- الإعلانات -

ادارے اور حکومتی رویے۔۔۔( آخری قسط)

ہمارے دانشمند وزیر خارجہ نے حافظ سعید کے بارے میں امریکہ میں ان لوگوں کے سامنے خیال آرائی فرمائی ہے جو پاکستان کو تباہ کرنے کے بہانے ڈھوند رہے ہیں اور آپ نے وہاں ایسا موضوع چھیڑ دیا جس کی قطعی ضرورت نہیں تھی ہمیں آپ کی دانشوری پر کبھی کوئی شبہ نہیں رہا تاریخی طور پر پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑے ہوکر آپ جس قسم کے شگوفے چھوڑتے رہے ہیں اس سے آپ کی ذاتی اور قومی معاملات میں سنجیدگی عیاں ہے کہنے والے تو کہتے ہیں کہ آپ امریکہ میں اپنے لیڈر کا بیانیہ بیچنے گئے تھے کہ ہمارا رہنما تو دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ تھا اور انڈیا سے تعلقات بہتر کرنے کی بھرپور کوشش کرتا رہا لیکن کیا کیا جائے کہ فوج نے ہمارے ہاتھ باندھ رکھے ہیں اس نے حافظ سعید جیسے لوگوں کو پال رکھا ہے اور ہماری نہیں چلنے دیتے ڈان لیکس میں بھی ہمارا فوج سے یہی جھگڑا تھا اور فوج سے اختلافات ہوئے تھے وغیرہ وغیرہ یہی انڈیا کا بیانیہ ہے آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک سے دہشتگردی ختم ہو چکی ہے جو انڈیا کروا رہا تھا اب انڈیا کی جانب سے کی جانے والی دہشگردی کو جائز قرار دلانے کے لئے وہ حافظ سعید کا نام لیکر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا تاکہ رائے عامہ ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کی جانب سے کئے جانے والے مظالم پر متوجہ نہ ہو جائے کہیں حافظ سعید سے آپ کو ذاتی رنج ہے تو الگ بات ہے ورنہ آپ کی حکومت نے ہندوستان کے دباؤ پر کئی سالوں تک حافظ سعید کے خلاف ممبئی حملہ میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمہ چلایا انڈیا نے نام نہاد سنا کہا(hear say ) ثبوت دئے کیا عدالت میں کچھ ثابت ہوا بالکل نہیں لیکن حافظ سعید اب بھی حکومتی تحویل میں ہیں پوری دنیا جانتی ہے کہ انڈیا خود کو شریف اور مظلوم ثابت کرنے کے لئے اس طرح کی حرکتیں کرتا رہتا ہے یہ اس کی تاریخ ہے کیا دنیا نہیں جانتی کہ انڈین پارلیمنٹ پر حملہ بھی انڈین اسٹیبلشمنٹ کی اپنی کارروائی تھی اسی طرح ممبئی حملہ بھی انڈین اینٹی ٹیرررسٹ اسکواڈ کے سربراہ کمشنر ہیمنت کرکرے ان کے ڈپٹی وجے سالسکر انسپکٹر جادھو اور اشوک کامتے کو قتل کرنے کی کارروآئی تھی ان کی وہ پوری ٹیم راستے سے ہٹا دی گئی جو مالیگاؤں میں جلنے والی ٹرین کو جلانے والے مجرم حاضر سروس کرنل پروہت پر الزام ثابت کرچکے تھے اور کرنل پروہت کی گرفتاری کے لئے انڈین فوج کو خط لکھا جاچکاتھا اور دو روز بعد اس کی ساتھیوں سمیت گرفتاری متوقع تھی انڈین نیوی کی ویسٹرن کمانڈ کے کمانڈر سردار کے پی سنگھ نے ممبئی حملے کے پہلے روز بیان دیا تھا کہ بحر ہند میں پاکستان کی حدود سے ممبئی تک 36 چیک پوائنٹ ہیں اور کسی کا کراچی سے ممبئی بحری راستے سے ہمارے علم کے بغیر آ جانا نا ممکن ہے بلکہ ایسا کرنے والا خود کشی کرے گا اسی شام اسے ہٹا کر وائس ایڈمرل انیل چوپڑا کو ممبئی کمانڈ کا کمانڈر بنا دیا گیا تھا اور کے پی سنگھ کی زباں بندی کردی گئی تھی یہ ریکارڈ پر ہے،دنیا جانتی ہے کہ ممبئی حملہ ایک ڈرامہ تھا تو کیا آپ کی عدالتیں بھی خدا نہ خواستہ دہشت گردوں کی پشت پناہ ہیں جو حافظ سعید کو سزا نہیں سے سکیں جی نہیں بلکہ سب جھوٹ تھا حافظ سعید کے خلاف اگر آپ یا کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو عدالت میں پیش کریں اور سزا دلوائیں دنیا بھر میں اس اقدام پر آپ کو سراہا جائے گا اور ہمارا قلم بھی آپ کی مدح کے لئے حاضر ہوگا ویسے حافظ سعید پر کروڑوں