپے مٹی کے تیل میں 19 روپے 32 پیسے لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 9 پیسے لیٹر اضافے کی سفارش کی تھی۔ حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف بہم پہنچائے لیکن تعجب ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے ان کیلئے مشکلات بڑھا رہی ہے ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کیلئے پریشانی کا باعث ہے جس سے ان کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کرے اور ان میں استحکام لانے کی کوشش کرے۔ اس وقت عوام مہنگائی، بیروزگاری کے گرداب میں پھنسے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور اوپر سے ان پر پٹرول بم گرانا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ عوام حکومت سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے مسائل و مشکلات کے حل کیلئے موثر اقدام کرے گی۔ اسی آس پہ وہ بیٹھے ہوئے ہیں۔