- الإعلانات -

بنگلہ دیش میں پاکستانیت کومارنے کی کوششیں

syed-rasool-tagovi

بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجدپاکستان سے بغض اور کینہ میں وحشی پن پر اتر آئی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ایسا کرکے وہ بنگلہ دیش سے پاکستانیت کو ختم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔محترمہ حسینہ صاحبہ کے بھارت سے پہلے ہی گہرے مراسم تھے مگر جب سے ان کے ہم خیال نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا ہے دونوں پاکستان دشمنی اور بغض میںکمال ہم آہنگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ادھر محترمہ حسینہ نے مودی کو قومی ہیروز کی صف میںلاکھڑا کرتے ہوئے انہیں قومی ایوارڈ سے نوازتی ہیں توادھر نریندر مودی بڑے فخریہ اندازمیں اقبال جرم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان توڑنے کی تحریک میںبرابر کا شریک تھا۔ محترمہ حسینہ صاحبہ جس ڈگر پر چل نکلی ہیں انہیں ہوش نہیں کہ بھارتی حکمرانوں نے اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنا ابھی چھوڑا نہیں ہے۔بھارتی حکمران تو بنگلہ دیش کو آزاددیکھنے کی بجائے اسے اپنے اندر ضم کرنے کے خواہش مند تھے۔ آج محترمہ نے بنگلہ دیش کو بھارت کی طفیلی ریاست بنا رکھا ہے تو کیا خبر وہ پاکستان سے نفرت میں کل بنگلہ دیش کو بھارت میں ضم کرنے پر تل جائیں یا کنفیڈریشن بنا ڈالیں۔ محترمہ جس طرح بے دردی سے چن چن کر ان افراد کو پھانسی چڑھا رہی ہیں جن پرپاکستان سے وفاداری کا الزام ہے، انہیں یہ بھی خبر نہیں کہ وہ اپنے باپ کے پاکستان سے طے شدہ اس معاہدے کو توڑ رہی ہیں جو انہوں نے 9 اپریل 1974ءکو پاکستان سے کیا تھا، اس عہد شکنی میں انہوں نے 22 نومبر کو علی الصبح جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ایک سینئر اوربزرگ رہنما علی احسن محمد مجاہد اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے رہنما صلاح الدین قادر چوہدری کو پھانسی چڑھوا دیا۔
مکتی باہنی کی راہ میںمزاحمت بننے والے اس وقت کے پاکستانی سیاسی رہنماﺅںکوپھانسی چڑھانے کا سلسلہ گزشتہ سال سے شروع ہے۔ اب تک اُس وقت پاکستان سے و فاداری نبھانے والے چار اپوزیشن لیڈروںکو پھانسی دی جاچکی ہے جبکہ ایک اور رہنما مطیع الرحمن نظامی کو سزائے موت کا فیصلہ سنایاجاچکا ہے ۔صرف یہی نہیں بلکہ جماعت اسلامی کے پروفیسر غلام اعظم اور ابوالکلام محمد یوسف ٹرائل کے دوران جیل میںہی قتل کئے جاچکے ہیںجبکہ 30ہزار سے زائد کارکن پاکستان سے وفاداری کے جرم میں جیلوںکی ہواکھارہے ہیں۔بنگلہ دیشی حکومت کا یہ اقدام خلاف قانون ، عہد شکنی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کو اس کا نوٹس لیناچاہیے۔ دفتر خارجہ نے بنگلہ دیش میںمعمر اور بے گناہ بنگالی سیاسی رہنماﺅںکی پھانسی پر شدیدتشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بیان میںکہا ہے کہ صلاح الدین قادر چوہدری اور علی احسن مجاہد کی پھانسی پاکستان کیلئے پریشان کن ہے۔ 