کے انعام کا اعلان کرنے والی سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن بھی اعتراف کر چکی ہیں کہ حافظ سعید کے خلاف ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہم نے انعام کا اعلان اس لئے کیا ہے کہ اگر کسی کے پاس ثبوت ہو تو ہمیں دے اسے انعام دیں گے یہ دنیا کی انوکھی مثال ہے کہ ثبوت کوئی نہیں اور انعام کا اعلان ہو گیا حکمرانوں کی کوتاہ نظری دیکھئے انہیں نظر نہیں آیا کہ 2005 میں زلزلے میں حافظ سعید کا کردار کیا تھا پھر 2010 کے سیلاب میں اس جماعت کی خدمات کیا تھیں یہ لوگ سب سے پہلے پہنچنے اور سب سے زیادہ خدمات فراہم کرنے والوں میں تھے تھر کی قحط سالی میں کنویں کھودنا تھر کے باشندوں کو خوراک اور ادویات اور طبی خدمات کی فراہمی میں ان کا کیا کردار تھا اور حکومت کیا کر رہی تھی بار دگر عرض ہے کہ حافظ سعید یا کسی اور پر اگر کوئی الزام ہے تو مقدمہ چلائیں قوم دہشتگردی کے خلاف ہے اور آپ کے اقدامات کی حامی ہوگی یہ ضرور کریں ہاں اگر انڈیا اور امریکہ کا شامل باجہ بن کر ان کے بیانیے کو پروموٹ کر رہے ہیں تو کسی بھی طرح قوم و ملک کی خدمت نہیں کر رہے جہاں تک حقانی گروپ کا تعلق ہے یہ محض ہجت ہی ہے دنیا خصوصا آپ کے مربی بخوبی جانتے ہیں کہ حقانی گروپ جن کی تعداد کسی بھی طرح 3 ہزار سے زائد نہیں ضرب عضب شروع ہوتے ہی مزار شریف منتقل ہو گئے ہیں ذرا عقل کو ہاتھ ماریں کہ جب طالبان 60 فیصد افغانستان پر قابض ہیں تو انہیں پاکستان میں چھپنے کی کیا ضرورت ہے کیا آپ کو سمجھ ہے کہ امریکہ اور اس کے ہمنوا آپ جیسے روشن دماغ حکومتی دانشوروں سے چاہتے ہیں کیا آپ چاہتے ہیں کہ پاک فوج مزید جانی مالی اور اقتصادی قربانیاں دے کر امریکہ کو وہ کچھ کرکے پلیٹ میں رکھ کر پیش کرے جو وہ اور اس کے حلیف سولہ سال سے نہیں کر سکے اور اس کے بعد ہم ان افغانوں کو بھگتیں جن سے ہماری کوئی دشمنی تھی اور نہ ہے امریکہ حسب سابق کام نکلنے کے بعد چمپت ہوجائے گا سرکار یہ اس کا مسئلہ ہے وہی نمٹے پاکستان نے اسے افغانستان میں نہیں بلایا تھا کہ ہم آپ کو آپ کے کہنے کے مطابق ملک فتح کرکے دیتے جائیں گے اور اپنی فوج اور عوام کی قربانیاں دیتے رہیں ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ اپنے حلیف انڈیا سے کہیں کہ وہ آپ کی عسکری مدد کرے جو فوج بھیجنے سے انکار کر چکا ہے لیکن اسے افغانستان میں خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر لینڈنگ رول چاہئے امریکہ کا افغانستان میں اصل امن دشمن انڈیا ہی ہے جو امریکی فوج کی حفاظت میں رہ کر افغانستان سے معدنیات لے جارہا ہے اور امریکہ کو چین سے مقابلے کا لولی پوپ دکھا کر بے وقوف بنا رہا ہے انڈیا کے افغانستان میں فوج بھیجنے سے انکار کے بعد امریکہ کو کچھ سمجھ آ چکی ہوگی دنیا کے ان تمام ممالک سے عرض ہے جن کی ایجنسیاں افغانستان اور دیگر مقامات پر بیٹھ کر پاکستان کی سلامتی کے خلاف جو کچھ کررہی ہیں پاکستان ان سے مکمل باخبر ہے کچھ عرصہ قبل پاکستان کے خلاف کئے جانے والے خطرناک اقدامات سے پاکستان اور اللہ کے شیر چند ہی دنوں میں جس طرح نمٹ چکے ہیں یہ دشمنوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونا چاہئے کہ پاکستان تر نوالہ نہیں اسے کوئی داخلی یا خارجی دشمن کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا "” عقل مند را اشارہ کافی است "” حکومت سے بھی گزارش ہے کہ نظام کو فطری انداز میں چلنے دیں سب کو رویے درست کرنے کی ضرورت ہے اور یہی وقت کا تقاضہ ہے اللہ وطن اور اہل وطن کو اشرار کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین