- الإعلانات -

ضرب عضب کی کامیابیاں۔وادی شوال سے کراچی تک

nasir-raza-kazmi

 ’دہشت گردی ‘ چاہے درندہ صفت وحشیانہ پن کی ہو بے بہیمانہ خونریز ی کا حیوانی پاگل پن ہو‘ کھلے عام اجتماعی یاانفرادی ٹارگٹڈ کلنگ جیسی بے رحمانہ ہو‘ فرقہ واریت کا انسانیت کش قتل ِ عام ہو ‘ خود کش بمبارکے ذریعے سے کی جائے ‘ موت کا اندھادھند خوف وہراس پھیلا کر لاکھوں روپے کی بھتہ خوری وصول کرنے کا خوف ناک ماحول بناکر معاشرتی تمدن کو تباہ وبرباد کر نے کی وجوہ ہواغواءبرائے تاوان کا ہمہ وقت دھڑ کا ہر کسی امن پسند شہری کو چین نہ لینے دے اور انسانیت کو سرنگوں کردینے والے سبھی ایسی شرمناک سرگرمیاں کہیں سیاست کی نام پر کی جارہی ہوں، کہیں ’اپنی وضح کردہ ذاتی شریعت ‘ کے نفاذ کے نام پر عوام کو زبردستی منوانے کے لئے کی جارہی ہوں یا پھر کوئی ایک سیاسی جماعت یا فرقہ واریت کے نام پر بنی ہو ئی کوئی نیم سیاسی جماعت ایسی دہشت گردیوں میں ملوث ہوں اور حکومت ِ وقت ’اٹل ‘ خاموش تماشائی بنی یہ سبھی کچھ مکروہ اور انسانیت دشمن پے درپے شدت پسند ی کے واقعات دیکھتی رہے گی تو کیا اگر ہم یوں کہیں کہ حکومت ِ وقت ’حقیقت ِ واقعہ ‘ کا ادراک نہیں کر پارہی، ملک میں جاری اندرونی امن و امان کو قائم رکھنے میں کھلی ناکام دکھائی دیتی ہے تو اِس میں کیا غلط ہے چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں جب اگلے ماہ دسمبر کی16 تاریخ کو APS پشاور کے ناقابل ِ فراموش سانحہ پر قوم ایک بار پھر اُن بے گناہ اور معصوم بچوں کو یاد کرکے روئے گی جنہیں اندھا دھند ٹارگٹٹ اجتماعی دہشت گردی کرکے حیو ان نما (نام نہاد ) ”انسانوں“ نے بھون کر رکھ دیا تھا پاکستان میں دہشت گردی کا یہ بہیمانہ سلسلہ گزشتہ 7-8 برسوں سے پہلی مرتبہ کھل کر دنیا کے سامنے اُس وقت آیا، جب 9/11کے بعد امریکا نے افغانستان پر لشکر کشی کی ‘افغانستان پر کس عہد میں کس حکمران نے چاہے وہ برطانوی سامراج کا دوسو سالا زمانہ ہو یا1979 میں روسی دراندازی کا زمانہ‘ لشکر کشی کب نہیں ہوئی افغانی مگر، کسی کے بھی قابو میں نہیں آئے اگر میں یہاں افغانستان پر ہونے والی ’لشکر کشیوں ‘ کی تاریخ کے ابواب میں اُلجھ جاوں تو جو گزارش کرنا چاہ رہا ہوں وہ بات ہی کہیں گم نہ ہوجائے افغانستان کی تاریخ ‘ افغانستان کا تمدن ‘ افغانستان کی تہذیب وثقافت یہ ایک بڑی طویل بحث ہے، اصل مدعا یہ ہے کہ ہمارا مغربی پڑوسی یہ مسلم ملک کسی غیر قوم کی تہذیب وثقافت کے سامنے کبھی سرنگوں نہیں ہوا ، مگر اِس تاریخی سچ کا جواب کون دے گا؟ بڑی آسانی سے افغان صدر مسٹر غنی نے پاکستان پر یہ مضحکہ خیز الزام عائد کردیا کہ ’پاکستان کرائے کے حملہ آورں کے ذریعے افغانستان کو عدم استحکام کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے ؟ پریز یڈنٹ مسٹر اشرف غنی! آپ کی اپنی سرزمین آپ کے اِس بے دلیل الزام کی ’تاریخی نفی ‘ کرتی ہے، افغانستان سے پَرے ’ہلا کو اور چنگیز خان ‘ کے ہمراہ آنے والے حیونی جنگجووں کا لشکر جب افغانستان سے ہوتا ہوا اِس علاقہ سے گزرا تو بہت سے مال ِ غنیمت کی لالچ میں شمالی اتحاد کے افغانی اور عین ممکن ہے کابل قندھار کے افغانی بھی اُس کے ساتھ ہو لیئے ہوں جنہوں نے اُس دور کے عظیم الشان اسلامی تہذیب کے ثقافتی مرکز بغداد کی اینٹ سے انیٹ بجادی تھی قرن ِ وسطیٰ سے حال میں آکر دیکھ لیں خود افغانیوں نے مکمل امریکی تائید وحمایت سے روس کو اُس کے ’جرم ‘ سے زیادہ بڑی سزا دے ڈالی اور رہی سہی کسر اپنے پڑوسی ملک پاکستان میں اپنی دہشت گردی کی سفاک جڑیں ایسی راسخ کردیں جنہیں صاف کرتے