- الإعلانات -

دہشت گردی بھارتی کوکھ سے جنم لے رہی ہے

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گرد ریاست ہے۔ ہم غربت اور پاکستان ہم سے لڑرہا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے سوالوں کا جواب دینے کی بجائے بھارت کی نام نہاد ترقی پر بھاشن دیتی رہیں اور پاکستان پر وہی گھسے پٹے بے بنیاد الزامات لگاتی رہیں جو ہر بار اقوام عالم کے سامنے خود کو معصوم ظاہر کرنے کے لئے لگائے جاتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا ہم نے شاندار ادارے بنائے جبکہ پاکستان نے دہشت گردی کی فیکٹریاں بنائیں۔ ہمارے سائنسی اور ٹیکنیکل ادارے دنیا کیلئے فخر کا باعث ہیں جبکہ پاکستان نے دنیا کو کیا پیش کیا ہے۔ ہم نے سکالرز، ڈاکٹرز، انجینئرز پیدا کئے جبکہ تم نے دہشت گرد پیدا کئے۔ ڈاکٹرز لوگوں کو موت سے بچاتے ہیں جبکہ دہشت گرد انہیں موت کے گھاٹ اتارتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے پاکستان پر دہشت گرد برآمد کرنے کے بھارتی الزامات مسترد کرتے ہوئے بھارت کو جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں اور سرپرست اعلیٰ ریاست قرار دیا۔ ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سب سے بڑی منافقت ہے۔ بھارت، پاکستان کے خلاف بہتان تراشی پر اتر آیا ہے۔ پاکستان، بھارت کے ساتھ تمام مسائل کا حل مذاکرات سے چاہتا ہے کیونکہ مذاکرات کیلئے پاکستان کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ کامیاب مذاکرات کیلئے بھارت کو دہشت گردی کی پالیسی ترک کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی معاونت بند کرنی ہو گی۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ کشمیر پر بھارتی قبضہ غیر قانونی ہے اور وادی میں بھارتی جرائم کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل سے انکار دھوکا اور کھلی جارحیت ہے۔ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں لیکن بھارت نے اس پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں بیگناہ کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کر رہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ پر تنقید کرنیوالوں کے ہاتھ گجرات میں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں۔ بھارت میں کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں۔ ملیحہ لودھی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو سیز فائر کی خلاف ورزی سے روکے۔ بھارت نے اپنے ہر پڑوسی سے جنگیں لڑیں اور بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی معاونت بند کرے۔ پاکستان میں جاری دہشت گردی میں بھارتی ہاتھ کے ملوث ہونے کے حوالے سے پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کو ریاستی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے اور حال ہی میں بلوچستان میں پکڑے گئے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے بھی پاکستان میں دہشت گردی کروانے اوراسکی معاونت اور جاسوسی کا اعتراف کیا تھا۔جہاں تک علاقائی دہشت گردی کا سوال ہے تو بھارتی دہشت گردی کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی کہ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے اعتراف کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے آپس میں گہرے تعلقات ہیں اور اس حوالے سے امریکہ کوبھی شدید تحفظات ہیں۔ امریکہ نے بھی تشویش کا اظہارکرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی اور ٹی ٹی پی کے تعلقات کم کرنے کے لئے بھارت پر دباؤ بڑھانا شروع کردیا ہے۔ ٹی ٹی پی اور را کے تعلقات کا انکشاف پہلی بار طالبان کمانڈر احسان اللہ احسان کی گرفتاری کے بعد ہوا۔ امریکا نے بھی اس معاملے پر پاکستان کے موقف کو تسلیم کرلیا اور کہا ہے کہ افغانستان کے قیام امن میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اخبار نے مزید لکھا ہے بھارت دنیا بھر کی مسلسل مخالفتوں کے باوجود دہشتگرد کالعدم تنظیموں سے اپنا تعلق ختم نہیں کررہا جو اس کے لئے مستقبل میں نقصان دہ ہوگا۔ معروف بھارتی اخبار کی جانب سے طالبان اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے مابین رابطوں کا اعتراف پاکستان کے اس موقف کی تصدیق ہے جس کے تحت بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے دہشت گردوں کے ساتھ مل کر پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے درجنوں واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے ہیں۔ بھارت کے اسی منفی کردار کی وجہ سے پاکستان بھارت کے افغانستان میں کسی بھی قسم کے رول کے مخالف ہے جس کا واضح اظہار وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر کیا۔ افغانستان اور خطے میں قیام امن کے لئے ضروری ہے بھارت اور دہشت گرد تنظیموں کے گٹھ جوڑ کو ختم کیا جائے۔ بھارت کا تحریک طالبان پاکستان سے گٹھ جوڑ بے نقاب ہوگیا۔باقی جہاں تک بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی اقوام متحدہ میں زہر آلود تقریر کا سوال ہے تو انہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنا کچھ راس نہیں آیا ۔ اپنے خطاب کے آخر میں سشما سوراج نے پاکستان کے خلاف خوب زہر اگلا اور کہا کہ ان کا ملک سکالرز، ڈاکٹرز اور انجینئرز پیدا کر رہا ہے جبکہ پاکستان دہشتگرد اور جہادی پیدا کر رہا ہے۔اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ انگلینڈ میں کام کرنے والے ڈاکٹرز میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی ہے ۔ اسی طرح پاکستان امریکہ کو ڈاکٹرز کی کھیپ فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ اس وقت پاکستان کے ہر 10 ہزار میں سے 8 لوگ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں جبکہ بھارت میں یہی تعداد صرف 6 ہے اس لیے پاکستان اب بھی بھارت سے بہت آگے ہے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یو این او کی جنرل اسمبلی سے خطاب حقائق پر مبنی اور قوم کی امنگوں کے عین مطابق تھا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں بھارت کو خطے میں امن کا دشمن قرار دیا۔ بھارت کے جارحانہ رویئے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں اس کے مظالم اور بربریت کا پردہ چاک کیا۔ مذاکرات سے بھارتی فرار کی کوششوں سے دنیا کو آگاہ کیا اور مسئلہ کشمیر کے اسی حل پر زور دیا جس کی تجویز اقوام متحدہ نے کشمیریوں کیلئے استصواب رائے کی صورت میں پیش کی تھی۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی سات لاکھ سفاک سپاہ کے مظالم اور بربریت مانیٹر کرنے کیلئے وزیراعظم خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کا نمائندہ خصوصی مقرر کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔وزیراعظم خاقان عباسی کی طرف سے حقائق سامنے لانے پر بھارت چراغ پا ہو گیا۔ انڈین میڈیا میں کہرام کی کیفیت تھی۔ بھارتی لیڈر غصے میں پاگل ہو کرہذیان بک رہے تھے۔ سشما سوراج کو اقوام متحدہ میں خطاب کا موقع ملا تو اس نے پاکستان کے خلاف زہر اْگلنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بے معنی اور لایعنی دلیلیں دیتی رہیں۔ جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کر رہی ہیں اس کو بھول گئیں۔ سکھوں پر جس طرح بربریت کی گئی اس کو اخفاء میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ گائے ذبح کرنے کے الزام لگا کر مسلمانوں کو بے دردی سے ذبح کردیاجاتا ہے۔ بھارت میں کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں۔ گرجے جلائے جاتے ہیں،عیسائی مشنریوں کو نشان عبرت بنایا جاتا ہے۔ پاکستان میں آج تک جتنے حکمران آئے ان پر کرپشن اور آمریت و آمرانہ رویوں کا الزام لگ سکتا ہے لیکن کسی ایک پر بھی دہشت گرد ہونے کا الزام نہیں جبکہ نریندر مودی امریکہ کا ڈیکلیئر کیا ہوا دہشت گرد ہے۔ اس پر وزیراعظم بننے سے قبل تک امریکہ میں داخلے پر پابندی تھی۔ اس کے تو سادھو سنت بھی دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ آپ کے’’شاندار اداروں‘‘ میں بھی دہشتگرد پلتے ہیں۔ سمجھوتہ ایکسپریس میں انسانوں کو سرکاری پرستی میں جلانے والے ڈرامے کیا ریاستی دہشتگردی سے کم ہیں۔پاکستان کی خارجہ پالیسی آج درست سمت میں گامزن ہے۔ وزیراعظم خاقان عباسی نے بھارتی خارجہ پالیسی کے بخیئے ادھیڑ کر رکھ دیئے جس پر بھارت کی چیخیں سنائی دے رہی ہیں۔ پاکستان کو خارجہ میدان میں اپنے گھوڑے سرپٹ دوڑانے چاہئیں۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ ہر ملک کے دفتر خارجہ تک پہنچائی جائے۔ سفیروں کو خواب غفلت سے جگا کر متحرک کیا جائے۔میڈیا میں اس رپورٹ کو ٹاپ ٹرینڈ بنانے کی ضرورت ہے۔ بھارت واقعی دہشتگردی کی ماں ہے۔ اصولی طور پر تو ایسی ماں کا خاتمہ ضروری ہے مگر پاکستان کی طرف اسے لاغرو نحیف اور ناتواں کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی چاہئے۔
*****