- الإعلانات -

اس سے بڑی توہینِ عدالت کیا ہو گی؟

اہلیت اور نااہلیت کے فیصلے کروڑوں عوام کو کرنے دو، پانامہ فیصلے کو جب آئینی و قانونی ماہرین نہیں مانتے تو میں کیسے تسلیم کر لوں۔ ڈر ہے کہ پاکستان کسی سانحے کا شکار نہ ہو جائے، ملکی تاریخ میں پانامہ پہلا کیس ہے جس میں دفاع کے تمام آئینی اور قانونی حقوق صلب کر لیے گئے۔ اگر فیصلوں کی ساکھ نہ رہے تو پھر عدالتوں کی بھی ساکھ نہیں رہتی، تاریخ ایسے فیصلوں سے بھری پڑی ہے جنہیں دیکھ کر ندامت ہوتی ہے۔ جھوٹ پر مبنی بے بنیاد مقدمہ لڑ رہا ہوں وغیرہ وغیرہ، غرض دل کی جتنی بھڑاس ۔میاں صاحب ۔نکال سکتے تھے جی کھول کر سپریم کورٹ کے خلاف نکالی، بلکہ آج تو آپ نے عدالتِ عظمیٰ کو بادی النظر میں چارج شیٹ کرنیکی بھرپور کوشش کی۔جس سے ہر محبِ وطن پاکستانی کو آپ کے اس جارحانہ بلکہ مخاصمانہ رو ے�ؤ پر خاصی تشویش ہے۔
26 ستمبر کا آغاز ہی آپ نے دنگا فساد سے شروع کر وایا،احتساب کورٹ میں پیشی سے پہلے پنجاب ہاوس پر گھنٹوں قابض رہنے کے بعد درجنوں گاڑیوں کے پروٹوکول میں نیب کورٹ میں آتے ہی ایک معززصحافی کو اپنے غنڈوں سے پٹوایا، عدالت میں بے ہودہ ۔ شیر شیر شیر کے نعرے گونجتے رہے اور آپ ایک رنگ رنگیلے بادشاہ کی طرح خوش ہوتے رہے جبکہ ایوانِ عدل کی پر شکوہ عمارت اپنی اس بے عزتی پر زمیں میں اندر ہی اندر دھنستی رہی۔۔ زرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر قسم کھ ا کر بتاأں ، کو�ئ ایک بھی بات ہے آپ میں شیروں والی۔آپ کو تو ایک کانٹا بھی چبھ جائے تو سرِ عام روتے ہیں، ٹسوے بہاتے ہیں اور مظلومیت کی چادر اوڑھ کر کبھی شیرنی کی بیماری اور کبھی اپنے بے گناہی کا رونا رو کر سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنا تے رہتے ہیں۔ میاں صاحب رونا دھونا چھوڑیں اور ایک مجرم ہوتے ہوئے ا ن تمام سرکاری وسائل کے بے جا استعمال پر قوم کو اسکا حساب دیں ۔
اہلیت اور نااہلیت کا فیصلہ،، آپ کے بقول ،،اگر عدالتوں نے نہیں کرنا اور ووٹرز نے ہی کرنا ہے تو تمام کی تمام عدالتوں کو آج سے ہی تالے لگوا دیں، حکومت آپ کے کٹھ پُتلی وزیر اعظم کی ہے، صرف ایک شاہی فرمان ہی سے آج ہی چھوٹی بڑی تمام عدالتیں بند کروا دیں ، اورجو دل میں آئے حکم لگا دیں ،،کون ہے آپ کو پوچھنے والا۔ چاہیں تو آج ہی اپنے پارلیمنٹ سے کسی بھی طرح کی ترمیم پاس کروالیں ، آپ کو نمبر گیم کیلئے ہر پارٹی سے ہر وقت نہایت ار ز اں ریٹ پرمطلوبہ تعداد میں ووٹ مل جائیں گے اور سیاسی پارٹیاں اس پر اسرار انداز میں ووٹنگ کریں گی کہ عوام دیکھتے ہی رہ جائیں گے۔
میاں صاحب اپنے خلاف کسی بھی طرح کا فیصلہ پاکستان کے خلاف فیصلہ سمجھتے ہیں اور اسکا شاخسانہ کسی اور۔ سانحے۔ سے کم نہیں سمجھتے۔ میاں صاحب، اس ملک میں بڑا۔ سانحہ۔ تو ایک ہی ہوا ہے جس سے بدقسمتی سے ہمارا ملک دولخت ہو گیا تھا، اب اسکو مزید کتنے ٹکڑوں میں بانٹنے کا پروگرام ہے جناب آپ کا؟ لیکن اپنی چمڑی جلنے پر ملک کیلیے اتنا خوفناک سوچنے کی کیا ضرورت ہے، آپ کس کو ڈرا رہے ہیں،عوام کو یا ،،،،کو؟اس طرح کی فضول جملہ بازی سے بہتر ہے کہ آپ اس ملک کی سلامتی کی دعا کریں اور عدالتو ں کو ڈرانے کی بجائے اپنا۔ منی ٹریل ۔بتا کر اس عفریت سے پیچھا چھڑائیں ورنہ پانامہ کا یہ جنِ آپ کو کوہ قاف پہنچا کر ہی دم لے گا۔ اور آخر میں، انشااللہ آپ کے جانے سے اس ملک کو کچھ نہیں ہو گا، اسکی حفاظت پر اللہ کے بڑے بڑے شیر دن رات اسکی حفاظت پرلگے ہو�ؤ ہیں، وہ بغیر کسی ڈر یا خوف کے میدانوں اورپہاڑوں پر بھی موجود ہیں، سمندروں پر انکی گہری نظر ہے اور فضاوؤ ں کے بھی وہ شاہیں ہیں ، انہیں کبھی کسی پروٹوکول کسی نقلی نعرے کی ضرورت نہیں رہتی اور وہ اسکی آن اور شان پر کسی طور زرا بھر بھی آنچ بھی نہیں آنے دیں گے۔ اور میاں صاحب یہی ہے اصلی او ر کا غذ ی شیروں میں فرق جسے صرف ایک کھلے دل اور جیتی آنکھ سے اسوقت دیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔

بے بسی۔۔۔ شوق موسوی
وہاں صحافی تو پَر تک نہ مار سکتے ہیں
وہ اپنا بارِ صحافت بھی دھو نہیں سکتے
انہی کا محکمہ اور کمرہ عدالت میں
وزیر داخلہ داخل بھی ہو نہیں سکتے