- الإعلانات -

آرٹیکل 370 کا خاتمہ، مودی حکومت کی اولین ترجیح

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 کی شق 35 اے ریاست جموں و کشمیر کو بھارتی یونین کے اندر خصوصی نیم خودمختار حیثیت دیتی ہے۔ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ بھارتی آئین کی جو دفعات دیگر ریاستوں پر لاگوہوتی ہیں وہ اس آرٹیکل کے تحت ریاست جموں و کشمیر پر نافذ نہیں کی جا سکتیں ۔بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی توثیق 1947 میں ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم شیخ عبداللہ نے کی تھی ۔اس آرٹیکل کے تحت دفاع، مالیات، خارجہ امور اور رسل و رسائل کے علاوہ کسی اور معاملے میں مرکزی حکومت یا پارلیمنٹ ریاستی حکومت کی توثیق کے بغیر بھارتی قوانین کا اطلاق ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کر سکتی ۔ مذکورہ آرٹیکل کے تحت ریاست جموں و کشمیر کے شہریوں کے لئے جائیداد، شہریت اور بنیادی انسانی حقوق جیسے قوانین عام بھارتی قوانین سے مختلف ہیں چنانچہ بھارت کا کوئی بھی شہری یا بھارتی کارپوریشنز اورنجی اور سرکاری کمپنیاں بھی ریاست جموں و کشمیر کے اندر جائیداد نہیں خرید سکتا ۔ بھارتی سرمایہ کار ریاست جموں و کشمیر کے اندر کوئی تعمیراتی منصوبہ قائم نہیں کر سکتے ۔بھارتی آئین کے تحت مرکز کسی وقت بھی کسی ریاست میں یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتا ھے ۔مگر آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت یا پارلیمنٹ یہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی ۔ گورنر راج کے نفاذ کے ضمن میں بھی بھارتی حکومت کو بہت محدود اختیارات حاصل ہیں ۔بھارت کے نومنتخب وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے آ فس ورک کے پہلے ہی دن بھارتی آئین کے تحت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا تھا۔در اصل دفعہ 370کا خاتمہ اکھنڈ بھارت کے بنیادی مقاصد میں سے ایک رہا ہے اور نریندر مودی نے اپنے جموں کے جلسے میں اس پر بات بھی کی تھی کہ وہ اس آرٹیکل کو ختم کر دیں گے۔جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت کے بارے میں عموماً یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اس کے تین خطوں کشمیر وادی ، لداخ اور جموں میں سے صرف ایک خطہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔2011ء میں کرائی گئی مردم شماری کے اعداد و شمار اس غلط فہمی کو دور کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست کے تمام خطے لسانی اور ثقافتی اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔مگر جموں خطہ جو انتظامی لحاظ سے ایک ڈویژن ہے ، دراصل تین خطوں یعنی جموں (توی ریجن) ، پیر پنچال ، اور چناب وادی میں منقسم ہے۔ ان میں سے اول الذکر خطہ یعنی جموں توی ریجن میں ہندوؤں کی اکثریت ہے جبکہ دیگر دونوں خطوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ جموں توی کے پانچ اضلاع ادھم پور، سانبھا، ریاسی ، جموں اور کٹھوعہ کی آبادی 33لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس خطہ کے بھی ریاسی ضلع میں ہندو اور مسلمانوں کا تناسب تقریباً برابر ہے۔پیر پنچال خطہ راجوری اور پونچھ کے دو اضلا ع پر مشتمل ہے۔ یہاں مسلمانوں کا تناسب 74.52 فیصد ہے۔ ا سی طرح ایک اور خطہ ہے چناب وادی جو دریائے چناب کے دامن میں بسا ہوا ہے۔ اس کے تین اضلاع ہیں کشتواڑ، رام بن اور ڈودہ۔ تینوں اضلاع مسلم اکثریتی ہیں اور اس خطے میں مسلم آبادی کا تناسب 59.79 فیصد ہے۔ لداخ خطہ کے بارے میں سب سے زیادہ غلط فہمی پھیلائی گئی ہے کہ یہ بودھ اکثریتی علاقہ ہے۔ جو حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ اس خطہ میں دوا ضلاع لیہ اور کرگل ہیں۔ تناسب کے اعتبار سے بودھ.65 39فی صد اور مسلمان.40 46فی صد ہیں۔لداخ کے صرف لیہ ضلع میں بودھ آبادی کا تناسب 66 فی صد ہے جبکہ مسلمانوں کا 14 فی صد۔ کرگل میں مسلمان تقریباً 77فی صد اور بودھ 14فی صد ہیں۔ اس ضلع کی آبادی لیہ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یعنی خطہ کی مجموعی آبادی میں دو لاکھ 74ہزار 289میں سے مسلمانوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 28ہزار ہے جبکہ بودھوں کی ایک لاکھ 8ہزار ہے۔ وادی کشمیر کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔یہاں مسلم آبادی کا تناسب 96.4فیصد ہے۔ ریاست کی جملہ آبادی ایک کروڑ 25لاکھ 41ہزار سے کچھ زیادہ ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 86 لاکھ ہے جبکہ ہندوؤں کی 35لاکھ سے زیادہ اور سکھوں کی تقریبا ڈھائی لاکھ اور بودھوں کی ایک لاکھ سے کچھ زیادہ۔پاکستان کے آبی وسائل یعنی دریائے چناب اور دریائے سندھ اپنا بیشتر سفر بلترتیب وادی چناب اور کرگل ضلع میں طے کرتے ہیں اور دونوں مسلم اکثریتی علاقہ ہیں۔ بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیخلاف مقبوضہ کشمیر میں بھرپور مزاحمت کی جا رہی ہے ۔ حریت قیادت کا کہنا ہے مودی سرکاری کو آئین سے آرٹیکل 35 اے ختم نہیں کرنے دیں گے۔ حریت قیادت سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 35 اے سے چھیڑ خانی ہوئی تو کشمیریوں کا شدید رد عمل ہوگا۔ 35 اے کو ختم کرنا کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازش ہے ، کشمیری ایسا نہیں ہونے دیں گے۔بھارتی آئین کی دفعہ 35 اے کے تحت بھارتی شہریوں کو کشمیر میں زمینیں خریدنے ، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے ، ووٹ ڈالنے اور دوسری سرکاری مراعات کا قانونی حق نہیں۔مقبوضہ کشمیر میں حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے کہاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سنگھ کی طرف سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 35اے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا واحد مقصد مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے اور مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے مذموم اقدام کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بھارتی حکومت کسی نہ کسی بہانے مسئلہ کشمیر کی حیثیت و ہیت کو بگاڑ نے پر تلی ہوئی ہے اور اس کیلئے وہ ہر غیر جمہوری اور غیر انسانی حربہ بروئے کار لارہی ہے۔بھارت جموں کشمیر کو اکھنڈ بھارت کا حصہ بنانا چاہتا ہے جس کیلئے وہ نت نئے طریقے اور حربے آزما رہا ہے۔ بھارت کو اس بات کا ادراک ہوچکا ہے کہ ایک نہ ایک دن اسے جموں کشمیر میں بہرصورت رائے شماری کرانا پڑے گی اسی لئے وہ دفعہ 370اور35اے کو ختم کرنا چاہتا ہے تاکہ کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا جاسکے۔