- الإعلانات -

چھوٹے میاں کا بڑے میاں کوسنہرا مشورہ

سابق وزیراعظم میاں نوازشریف جب وزیراعظم تھے تو ہم نے انہیں متعدد بار انہی سطور میں آگاہی کرائی کہ میاں صاحب یہ سیاست کا کھیل ہے اس شطرنج پر انتہائی سوچ سمجھ کر چال چلنا پڑتی ہے بعض اوقات غلط چالوں سے پیادہ ہی مروا دیتا ہے اور جب بادشاہ کے آگے اس کی چلنے والی فوج کو غلط چال چلا دی جائے تو پھر ایسا ہی حال ہوتا ہے جیسا کہ آج ہوا ہے ۔اس بات کا واضح ثبوت وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اسلام آباد میں اس وقت دیا جب ان کے بڑے بھائی دوبارہ سے مسلم لیگ ن کے بلامقابلہ صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے کہا کہ میاں صاحب آپ کو سب سے مشورے لے کر چلنا چاہیے خاص کر نیچے والوں سے مشاورت بہت مفید ثابت ہوتی ہے ۔جہاں پر کچھ مفاد پرست مشورے آجائیں تو ان پر دھیان رکھنا چاہیے ہم یہاں شہبازشریف کے وہ الفاظ قارئین کرام کیلئے تحریر کرتے چلیں جس میں انہوں نے اپنے بڑے کو کچھ اہم معاملات پر آگاہی کرائی وہ کچھ یوں ہیں کہ
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کچھ نئے مشیروں نے وزارتاور گاڑیوں کے لیے نواز شریف کو غلط مشورے دیے۔میاں صاحب ان سے مشاورت نہ کریں،جن کوصرف بڑی بڑی گاڑیاں چاہیے،میاں صاحب مشاورت کرنی ہوتو نیچے والوں سے کریں۔ کچھ لوگوں کو اپنی وزارتوں سے پیار تھا، انہوں نے نواز شریف کو غلط مشورے دیے۔ نوازشریف مشاورت سے فیصلے کریں تو کوئی ہمارا بال بیکا نہیں کرسکتا۔چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کو اہم مشورہ دے ڈالا اور کہا کہ گاڑی اور عہدے سے تعلق رکھنے والے ایک دو مشیر وں نے غلط مشورے دیئے۔
اب دیکھنے اورسمجھنے کی یہ بات ہے کہ شہبازشریف کا تو جو فرض ہے وہ انہو ں نے بخوبی آگاہ کردیا ذرا تھوڑا سا ماضی قریب کے جھروکوں میں جھانکا جائے تو چوہدری نثاراورنوازشریف کے مابین بھی دوریوں کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کرتی رہیں ۔کچھ اس کا اظہار بھی ہوا لیکن معاملات اسی طرح چلتے چلے گئے چوہدری نثار علی خان نے اس حوالے سے اہم پریس کانفرنس بھی کی ۔اس کے بعد بھی ان کا ترجمان آگاہی کراتا رہا ۔گذشتہ دنوں رانا ثناء اللہ کے بیان کے حوالے سے بھی چوہدری نثار کے ترجمان نے واضح کیا کہ چوہدری صاحب کے حوالے سے کسی کو کوئی بیان یا وضاحت کرنے کا حق نہیں ۔یہ تمام چیزیں اسی طرح چلتی رہیں چوہدری نثار نے بھی کچھ مشورے دئیے تھے پھر جب شہباز شریف لندن گئے تو وہاں بھی انہوں نے میاں نوازشریف کوچوہدری نثار کا اہم پیغام پہنچایا ۔وہ پیغام کیا تھا اس حوالے سے میڈیا نے مختلف فارمولے جس میں مائنس اورپلس کا ذکر ہوتا رہا زیربحث آئے ۔بہرحال کچھ حقیقت بھی تھی کیونکہ بعد میں حالات جس کروٹ بیٹھتے گئے چیزیں واضح ہوتی گئیں ۔میاں نوازشریف احتساب عدالت میں پیشی کیلئے پاکستان تشریف لائے تو انہوں نے پنجاب ہاؤس میں ایک بھرپور پریس کانفرنس رکھی اگر یہاں یہ کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا کہ وہ پریس کانفرنس کم اور ن لیگ کا جلسہ زیادہ تھا ۔کیونکہ وہاں پر صحافیوں سے زیادہ ن لیگی کارکن موجود تھے ۔تاہم چوہدری نثارعلی خان پریس کانفرنس میں موجود تھے ان کی موجودگی نے ان تمام افواہوں کو غلط ثابت کردیا جو گذشتہ کچھ عرصے سے میڈیا کی زینت بنی ہوئی تھی وہاں پر انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھی واضح کیا کہ ہمارے درمیان ایسے کوئی اختلافات نہیں ہیں ۔ہم یہ بات تسلیم کرلیتے ہیں کہ اختلافات نہیں ہیں مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ اشارے کنائے اور استعارے ضرور مل رہے تھے کہ جہاں کچھ نہ کچھ گڑبڑ تھی ۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کی کیمسٹری خاصی ملتی ہے اسی وجہ سے وہ اورشہباز شریف آپس میں ملتے جلتے رہے اور جو شہباز شریف نے اشارہ کیا ہے کہ میاں صاحب کے اردگرد کچھ گاڑیوں کے شوقین صاحبان نے ایسے مشورے دئیے ہیں تو ضرور ان پر کان دھرنا چاہیے اب یہ مشورے کس نے دئیے ،اس میں کون شامل حال ہے اس کے بارے میں تو رمضانی کو بھی نہیں پتہ مگر یہ بات تو ہے کہ مشورہ کہیں نہ کہیں تو دیا گیا ہے اور میاں شہبازشریف کی بات کو اس طرح بھی پھینکا نہیں جاسکتا ۔یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے وہ عالم الغیب ہے کہ کس نے مشورے دئیے ہیں مگر شہبازشریف کی جانب سے ایک مسئلے کو پوائنٹ آؤٹ کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔میاں صاحب ہم یہاں یہ ضرور کہیں گے کہ اگر آپ کو کبھی بھی نقصان پہنچا تو وہ آپ کی کچن کیبنٹ ہی سے پہنچا ہے ۔اس کچن کیبنٹ پر آپ کو نظر ثانی کرنا پڑے گی آج آپ یہ فیصلہ کریں کہ کیا آپ کی وزارت عظمیٰ قیمتی تھی یا کہ گاڑیاں ،چھوٹے میاں صاحب نے اسی بات کو واضح کیا ہے کہ خدارا نوازشریف صاحب آپ ذرا نیچے بھی مشورے کرلیا کریں جو حلقہ آپ کے اردگرد ہے جس نے اپنے ہی مفادات کو پیش نظر رکھنا ہے چاہے اس میں آپ کی وزارت عظمیٰ ہی کیوں نہ چلی جائے تو اس پر توجہ دینا ہوگی کیونکہ مومن ایک سوراخ صرف ایک بار ہی ڈسا جاتا ہے ۔