- الإعلانات -

ادارے اور حکومتی رویے۔۔۔(پہلی قسط)

دنیا بھر کی ریاستیں اپنے لئے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لئے حفاظتی اقدامات کرتی ہیں جس میں کچھ اقدامات فوری خطرے سے نمٹنے کے لئے اٹھائے جاتے ہیں کچھ اقدامات ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لئے اٹھائے جاتے ہیں اور کچھ اقدامات مستقبل کے خطرات سے نمٹنے اور انہیں وقت سے پہلے روک دینے کے اقدامات ہوتے ہیں اور یہ مشکل ترین کام ہوتا ہے جس میں اللہ کے شیر وہاں تک جاتے ہیں جہاں کبھی کبھی ان کی ذات کی نفی ہو جاتی ہے اور یہ یکطرفہ مشن بھی ہوسکتا ہے جہاں اپنی ذات اپنے رشتے ناطے اپنے پیاروں تک کو تج دینا پڑتا ہے یہاں تنخواہ عہدے اختیارات غیر متعلق ہو جاتے ہیں صرف صرف اور صرف قوم و ملک یاد رہتے ہیں اور مشن وطن کی حفاظت اس سے کم کچھ نہیں اللہ نے ہمیں جو خطہ دیا ہے یہ انتہائی مردم خیز ہے اور اللہ نے اس وطن کے لوگوں کے دلوں میں ایمان کی دولت اور حب وطن بھر رکھی ہے جو ہمہ وقت موجزن رہتی ہے وطن عزیز پاکستان کیمحل وقوع کی وجہ سے یہ دنیا کا انتہائی اہم خطہ ہے جہاں اقتصادی ارتکاز ہے چین ایک بڑی اور مسلمہ اقتصادی قوت ہے اور ہندوستان بھی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے اس کے علاوہ اسٹریٹجک لحاظ سے پاکستان ایک ایسی جگہ واقع ہے کہ پوری دنیا کو پاکستان کی ضرورت ہے اقتصادی لحاظ سے ہماری اہمیت یہ ہے کہ ہم شمال اور جنوب کے درمیان پل ہیں چین دنیا کی برق رفتاری سے ترقی کرتی معیشت ہے چین کو یہ اعزاز دو دہائیوں سے حاصل ہے اس بڑی اور تیز رفتار معیشت کو رواں دواں رکھنے کے لئے چین کو بھاری مقدار میں توانائی کی ضرورت رہتی ہے جس کا سب سے بڑا مصدر مشرق وسطی ہے جہاں سے چین اپنی ضروریات کا تیل چین لے جاتا ہے امریکہ خطے کے ممالک انڈیا جاپان آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کو اپنے ساتھ ملا کر چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت کو ایشیا اور افریقہ تک پھیلنے سے روکنا چاہتا ہے امریکہ کی قیادت میں یہ ممالک ملکر چین کی خط حیات اس کے بحری راستوں میں مزاحم ہونا چاہتے ہیں اس دباؤ کو چین نے بڑی شدت سے محسوس کیا ہے چین کیلئے ایشیا اور افریقہ تک پہنچنے کا ایک ہی راستہ ہے جو آبنائے ملاکا جیسے تنگ بحری درے سے ہو کر گزرتا ہے جو کسی بھی وقت بلاک کیا جاسکتا ہے تاریخی لحاظ سے شمالی اور مرکزی ایشیا کے ملکوں کی گرم سمندروں تک رسائی ایک خواب رہی ہے جس کی تگ و دو میں سوویت یونین اپنا آپ گنوا بیٹھا لیکن آج زمینی حقائق بدل چکے ہیں چین سے ہماری دوستی ضرب المثل بن چکی ہے روس اور پاکستان میں دوستانہ تعلقات روز افزوں ہیں پچھلے دو دن سے روس اور پاکستان کی فوجیں روس میں مشترکہ جنگی مشقیں کر رہی ہیں روس انڈیا کے شدید دباؤ بلکہ بین تک ڈالنے کے باوجود اپنے جدید ترین جنگی ہیلیکاپٹر پاکستان کو دینے پر آمادگی کا اظہار کر چکا ہے روس اور مرکزی ایشائی ریاستیں سی پیک میں شامل ہیں امریکہ کسی قیمت پر یہ نہیں چاہتا کہ ہم چین اور ایشیا افریقہ کے درمیان پل بنیں امریکہ نے ہمارا دوست بن کر ہمیشہ دھوکے دئے اقتصادی امداد کے نام پر امداد دے کراس کا 50 سے ساٹھ فیصد مشاورت کے نام پر اور دیگر حیلوں بہانوں سے واپس لے لیتا ہے جو باقی بچتا وہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے یہ بیانیہ کسی عام شخص کا نہیں بلکہ سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی کا ہے کہ جب امریکی سینیٹر جان کیری نے یہ کہا کہ ہم نے پاکستان کو اتنا کچھ دیا ہے وغیرہ وغیرہ تو چوہدری صاحب نے کہا کہ ہمیں کچھ مت دیں لیکن جو دیا ہے اس کا آڈٹ کروا لیں تو جان کیری جھینپ گئے اور بات بدل دی یعنی ان کو واردات کا پورا پتہ ہے یہ تاریخ ہے کہ امریکہ نے کبھی سیٹو تو کبھی سیٹو میں پاکستان کا خوب استعمال کیا اور ہمیں اپنے مقصد کے حصول کی حد تک ہی زندہ رکھا ہمیں نہ مرنے دیا اور نہ جینے انہیں پالیسیوں کی وجہ سے مشرق وسطی کے ممالک سے ہماری دوری رہی بلکہ مصر اور عراق پاکستان کو امریکی مہرہ قرار دے کر پاکستان میں تخریب کاری کو ہو دیتے رہے ہیں عراقی سفارتی کارگو سے ملنے والے ہتھیاروں کی بھاری تعداد لوگوں کو یاد ہو گی بھارت ادھر روس سے فوجی معاہدے کے باوجود دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک غیر وابستہ ممالک کا سرخیل بنا رہا اور تیز سفارتی مکاری کے سبب پاکستان کے لئے مسائل پیدا کرتا رہا امریکہ بظاہر ہمارا دوست بنا رہا لیکن 50 کی دہائی سے بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھانے کی خفیہ کوششیں کرتا رہا موقع ملنے پر یکطرفہ طور پر انڈیا سے 25 ارب ڈالر کا جوہری معاہدہ کر لیا اور ہمارے تحفظات کو ہوا میں اڑا دیا بلکہ اسے نیوکلیئر سپلائی گروپ کا ممبر بنوا دیا چونکہ بھارت کو ہم سے خدا واسطے کا بیر ہے جب سے ہم نے سی پیک شروع کیا ہے امریکہ کھل کر سامنے آگیا ہے اور انڈیا کی بولی بولنے لگ گیا ہے ہرجگہ ہمیں ہی دبانے کی کوشش کرتا رہتا ہے اور اس نے ہماری سیاسی اشرافیہ میں اپنے ہمنوا پیدا کر لئے ہیں جو امریکی اشارہ جو اب بھارتی اشارہ بن چکا ہے انہی اشاروں پر پاکستان میں انہیں کی پالیسیاں نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے دانستہ کمزور سفارت کاری اور غیر پیداواری مدات میں بھاری سود پر مہنگے قرضے لئے جا رہے ہیں جن سے نہ تو بے روزگاری میں کمی ہو رہی ہے ریل اور قومی ایئرلائن تباہ ہو چکی ہیں ہسپتالوں کا برا حال ہے میٹرو اور پلوں پر زور ہے فنانشل ہٹ میں والی پالیسیاں چل رہی ہیں آئینی حدود سے قرضے متجاوز ہیں پچھلی دو حکومتیں قومی قرضے 34 ارب ڈالر سے 80 ارب ڈالر تک پہنچا چکی ہیں وزیر خزانہ پر فرد جرم عاید ہو چکی ہے ماہرین کے مطابق یہ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے لیکن موصوف وزارت کو پوری شدت سے جپھا ڈالے بیٹھے ہیں سمجھتے ہیں کہ ابھی ملک کی اقتصادیات کا بیڑہ پوری طرح غرق نہیں ہوا امریکہ اقتصادی اور فوجی دباؤ مسلسل بڑھا رہا ہے بلکہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے رہا ہے حکومت اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو اپنی لوٹ مار کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے اور باقائدہ انڈیا کی لائن لے چکی ہے اور اداروں کے خلاف مورچہ زن ہو چکی ہے سپہ سالار کہتے ہیں کہ ہمیں ڈو مور کہنے کی بحائے کہنے والے خود ڈو مور کریں لیکن ہمارے وزیر خارجہ اس کے بالکل برعکس کہ رہے ہیں کہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا ہے تو کیا پچھلے چار سال سے آپ بھاڑ جھونک رہے تھے گھر ٹھیک کیوں نہیں کیا فوج نے ملک سے دہشت گردی کو اکھاڑ پھینکا ہے کیا سول حکومت کو توفیق ہوئی ہے کہ دہشتگردوں سیخالی کرائے گئے علاقوں میں اپنی رٹ اور انتظامیہ بحال کرے یا صرف مال شال ہی ماٹو ہے (۔۔۔جاری ہے)