- الإعلانات -

عددی اکثریت کے ثمرات

توقعات کے عین مطابق قومی اسمبلی نے الیکشن ریفارمز بل 2017 منظورکرلیا جبکہ صدر مملکت کے دستخط کے بعد یہ باقاعدہ قانون بن گیا ہے۔سینیٹ 22ستمبر کو پہلے ہی اس بل کی منظوری دے چکی تھی۔قومی اسمبلی میں الیکشن بل 2017 وزیر قانون زاہد حامد نے پیش کیا،بل کی منظوری کے بعد نواز شریف کے مسلم لیگ ن کے صدر بننے کی راہ میں آخری آئینی رکاوٹ بھی دور ہوگئی ہے۔اس ترمیم کی برکت سے اب عدالت سے نا اہل قرار دیا گیا شخص بھی سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکے گا۔بل پر بحث کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، پی ٹی آئی ارکان نے اسپیکر کے ڈائس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور خورشید شاہ سے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔جبکہ دوسری طرف نون لیگ کی مجلس عاملہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو پارٹی صدر بنانے کیلئے پارٹی آئین میں بھی ترمیم کی منظوری دے چکی ہے۔بل کی منظوری میں اپوزیشن جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل (بی این پی-ایم)نے اہم کردار ادا کیا اور ووٹنگ کے عمل میں اپوزیشن کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ قبل ازیں پولیٹیکل پارٹیز آرڈر (پی پی او)2002 میں درج تھا کہ ایسا کوئی شخص سیاسی جماعت کا عہدہ نہیں رکھ سکتا جو رکن قومی اسمبلی نہیں یا پھر اسے آئین کے آرٹیکل 62-63 کے تحت نا اہل قرار دیا گیا ہو۔اس بل میں ایک اور ظلم یہ کیا گیا ہے کہ امیدوار کے کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت پر حلفیہ اقرار نامہ کو بھی نکال دیا گیا ہے۔اس سے قبل شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سیکشن 203آئین کی روح کے سپرٹ سے متصادم ہے۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اس بل کو ڈیفر کیا جائے۔ ترمیم کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ نوید قمر نے کہا جس طریقہ سے ترمیم لائی گئی ایک شخص کو فائدہ دینے کیلئے یہ غیر جمہوری طریقہ کار ہے۔ ہم تصادم کی طرف جارہے ہیں۔ شفقت محمود نے کہا جس طریقہ سے دھوکہ دہی سے یہ سب کچھ کیا گیا ہے اس پر افسوس ہے۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ شہباز شریف ان کو پارٹی لیڈر کے طور پر قبول نہیں۔ آج جمہوریت اور پارلیمنٹ کو خطرہ ہے۔ ایک شخص کے لئے جمہوریت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں جاؤں گا۔ آفتاب شیرپاؤ نے کہا ہمارے گمان میں نہیں تھا بہت سے چیزوں کو ختم کر دیا جائے گا۔اس قانون پر ملک کے تمام حلقوں سے تنقید سامنے آ رہی ہے کہ حکمران جماعت جمہوریت کشی کی راہ پر گامزن ہو چکی ہے۔کہا جا رہا ہے کہ 22ستمبر کو سینٹ اور گزشتہ روز قومی اسمبلی میں پاکستان کے موجودہ شخصیت پرست جمہوری نظام نے جو گل کھلایا ہے اس سے اب یہ گمان پختہ ہو گیا ہے کہ عددی اکثریت کی حامل کوئی بھی پارٹی ملک کے مقدس آئین کو ذاتی سیاسی خواہشات کی شمشان گھاٹ کی بھینٹ چڑھا سکتی ہے۔پولیٹیکل پارٹیز آرڈر(پی پی او)2002 میں درج شرط جو ایک طرح سے احتساب کی ایک شکل تھی کو بلڈوز کردیاگیا ہے۔دوسرے الفاظ میں اس ساری ترمیمی مشق کا مقصد صرف نوازشریف کی عدالتی نااہلی کو چیلنج کرتے ہوئے پارٹی کی صدارت بحال کرنا تھا۔پاناما لیکس میں نااہلی کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اپنی پارٹی کی صدارت بھی چھوڑنا پڑی تھی۔پاکستان اس وقت داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر مشکل حالات سے گزر رہا ہے ایسے میں حکومت نے محاذ آرائی کا نیا باب کھول دیا ہے جو پہلے ہی عروج پر تھی۔