- الإعلانات -

وزیراعظم کا اقوام متحدہ سے خطاب

اس میں کچھ شبہ نہیں کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ سے خطاب کے دوران افغانستان ،کشمیر اور دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی بھرپور ترجمانی کی ۔ اس تقریر سے بھارت کے سینے پر سانپ لوٹ رہے ہیں اور وہ ابھی تک سفارتی جنگ میں اس لئے گرفتار ہے کہ وہ بھی جواب دے سکے ۔ پاکستان کے خلاف زہر اگلنے میں بھارت کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا لیکن پاکستان بھی بھارت کے منہ پر کرارا طمانچہ رسید کرنے میں دیر نہیں لگاتا۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے 23ستمبر کی تقریر میں پاکستان کے خلاف متعدد الزامات لگائے اور پھر جواب بھی اسی مناسبت سے سنے افغان مندوب نے بھی اپنا حصہ ڈالنے میں کسر نہ چھوڑی بھارت سے وفادار بنے رہنے کا ثبوت دیا ۔ اقوام متحدہ کے محاذ پر پاک بھارت تقریری تصادم جاری رہا۔ اس دفعہ بھارت نے اپنے ناپاک عزائم کا اظہار کچھ اس طرح بھی کیا کہ پاکستان مخالف پاکستانی امریکن جمع کرکے اقوام متحدہ کے باہر مظاہرہ کرادیا ،پاکستان کیخلاف نعرے لگائے شاید یہ وہ لوگ ہونگے جنہوں نے امریکہ میں سیاسی پناہ لے رکھی ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نئی افغان پالیسی کی حکمت عملی کو دہرایا اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوگئی کہ بھارت کا جارحانہ رویہ امریکی تعاون کیوجہ سے ہے جسکی جھلک سفارتی سطح پر بھی ظاہر ہورہی ہے۔ افغانستان تو ایک طفیلی ملک بن چکا ہے افغانستان کے صدر سے ہمارے وزیراعظم کی ملاقات ملاقات ملتوی ہوئی پھر یکسر منسوخ ہوگئی لیکن تعریف کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی اور پاکستان کا رول دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے مزید بھرپور طریقے سے بیان کیا نتیجتاً سیکرٹری جنرل نے پاکستان کی کاوشوں کی تعریف کی لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ یو این سیکرٹری جنرل نے پاک بھارت تناؤ جوکہ کشمیر کی وجہ سے ہے اس پر کھل کر اظہار نہ کیا اور جنوبی ایشیاء میں جودونوں ملکوں کے درمیان اب تک جنگیں ہوئیں انہوں نے اسے حل کرنے کا نہ تو کوئی وعدہ کیا اور نہ ہی عملی مظاہرہ کیلئے رول اپنایا ۔ بہرحال ترکی ، ایران اور سری لنکا کے سربراہان حکومت سے انکی ملاقاتیں موجودہ تعلقات کو ان ممالک کے ساتھ مزید کارآمد بنانے میں مدد گار ہوں گی۔ اس بار تو یوں لگا کہ برطانیہ ، امریکہ ، فرانس اور ان کے حامی ممالک کا الگ گروپ تھا اور چین روس اور انکے حامی ممالک کا دوسرا گروپ تھا جنہوں نے وزیراعظم کی تقریر کو ہمدردی سے سنا۔ اقوام عالم میں اگر بات دلائل سے نہج جائے تو بات کہنے والے کو کریڈٹ جاتا ہے اور یہ کریڈٹ شاہد خاقان عباسی صاحب کو دینا چاہیے۔ امریکی نائب صدر مائیک ہنس سے بھی ملاقات ہوئی جس میں وزیر خارجہ بھی موجود تھے اور پاکستان کی اقوام متحدہ میں مستقل مندوب محترمہ ملیحہ لودھی بھی حاضر تھیں دونوں لیڈروں کی ملاقات اگرچہ خوشگوار ماحول میں ہوئی لیکن نائب صدر کی جانب سے اعادہ اس تقریر کا ہوا جسمیں امریکی صدر نے افغانستان میں اپنی نئی حکمت عملی کو متعارف کروانا ہے۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان مخالف پالیسی اور بھارت کے ساتھ تعاون ۔ اسمیں روشنی کی کرن یہ ہے کہ اعلیٰ سطح پر پاک امریکہ رابطہ قائم ہوا اور ایک اعلیٰ سطح کا وفد امریکہ سے شاید اکتوبر میں آئے گا ۔ تاحال اسکی تشکیل اور ترجیحات یعنی ایجنڈا کیا ہوگا معلوم نہیں امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے وقت میں امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر ہونے کے مواقع ملیں گے ۔ جنگ سے افغانستان میں امن کی بحالی ممکن نہیں تمام مسائل باہم گفت وشنید سے ہی حل کیے جاسکتے ہیں۔ جنگ تو خود ایک مسئلہ ہے یہ مسئلے کا حل کیا دے سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے ہندوستان کی جارحانہ پالیس نے آج تک انہیں کچھ فائدہ نہیں دیا۔ پاکستان تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیتا ہی ہے دیتا رہے گا اور ایسا ہوتا رہنا چاہیے۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ہماری افواج نے جوکچھ کیا اور جتنی قربانیاں دیں یہ تاریخ کا ایک سنہری باب ہوگا ۔ بہادر اور جان قربان کرنے والے ملک کے رکھوالوں کے ہوتے ہوئے دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔ ان کو معلوم ہے کہ پاکستانی افواج دشمن کی آنکھوں کو نکال کر انکی ہتھیلی پر رکھ دینے کی طاقت رکھتی ہے۔ جہاد کا جذبہ رکھنے والی فوج کو اللہ کی مدد ہوتی ہے پاکستان ان بہادر بیٹوں کی قربانیوں کی وجہ سے امن کی جانب رواں دواں ہے ۔ بھارتی میڈیا ، سفارت کار اس وقت پاکستان کے خلاف بھرپور پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں یہ آج کی بات نہیں بلکہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے انکا یہی رویہ ہے بدلے ہوئے عالمی حالات سے پاکستان میں حکومت پوری طرح آگا ہ ہے لیکن وزیر خارجہ کے بیان پر سیاست دان منفی بیانات جاری کرنے میں دیر نہیں لگاتے ایسے لگتا ہے یہ خدائی خدمت گار غیر ملکی خطرات سے بے نیاز ہیں وہ فروعی اور گروہی بحث میں الجھے رہتے ہیں عدلتی فیصلوں پر اور ان کی کارروائیوں پر روزانہ بیان داغ دینا انکا فرض بن چکا ہے۔سیاست دانوں کو اس وقت بہت زیادہ ذمے داریوں کا اظہار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم دشمن سے ڈرنے والے نہیں ہمیں اگر کبھی خوف ہوا تو صرف اپنوں اوردوستوں سے ہوا ۔ اپنے اگر اپنے ہو جائیں تو بیگانے کا کیا خوف ہماری عزت بلکہ ملک بھی محفوظ رہے ۔ اس ملک سے ہی ہماری عزت ہے۔ اپنی حفاظت کیلئے ہمیں کسی گہری سوچ کی ضرورت نہیں ۔ ضرورت صرف وحدت اور صداقت کی ہے۔ سیاست سے جھوٹ نکل جانا چاہیے تاکہ دل خوف سے آزاد ہو۔ لالچ خوف پیدا کرتی ہے اندرونی انتشار بیرونی سرحدوں پر خطرے کی شکل میں نظر آتا ہے۔ خطرہ اندر سے ہوتا ہے باہر سے نہیں ۔ سوچنے کا وقت ہے ہمارے سروں پر خطرات گدھ کی طرح کیوں منڈلاتے رہتے ہیں ۔ ہم میں اتحاد کی دولت کیوں کم ہوتی جارہی ہے ۔ کیا یہ صرف فوج کا فرض ہے کہ تمام محاذوں پر نگاہ رکھے اور خطرات کو ختم کرتے ہوئے قربانیاں دیتی رہے اور سیاست دان صرف الفاظ ے نشتر سے ایک دوسرے کو چھلنی کرتے رہیں ۔ مغربی ممالک تو امریکہ کے ہمنوا ہیں انہیں روس چین پاکستان کی قربت پسند نہیں ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ شورشوں اور باہمی اختلافات کو ختم کرکے بیرونی خطرات ، واقعات پر توجہ دی جائے ۔