ہمیں ایک عہد ہونے کو آگیا مگر دہشت گردی کا یہ افغانی عفریت اب اتنا دیو قامت ہوگیا ہے جسے دبوچنے اور جڑ بیخ سمیت اکھاڑ پھنکنے میں ہماری بہادر محب ِ وطن افواج کے کم ازکم 7-8 ہزارفوجی جوان وافسر شہید ہوچکے سویلین سیکورٹی اداروں کے تعداد الگ ہے جبکہ افغانستان سے آئے دہشت گردوں کے خود کش بمباروں نے 50 ہزار سے زائد پاکستانی شہروں کو موت کی نیند سلا دیا یہ وہ شہری تھے جنہوں نے روسی دراندازی کے دوران اِن افغانیوں کو اپنے ہاں پناہ دی تھی دہشت گردی کو افغانستان میں ’پروموٹ‘ کرنے کا انتہائی لغواور جھوٹا الزام لگانے سے پہلے زمینی حقیقت ِ واقعہ پر انسانی اوصاف ’انصاف ‘ پر نظر رکھنی چاہیئے تھی صدر ِ افغان ’را‘ کے جنونی بہکاو میں آکر اِس قدر جذباتی ہوگئے ! آپ اپنے سامنے پاکستان کے قبائلی علاقہ شمالی وزیر ستان کا نقشہ رکھیں اور یہ دیکھیں کہ پاکستان افواج نے اپنی جانوں پر کھیل کر اپنی بہترین پیشہ ورانہ جنگی حکمت عملی کو ہر قیمت پر کامیاب بنانے کے لئے سطح ِ سمندر سے تقریباً 12 سے18 ہزار فٹ کی بلندی پر ‘ انتہائی بلندو بالا پہاڑی جنگلوں کی د شوا ر گزار سرزمین‘ جہاں سے افغان علاقوں میں جانے کا زمینی راستہ چند کلومیٹر ہوسکتا ہے، اِن علاقوں میں افغانستان میں قائم بھارتی کونصل خانوں تک رسائی رکھنے والے چند پاکستانی نژاد بھگوڑے اور غیر ملکیوں کے ہمراہ افغانی دہشت گرد وں نے طویل ترین سرنگیں بنا رکھی تھی اُن سرنگوں کو اُن سرنگوں میں رکھے گئے مہلک اسلحہ کے ذخیروں کو بہادر اور جری پاکستانی افواج نے تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے ان کا مواصلاتی نظام تباہ وبرباد ہوگیا پھر مسٹرغنی! کرائے کے دہشت گردوں کا الزام پاکستا ن پر لگانا آ پ کو زیب نہیں دیتا ہے وادی  شوال سے پنپنے والی دہشت گردی کی جڑیں ذرا ملاحظہ فرمائیے گا کراچی تک پھیلی ہوئی ہیں، کراچی وہ شہر ہے، جو پاکستان کی اقتصادی شہ رگ ہے، شمالی وزیر ستان سمیت فاٹا کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کی جتنی بڑی بڑی سفاکانہ اور حیونی وارداتیں ہوتی ہیں ،اِن کے لئے فوری ’ فنڈنگ‘ کا حب مرکز کراچی شہر ہی ہے ابتداءمیں جیسے عرض ہو ا’جرائم‘ کے وہ تمام طریقہ ¾ ِ وارادت جو ہم نے بیان کیئے یہ کوئی ڈھکی چھپی باتیں نہیں، بارہا اخبارات میں شائع ہوچکی ہیں وادی ¾ ِ شوال میں آجکل پاکستانی فوج کی گنیں یقینا خوش ہیں چونکہ فریق ِ مخالف سماج دشمن عناصر ملیامیٹ اور اُن کے محفوظ ٹھکانے تباہ اور زمین بوس ہو چکے ہیں کراچی میں پاک رینجرز نے گزشتہ ایک سال سے شہر کو بھتہ خوری ‘ ٹارگٹ کلنگ ‘ اغواءبرائے تاوان ’ اسٹریٹ کرائم ‘دھاندلی زور زبردستی اور اندھا خوف پھیلا کر ہڑتالیں کروانے والے مافیا گروپس سے پاک کرنے کا انتہائی اہم ٹاسک اپنے ذمہ لیا ہوا ہے شمالی وزیرستان میں شروع کیئے گئے آپریشن ِضر ب ِ عضب یقینا وادی ¾ ِ شوال تک ضرور کامیابی سے پہنچ گیا لیکن وہ سنا ہے نا آپ نے ” لپٹنا جھپٹنا جھپٹ کر پلٹنا ‘یہ ہے ہماری افواج کا طرہّ ِ امتیاز ‘وادی ¾ ِ شوال تک ’ضرب ِ عضب ‘ کے کامیاب قدم پہنچنے والے یہ سمجھیں کہ بس! اب یہ آپریشن اُسی حدت وشدت کے ساتھ 12 سے18 ہزار فٹ کی بلندی سے پاکستان کے ساحل ِ سمندر پر اترے گا کراچی شہر میں جو سماج دشمن عناصر گمراہی کی دھول میں یہ سمجھ بیٹھے تھے کراچی آپریشن والے ’کمزور ‘ پڑگئے یہ ٹھیک ہے کہ پاکستان رینجرز کے چند جوانوں نے اپنی قیمتی جانیں پاکستان پر نچھاور کردیں اب اُن ظالموں پر پائیدار عسکری حکمت ِ عملی کے ناقابلِ سکت جوابی وار پے درپے پڑنا شروع ہو جائیں گے۔