- الإعلانات -

ناموس رسالت اور آئینی ترمیم

ہمارے قومی اور داخلی مسائل اتنے ہیں کہ موضوع تلاش نہیں کرنا پڑتا بہت سے قومی اہمیت کے موضوعات ذہن میں تھے جن پر کافی روز سے کام کر رہے تھے لیکن کل ایک ایسا انکشاف ہوا کہ دل و دماغ کھول اٹھے یقین نہیں آتا کہ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں کوئی بد بخت ایسی جسارت بھی کر سکتا ہے کوئی 35 برس ہوتے ہیں پاکستان کی قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا پارلیمنٹ میں بڑی بحث و تمحیص ہوئی جس میں ملک کے جید علما مولانا مفتی محمود میاں طفیل محمد پروفیسر غفور احمد مولانا شاہ احمد نورانی اور دیگر اکابرین شامل تھے قادیانی جماعت کے سربراہ اور ان کے ماہرین کو بلایا گیا مباحث کے بعد جب ثابت ہوا کہ ان کا عقیدہ درست نہیں وہ نبی مکرم صل اللہ علیہ وسلم کو نبی آخر الزمان نہیں مانتے اور سمجھتے بلکہ مرزا غلام احمد کو نبی سمجھتے ہیں لہذا انہیں کسی صورت میں مسلمان قرار نہیں دیا جا سکتا تو پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا اس کے بعد تمام مسلمانوں سے پاسپورٹ کے حصول الیکشن میں امیدوار غرض کسی بھی دستاویز کے حصول سے کیلئے ضروری تھا کہ انہیں ایک حلف دینا پڑتا کہ وہ نبی کریم محمد مصطفی احمد مجتبی صل اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا حلفیہ اقرار کرتے ہیں اور نبی مکرم صل اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کے دعوے دار کو کذاب سمجھتے ہیں خاص طور پر مرزا غلام احمد قادیانی یا لاہوری گروپ کو مسلمان نہیں سمجھتے اس کے بعد تمام قادیانی رہنما ملک سے فرار ہو گئے زیادہ تر برطانیہ چلے گئے کچھ امریکہ اور آج کل قادیانیوں کاسب سے بڑا مرکز جرمنی میں ہے اور دوسرا اسرائیل میں ہے جہاں مقیم قادیانی موساد اور سی آئی اے انڈیا سے مل کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کررہے ہیں یاد رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جب اسرائیل کا دورہ کیا تو بلوچ شرپسند رہنماؤں جو اسرائیل میں مقیم ہیں اور قادیانی رہنماؤں کو نریندر مودی کے استقبال کرنے والوں کی قطار میں کھڑا کیاگیا اوران تمام کی نریندر مودی سے خصوصی ملاقاتیں کروائی گئیں تو سمجھا جا سکتا ہے مودی نے انہیں کیا کیا یقین دہائیاں کرائی ہوں گی پاکستان کے خلاف سازشیں تو روز اول سے جاری ہیں لیکن ضیا الحق کے زمانے میں ہی کالاباغ ڈیم کے خلاف باتیں شروع ہو گئی تھیں ان کی شہادت کے بعد سے اندر خانے پاکستان کے تعلیمی نصاب میں تبدیلی پر کام شروع ہو چکا تھا پاکستان کی بتدریج تباہی کے لئے کالاباغ ڈیم کو متنازعہ بنایا گیا نام نہاد دانشوروں سے جنہیں آب پاشی کیا شاید ڈھنگ سے کوئی بڑی نہر بھی نہ دیکھی ہو وہ پانی کے معاملے میں گوہر افشانیاں کرنے لگے جو ماہر تھے انہیں ڈھب پر لانے کیلئے روایتی طریقے اختیار کئے گئے جو معلومات رکھنے والے اداروں کے علم میں ہیں ڈیم مخالف قوتوں کو انڈیا کی جانب سے رقوم فراہم کی گئیں میڈیا کی کالی بھیڑیں خریدی گئیں مشرف کے زمانے میں 2002 سے پاکستان کے اسلامی تشخص اور اپنے ڈھب کی تعلیمی نصابی اصلاحات پر کام شروع ہو چکا تھا کئی تعلیمی بورڈ آغا خان فاونڈیشن کے حوالے کئے جا چکے ہیں کسی ریاست کی تباہی کے لئے ضروری ہے کہ اس ریاست کے تعلیمی نظام کا بڑا حصہ پرائیوٹائز کردیا جائے جن پر حکومتی چیک کم سے کم ہو اور انہیں نصاب کے بارے میں بھی آزادی کا ماحول فراہم کیا جائے طلبا کے نصاب سے اسلامی اسباق نکال دئے گئے کئی احادیث خاص طور پر جہاد کے حوالے سے مواد شجر ممنوعہ ہے صحابہ کرامؓ کی جگہ مسٹر چپس کو پروموٹ کیا جا رہا ہے پھر آنے والی حکومتوں کو ٹاسک دئے گئے پیپلز پارٹی نے صوبوں کو مضبوط کرنے اور آئینی ترامیم کے ذریعے فیڈریشن کو تقریبا کنفیدریشن بنا دیا یہ ایک سازش تھی تعلیم کا بجٹ جو پہلے ہی کم تھا مزید کم کردیا گیا تعلیمی نظام تباہ کردیا گیا تعلیم کو صوبائی سبجیکٹ قرار دے کر ہائرایجوکیشن کمیشن کو تحلیل کردیا گیا بھلا ہو ڈاکٹر عطا الرحمن خان کا جو سپریم کورٹ چلے گئے اور کمیشن تو بچ گیا لیکن ڈاکٹر صاحب ان بین الاقوامی جامعات کو نہ بچا پائے جو وہ بڑی محنت سے پاکستان لائے تھے سازش کے تحت آج تک کوئی ڈیم نہیں بننے دیا گیا دہائیوں سے نیلم جہلم داسو کھوڑی اور نہ جانے کون کون سے ڈیموں کی باتیں ہوتی رہیں بنا کوئی بھی نہیں ڈیزل اور گیس سے چلنے والے پرائیوٹ پلانٹ پاکستان کے خلاف بھیانک سازش تھی مواصلات ریلویاور قومی ایئرلائنز جن پر ملکی دفاع انحصار کرتا ہے تباہ کردئے گئے ایک سازش کے تحت قومی اداروں کا جنازہ نکال دیا گیا ملک تباہ کردیا لیکن شکر ہے جمہوریت بچ گئی مہنگی بجلی اور ایندھن کے سبب صنعتیں دانستہ تباہ کردی گئیں بنگلہ دیش کے پاس کاٹن کا ایک پودا نہیں لیکن اس کی ایکسپورٹ 35.7 ارب ڈالر ہے پاکستان میں کرپشن اپنی انتہاؤں پر ہے جب سے کرپٹ لوگوں پر ہاتھ پڑا ہے جو بتدریج بڑھ رہا ہے اب خوف کے مارے کرپٹ عناصر کی چیخیں آسمان تک جارہی ہیں نیب میں اپنا بندہ لگوانے کی مشق کی جارہی ہے تاکہ حسب سابق "”ستے خیراں "”ہوں پاکستان کرپشن میں ترقی کی نئی منزلوں تک جا چکا ہے اس لئے بیرون ملک لوگ ہمارے راہ نماؤں پر کوئی اعتماد نہیں کرتا خارجہ پالیسی میں سنجیدگی کاتو وزیر خارجہ مقرر کرنے سے پتہ چل گیا تو اب جب سے میاں نواز شریف اعلی ترین عدالت سے نااہل قرار پاکر معزول ہو ئے ہیں اپنی عدالتی معزولی کو میاں صاحب تسلیم کرنے کو تیار نہیں عدلیہ اور فوج ان کے نشانے پر ہیں صبح شام اقامے کی دہائی دیتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اسے اقامے کے ذریعے 300 ارب کا ہیر پھیر کیا گیا ہے کہتے ہیں ملک ترقی کر رہا "”تھا”” یوں موجودہ حکومت پر کھلا عدم اظہار ہے سقوط ڈھاکہ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر میری کرپشن پر ہاتھ ڈالاگیا تو کوئی سانحہ ہو سکتا ہے لوڈ شیڈ شیڈنگ ہچکولے کھا رہی ہے اصل میں کہنا چاہ رہے تھے کہ ملکی معیشت کا جو حال ہم نے کیاہے کہ رکنے سے پہلے ہچکولے کھا رہی ہے اب آئین میں ترامیم کردی گئی ہیں اب سپریم کورٹ سے نا اہل قرار پانے والے پارٹی کے سربراہ بن چکے ہیں اس طرح اجمل پہاڑی کامران مادھوری عزیربلوچ اور جیل میں موجود سینکڑوں سزا یافتہ مجرم بھی کوئی عوامی اور بڑا عہدہ حاصل کرنے کے اہل قرار پا چکے ہیں لیکن معاملہ اس سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے کل ہونے والی آئینی ترمیم میں قادیانیوں کے خلاف حلف جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں اب حلف نہیں ہوگا بلکہ محض اقرار ہوگا معنی اگر آپ حلف لے کر جھوٹ بولتے ہیں تو صادق اور امین نہیں رہتے لیکن اب آپ جھوٹ بولیں تو باز پرس نہیں ہوگی کیونکہ یہ محض اقرار ہوگا حلف نہیں لیکن جب وزیر بنتے ہیں تو حلف دیتے ہیں اگر محض کسی سزا یافتہ کو صدر بنانا ہوتا تو ایک بات تھی یہ قادیانیوں کیلئے راستہ کھولا گیا ہے جس کیلئے قادیانی 35 سال سے مرے جا رہے تھے اب حلف صرف مسلمانوں سے ہی لیا جائے گا لگتا ہے کہ یہ بھی بیرونی قوتوں سے کسی وعدے وعید کا نتیجہ ہے جس کے ذریعے اقتدار کا دوام چاہتے ہیں اور "” اک واری فیر”” کے متمنی ہیں لیکن علما کرام اس ناموس رسالت کے خلاف اقدام پر اٹھ کھڑے ہیں دو روز بعد ملکی سطح پر احتجاج ہوگا اور ملک ایک افراتفری کی صورت حال کی جانب جاتا دکھائی دے رہا ہے شاید میاں صاحب اور ان کے مشیران بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان کے مقدمات کا فیصلہ ہونے سے پہلے کوئی انہیں مجرم سے شہید بنا دے جو بظاہر لگ نہیں رہا لیکن حالات کو جس جانب لے جایا جارہا ہے اس کا حتمی نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے اللہ نہ کرے ایسا کچھ ہو لیکن اگر ہوا تو پھر شاید ہم تاریخ بھول جائیں پھر ایسی بھل صفائی ہوگی کہ الامان و الحفیظ ہمیں مقتدروں کی دانش کا اندازہ ہے انہیں مشیر جس جانب لے جارہے ہیں وہ راستہ نہیں بند گلی ہے بہر حال مکافات عمل کو کون روک سکتا ہے اب پہیہ الٹا نہیں چل سکتا اللہ کا اپنا نظام ہے نبی مکرم کی ناموس پر سیاست نا قابل معافی جرم ہے اللہ سے معافی کے خواست گار ہوں اللہ ہمیں درست فیصلوں کی توفیق عطا فرمائے۔