1971ءکے بعد نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی برادری بھی بنگلہ دیش میںبزرگ سیاسی رہنماﺅں کے مقدمات کا نوٹس لے رہی ہے۔ پاکستان نے درست مطالبہ کیا ہے کہ وہ 9 اپریل1974ءکوکئے جانے والے معاہدے پر عمل کرتے ہوئے مفاہمتی انداز اپنائے۔پھانسی کی سزا پانے والے صلاح الدین قادر چوہدری بنگلہ دیش میں ایک بااثرسیاستدان اور چھ بار رکن پارلیمان بھی رہ چکے تھے جبکہ علی احسن محمد جاوید جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے اہم مرکزی رہنما تھے۔ دونوںکو رحم کی اپیلوں کے مسترد ہو جانے کے بعد لٹکا دیا گیا۔ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے برسر اقتدار آنے کے بعد 2010ءمیں ایک خصوصی ٹریبونل تشکیل دیاتھا جو 1971ءکی جنگ کے دوران جنگی جرائم کاارتکاب کرنے والوں کے نام نہادمقدمات کی شنوائی کررہا ہے۔ ٹریبونل اب تک متعدد رہنماﺅںکو سزائے موت سنا چکا ہے۔صلاح الدین قادر اور علی احسن دونوں پر 1971ءکی جنگ کے دوران نسل کشی اور دانشوروں کے قتل عام میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ حسینہ واجد کی خواہش پربننے والے اس ٹریبونل نے انہیں 2013ءمیں سزائے موت سنائی تھی۔
بنگلہ دیش دسمبر 1971ءتک پاکستان کا حصہ تھا لیکن پھر ایک سازش بُنی گئی جس کے تحت بنگال بنگلہ دیش بنا۔پاکستان کیلئے مشرقی بازو کٹ جانا کوئی کم دھچکا نہیں تھا لیکن پاکستان نے ماضی کی تلخیاں بھلا کر بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا۔ماضی کی تلخیاں بھلا کر آگے بڑھنے کی خواہش کے باوجود بنگلہ دیشی حکام پاکستان کے وجودکو آج تک تسلیم نہیںکررہے۔خصوصاً ”بنگلہ بندو“کا لقب پانےوالے شیخ مجیب الرحمن کی صاحبزادی تو ناک پرمکھی نہیںبیٹھنے دے رہی ہیں۔1971ءکے واقعات کے پیچھے کون تھا ، کونسی طاقتیں ہیں جو پاکستانی اوربنگالی عوام کو قریب نہیںہونے دے رہی ہیں، اس سے دنیا آگاہ ہے ،جو کچھ شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے شروع کررکھا ہے وہ انسانی حقوق کی کھلم کھلاپامالی ہے مگر حیرت ہے کہ عالمی اداروں نے ایک مجرمانہ خاموشی اختیارکررکھی ہے۔یہاں ان نام نہاد دانشوروںکیلئے بھی شرم کا مقام ہے جو شیخ حسینہ واجد صاحبہ کے دست مبارک سے ایوارڈ وصول کرنے کے بعد محترمہ حسینہ کے انسانیت سوز اقدام پر چپ سادھے ہوئے ہیں۔ ان سے تو وہ بھارتی قلم کار ہی بہتر ہیں جومودی کے وحشیانہ اقدام پر اپنے ایوارڈز اس کے منہ پر ماررہے ہیں۔ غداری کے مقدمات کا جو معاملہ شیخ حسینہ واجد کے والد شیخ مجیب الرحمن نے خود پاکستان کے ساتھ باضابطہ معاہدہ کرکے طے کردیا تھا اسے توڑنے کے پیچھے یقیناً بھارتی سوچ ہی کارفرماہے۔شیخ حسینہ واجد حکومت کایہ اقدام ظاہرکرتا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کی خودمختاری مودی حکومت کے پاس گروی رکھ چکی ہیں۔ بنگلہ دیشی عوام کیلئے یہ شرم کا مقام ہے کہ ان کی حکومت کس طرح ان کی ملی غیرت کا سودا کررہی ہے۔