- الإعلانات -

پینتالیس ایامی عباسی حکومت کیلئے ”ستے خیراں”

حکمران جماعت کو اس وقت ایک ہی فکر کھائے جا رہی ہے کہ وہ ایوان اقتدار سے نکالے گئے اپنے لیڈر میاں نواز شریف کو واپس کیسے لائے۔پہلے مرحلے میں اس ”نیک مقصد” کیلئے انہوں نے عددی اکثریت کے زور پر ریاست پاکستان کے بعض قوانین کو موم کی ناک کی طرح مروڑ ڈالا ہے۔بس اگلے مرحلے میں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت کاکام باقی ہے۔اس پر دعوی یہ ہے کہ آمریت کی باقیات کو منہ پر دے مارا ہے۔مان لیتے ہیں کہ آئین میں ایک نااہل اور سزا یافتہ شخص کو دوبارہ پارلیمانی سیاست میں گند ڈالنے سے روکنے کیلئے یہ شق جنرل مشرف کے دور میں ہی ڈالی گئی تھی۔جسے نکال کر نون لیگی حکومت نے اس قوم پر عظیم احسان کیا ہے ورنہ آنے والی نسلیں شاید بین الاقوامی برادری میں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رہتیں لیکن مسلم لیگ کے ذی ہوش(اگر کوئی ہیں)حلقوں سے سوال ہے کہ کوئی یہ تو بتائے کہ خیر سے مسلم لیگ نون کے اپنے جماعتی آئین میں یہ شرط کس ڈکٹیٹر نے ڈالی تھی کہ جسے نکالنے کے لیے اگلے دن کنونشن سنٹر اسلام آباد میں سرکاری وسائل پر دنیا کو تماشہ دکھایا گیا۔جب بھی اس بارے سوال گندم کیا جاتا ہے جواب چنا ملتا ہے۔بالکل ایسے ہی کہ دو دوست ساحل کنارے کھڑے تھے کہ ایک دوست نے کہا کہ دیکھو ڈوبتے سورج کا نظارہ کیسا دلفریب ہے،جواب میں دوسرا دوست بولتا ہے، ہاں تم ٹھیک کہتے ہو لیکن تم بھی تو میری بہن کی شادی میں شریک نہیں ہوئے تھے۔نواز لیگ بھی اسی کیفیت سے دوچار ہے۔
ادھرجب سے نواز شریف کو پارٹی صدارت پر بٹھانے کا قومی فریضہ انجام دیا گیا ہے عباسی حکومت خوشی سے نہال دکھائی دیتی ہے۔وہ سمجھتی ہے کہ پاکستان ترقی کی راہ پر اب گامزن ہوا ہے۔پاکستان کی سالمیت اب ہر طرح کے اندرونی اور بیرونی حملوں سے محفوظ ہو گئی ہے۔پاکستان کے خلاف اب مودی کی روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بکواس بند ہو جائے گی۔اب الطاف حسین کو جرات نہیں ہو گی کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو ننگی گالیاں دے(حالانکہ اب میاں موصوف انہی کی زبان بول رہے ہیں) ۔ اب بیرون ملک” حسین حقانی نیٹ ورک” سازش نہیں کر پائے گا۔کوئی بھگوڑے(دھوبی کے کتے گھر کے نہ گھاٹ کے)آزاد بلوچستان کے نام کا دنیا بھر میں پروپیگنڈا نہیں کریں گے۔ اب پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کے قابل ہو گیا ہے۔پینتالیس ایامی عباسی حکومت کیلئے اب ستے خیراں ہیں۔ اسکے لیے اسکی کوئی اہمیت نہیں کہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے اگلے روز پھر دھمکی دی ہے کہ پاکستان کی نان نیٹو اتحادی حیثیت ختم کرنا آپشن ہو سکتا ہے۔اس کے نزدیک اس کا جواب دینے کی بھی ضرورت نہیں جوامریکی فوج کے سربراہ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے شدت پسند تنظیموں سے رابطے ہیں۔امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین، میرین کور جنرل جوزف ڈنفورڈ نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ یہ بات واضح ہے کہ آئی ایس آئی کے دہشت گرد گروہوں سے روابط ہیں۔ امریکی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ پاکستان افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک سمیت دہشت گرد گروہوں کیخلاف کارروائی پر آمادہ نہیں ہے۔ عباسی حکومت اور ہمارے وزیر خارجہ کے کانوں پر جوں رینگانے کیلئے یہ اطلاعات بھی کافی نہیں ہیں کہ جرمنی،جنیوا،برطانیہ اور امریکہ وغیرہ میں فری بلوچستان کے بینر تلے حسین حقانی سابق ایمبیسیڈر، براہمداغ بگٹی لیڈر بی ایل اے،مہران مری صدر بی ایچ،حمال حیدر ترجمان بی این ایم،بنوک کریمہ صدر بی ایس او(آزاد)احمر مستی خان کنوینیئر امریکن فرینڈز آف بلوچستان ،یہ سب ماہ اگست میں نیشنل پریس کلب واشنگٹن ڈی سی میں نواب اکبر بگٹی کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں پاکستان اور پاک فوج پر کیا لاف زنی کرتے رہے۔ اس تقریب میں سرعام کہا گیا کہ نواب اکبر بگٹی کو چین اور پاک فوج نے مل کر راہ سے ہٹایا تاکہ وہ مل کر” سی پیک” کی آڑ میں بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کر سکیں۔اسی طرح بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد)نے دو چار روز قبل 10 ڈاوننگ اسٹریٹ پر برطانوی وزیر اعظم کے گھر کے سامنے احتجاجی مظاہرے کا کیا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ بلوچستان میں جاری فوجی آپریشنوں،جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشوں کے برآمدگی کے خلاف منعقد کیا گیا۔ مظاہرے میں بی ایس او کے کارکنوں کے علاوہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ادھر جرمنی کے شہر گوٹنجن میں حربیار مری نے 30ستمبر کو چین کے قومی دن کے موقع پر سی پیک کے خلاف مظاہرہ کیا۔جسمیں بلوچستان میں نام نہاد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سی پیک کی وجہ سے بلوچوں کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کا واویلا کیا گیا۔یہ سب کچھ حالیہ ایک دو ہفتوں کے دوران بھارت کی بھاری انویسٹ منٹ سے ہوا بلکہ ایک دو پاکستان مخالف مظاہرے عین ان دنوں میں ہوئے جب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر خارجہ خواجہ آصف امریکہ میں موجود تھے اور وزیرخارجہ موصوف یہ اقبال جرم کررہے تھے کہ ہاں لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک جیسی تنظیمیں ہم پر بوجھ ہیں۔وزیر خارجہ کو یہ فکر تو ضرور تھی کہ ”را”، مودی اور جندال کی جان کلبھوشن شیطان کو افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے تبادلے میں کس طرح بھارت کے حوالے کیا جائے۔حیرت ہے کہ کلبھوشن بھارتی شہری اور دہشت گرد ہے جبکہ تبادلے کی تجویز افغانستان سے ڈسکس ہو رہی ہے۔کلبھوشن کو فوجی عدالتوں سے پھانسی کا فیصلہ سنایا جا چکا ہے لیکن حکومت کی نااہلی کی وجہ سے معاملہ عالمی عدالت میں چلا گیا ہے جہاں بھارت نے قونصلر رسائی مانگ کر رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے حکومت نے جانتے بوجھتے ہوئے ایسا کیا۔ایسا بھارت میں ہوا ہوتا تو وہاں ایسے مجرم کو کب کی پھانسی دے دی گئی ہوتی کتنی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جبکہ ہمارے ہاں کا باوا آدم ہی نرالہ ہے۔1999میں آزاد کشمیر سے غلام شبیر نامی ایک انڈین نیشنل کو گرفتار کیا گیا جو اسلام گڑھ بس بم دھماکے میں ملوث تھا۔اس بم دھماکے میں آٹھ دس شہری جاں بحق ہو گئے تھے۔ملزم کا آزاد کشمیر ہائی کورٹ اور قاضی کورٹ میر پور میں ٹرائل ہوا جہاں اسے پھانسی کی سزا ہوئی مگر 2015سے آزاد کشمیر سپریم کورٹ اور شریعت کورٹ میں اس کی اپیل لگی ہوئی ہے۔اب اگر کل کلاں بھارت اس کا معاملہ بھی عالمی عدالت انصاف میں لے گیا اور قونصلر رسائی مانگ لی تو یہ دہشت گرد بھی بچ نکلے گا۔پھر وہی بات کہ اگر یہ معاملہ بھارتی عدلیہ کے سامنے جاتا تو دو چار ماہ میں اسے پھانسی گھاٹ پہنچا دیا گیا ہوتا,افضل گرو ,اجمل قصاب کے کیس ہمارے سامنے ہیں۔بات ہو رہی تھی حکومت کی اور وزارت خارجہ کہ ان کا گھر کی صفائی کے بیانیہ پر تو پورا زور ہے لیکن گھر سے باہرمودی کے یاروں نے جو بیانیہ اپنا لیا ہے، اس پر دو حرف بھیجنے کی جرات نہیں کی جا رہی ۔میرے خیال میں اس پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دینے کی بھی ان کے نزدیک ضرورت نہیں ہے جو بھارت روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے پھیلا رہا ہے کہ میانمار کی مذہبی تنظیم ارسا(اراکان روہنگیا سالویشن آرمی)کی پاکستان پشت پناہی کررہا ہے اور یہ کہ ارسا کے لیڈر عمار جنجونی کراچی میں پلا بڑھا جو آئی ایس آئی کا تربیت یافتہ ہے۔یہ تو صد شکر ہے کہ برطانوی اور امریکن میڈیا نے ان بے سروپا کہانیوں کو اہمیت دے کر ایشو نہیں بنایا ورنہ خوب تماشہ ہوتا۔
*****