یہ محاذ آرائی ملکی سیاسی استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں جبکہ ادھر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کو تبدیل کرنے کی باتیں بھی منظرعام پر آ رہی ہیں۔سیاسی جماعتوں کی جانب سے خود کو مستحکم بنانے کے لیے سیاسی جوڑ توڑ جمہوریت ہی کا ایک حصہ ہے لیکن انھیں جمہوری روایات کی پاسداری کرتے ہوئے ایسے رویے سے گریز کرنا چاہیے جس سے جمہوریت پٹڑی سے اترنے کے خدشات جنم لیں۔دوسری طرف ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان میں عوام کی حالت کیا ہوچکی، ادارے تباہ، معیشت تباہ، قانون کی حکمرانی ناپید، لیکن حکمران جماعت کا سارا زور اس بات پر صرف ہو رہا ہے کہ کسی طرح وہ اپنے سابق وزیراعظم کو کم از کم پارٹی کا صدر تو بنوا سکیں۔جس میں حکمران جماعت کامیاب تو گئی ہے لیکن کے اس دوررس منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
آرمی چیف کا دورہ افغانستان
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ گزشتہ روز اپنی تعیناتی کے بعد پہلی بار افغانستان کے دورے پر گئے جہاں ان کی سیاسی و عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں ہوئیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان سے متعلق نئی امریکی پالیسی کے اعلان کے بعد پاکستان سے کسی اعلیٰ شخصیت کا یہ پہلا دورہ ہے۔آرمی چیف کابل پہنچے تو ان کا استقبال افغان آرمی چیف جنرل شیر محمد کریمی نے کیا۔ اس موقع پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جس کے بعد آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی صدارتی محل میں افغان صدر اشرف غنی سے ون آن ون ملاقات ہوئی جنرل قمر باجوہ اور اشرف غنی کے درمیان صدارتی محل کابل میں ہونے والی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، امن و استحکام، انسداد دہشت گردی کے لیے کوششوں، کاروباری اور دیگر تعلقات زیر بحث آئے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان کی سیکورٹی فورسز کی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں مشترکہ مفادات کے حصول کیلئے تربیت اور استعداد کار بڑھانے کیلئے پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کی پیشکش کی۔ افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دوست ہیں امن و استحکام کیلئے آگے بڑھ سکتے ہیں ۔اشرف غنی نے اس ملاقات کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کا ایک نیا سیشن قرار دیا اور کہا کہ تعاون کیلئے اچھے مواقع پیدا کیے جارہے ہیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔حالیہ تلخ ماحول میں آرمی چیف کا دورہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ دونوں ملک بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے عسکری اور سیاسی حکام کے درمیان رابطے بحال کرنے کی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔اس سے پہلے مارچ 2016 میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کابل کا اس وقت دورہ کیا تھا جب افغانستان میں موجود ریزولوٹ سپورٹ مشن کی کمان کی تبدیلی کی تقریب ہوئی تھی۔ جس کے بعد رواں برس مزار شریف پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی بری فوج کے چیف آف جنرل سٹاف اور پھر فوج کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ نے کابل میں اعلیٰ امریکی اور افغان قیادت سے ملاقات کی تھی جبکہ رواں برس جولائی میں افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل نکلسن پاکستان آئے تھے۔ یقیناًایسی ملاقاتوں سے باہمی مغالطوں کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔پاکستان اور افغانستان دو قالب یک جاں کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے دکھ سانجھے ہیں اور ایک دوسرے کی سکیورٹی کے بھی ضامن ہیں۔