- الإعلانات -

دہشتگرد کون ۔۔؟

uzair-column

دنیا میں ہونیوالی دہشتگردی کی بھی مختلف اقسام ہیں ۔کہی تو اتنی دہشتگردی ہوتی ہے کہ معصوم بچوں کوبھی صفحہ ہستی سے مٹا کر معافی مانگ لی جاتی ہے کہ غلطی ہوگئی ۔مطلب کہ مرغی جان سے گئی اور کھانے کا مزہ نہ آیا ۔اگر امریکہ او اس کے اتحادی بمباری کریں اس میں لوگ مارے جائیں تووہ سارے کے سارے دہشتگرد ہیں ۔کمال حیرانگی تو اس وقت ہوئی جب گذشتہ روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ نہتے فلسطینی جو پتھرمارتے ہیں یا اپنی جان بچانے کیلئے چاقو سے حملہ کرتے ہیں تو وہ دہشتگرد ہیں مگر اسرائیل ٹینک لے کر چلے جائیں ،بیت المقدس جو کہ امت مسلمہ کا قبل اول ہے اس کو نقصان پہنچائیں ،وہاںپر مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کریں ،نوجوانوں کو بیت المقدس میں نماز نہ ادا کردیں ،بستیوں کی بستیاں اجاڑ دیں ،ایف 16سے حملے کریں تو یہ دہشتگرد نہیں ہیں یہ اپنا بچاﺅ کررہے ہیں ،یہی ان کفار کا دوغلا پن ہے ۔جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔جب یہ خود حملہ کریں تو ان کے حملے سے دہشتگرد اوردہشتگردی ختم ہوتی ہے اوراگر کوئی اپنے دفاع کیلئے ان پر حملہ کردے تو وہ دہشتگرد بن جاتا ہے ۔اس وقت دنیا میں ایک اور اہم ترین مسئلہ درپیش آچکا ہے جب ترکی نے روس کے طیارے کو انتباہ کیا کہ وہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کررہا ہے ۔اس نے کچھ نہ سنا پھر ترکی کے ایف 16فضاءمیں بلند ہوئے اورروس کا طیارہ مار گرایا ۔چونکہ امریکہ اوربرطانیہ نے ترکی حمایت کررکھی ہے اور اس روس نے تقریباً ترکی کیخلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے سرحدوں پر میزائل نصب کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر یہ احکامات جاری کیے ہیں کہ کوئی بھی ایسا وقوعہ پیش آتا ہے تو فی الفور حملہ کردیا جائے ۔اس وقت دنیا کی توجہ مسلم ممالک میں ہونیوالی جنگ سے ہٹ کر ترکی اور روس پر مرکوز ہوچکی ہے ۔گو کہ ترکی مسلمان ملک ہے اور وہ امت مسلمہ کا ایک حصہ ہے ۔اس نے ایک بہادری کا کام کیا مگر یہ بات جان لینی چاہیے کہ جیسے جیسے وقت گزرے گا اس میں یہ کفار پھر اکٹھے ہوتے چلے جائیں گے اور آخر کار ترکی کے اردگرد یہ لوگ گھیرا تنگ کردیں گے ۔دہشتگردی کے اس دوہرے معیار کو ختم کرنے کیلئے تمام مسلمانوں کو اسی طرح کا حوصلہ کرنا ہوگا جس طرح ترکی نے قدم اٹھایا کہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے روسی جہاز کو زمین بوس کردیا ۔بات دہشتگردی ہورہی تھی ،فلسطینی معصوم بچے اورخواتین کہاں کے دہشتگرد ہیں پاکستان کا اس حوالے سے واضح موقف ہے ۔وزیراعظم نوازشریف نے بھی گذشتہ روز اس بات کو کلیئر کردیا تھا کہ پاکستانی عوام مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل میں عالمی برادری کی ناکامی پر مایوس ہیں اورفلسطینی عوام غیر انسانی سلوک کا شکار ہیں ۔پاکستانی عوام کیوں نہ مایوس ہوں عرصہ دراز سے فلسطینیوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹا جارہا ہے اورجب بھی کوئی مسئلہ درپیش آتا ہے تو امریکہ اپنے بغل بچہ اسرائیل کیساتھ کھڑا ہوجاتا ہے ۔کیوں نہیں تمام مسلم ممالک فلسطین یا کشمیریوں کے ساتھ متحد ہوکر کھڑے ہوتے ۔اسرائیل تو اتنا بڑا ملک بھی نہیں ہے اس میں اگر صرف سارے عرب ہی متحد ہوجائیں تو اسرائیل کو صفحہ ہستی سے نیست ونابود کیا جاسکتا ہے ۔یہ وہ بددعائی قوم ہے جس میں سب سے زیادہ پیغمبر نازل ہوئے مگر یہودیوں نے راہ راست حاصل نہ کیا ۔یہ قوم قیامت تک راند درگاہ رہے گی اور اسی تباہ حال رہے گی مگر مسلمانوں کی نااتفاقی کی وجہ سے یہ کفار آج دنیا بھر میں چھائے ہوئے ہیں ۔اگر مسلمان کا بچہ پتھر بھی مار دے تو وہ دہشتگرد ہے اور کفار نائن الیون اور سیون سیون یا پیرس حملوں کو بنیاد بنا کر ہرجگہ مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جاتاہے ۔اگر ان کاکوئی ریمنڈ ڈیوس پکڑا بھی جائے تو اس کیلئے اوبامہ براہ راست سکرین پر آکر کہتا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو رہا کیا جائے اور پھر آخر کار اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے ۔آخر وہ کون سی ایسی مجبوریاں ہیں کہ یہ چٹی چمڑی والے دنیا بھر میں دہشتگردی مچائیں مگر انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں جگہ جگہ مسلمانوں پر اس وقت متحد ہوکر حملے کیے جارہے ہیں ،نسل کشی ہورہی ہے ،مودی جس کا امریکہ میں داخلہ بند تھا جب وہ دہشتگرد دشمن ملک کا سربراہ بنا تو امریکہ نے اس کیلئے اپنے دروازے کھول دئیے ۔کیا کبھی مسلمان کیلئے بھی ان کفار نے ایسے اقدامات اٹھائے ،یہ ناممکن بات ہے اور نہ ہی ان سے اس طرح کی کوئی امید رکھی جاسکتی ہے ۔اگر آج مسلمانوں کو مسائل درپیش ہیں تو وہ محض اپنی تفرقہ بازی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلم ممالک کو ہر طرح کی نعمتوں سے نواز رکھا ہے ،کسی چیز کی کمی نہیں ہے اگر کمی ہے تو وہ صرف اتفاق اوراللہ اوراس کے رسولﷺ کے احکامات پر پابندی کی ۔جس دن تمام مسلمان ایک پلیٹ فارم پرجمع ہوکر متحد ہوگئے وہی دن امریکہ ،برطانیہ ،بھارت اوراسرائیل کیلئے آخری دن ہوگا اور پھر مسلمانوں کی ہی سلطنت میں سورج طلوع بھی ہوگا اور غروب بھی ہوگا ۔