- الإعلانات -

بھارتی ایٹمی سب میرین’چاکراہ ‘ کا حادثہ

بحیرہِ عرب اوربحیر ہِ ہند کے سمندروں کے ساحلوں پرواقع جنوبی ایشیا کے دوایٹمی پڑوسی ملک’پاکستان اوربھارت’کے مابین گزشتہ7 عشروں سے جاری کشمکش اورعداوت میں کمی ہونے کی بجائے دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ اِس میں کسی نہ کسی شکل میں آجکل اضافہ ہوتاہوادکھائی دے رہا ہے’اْدھراْوپر کی جانب شمالی علاقوں میں دوطرفہ طویل لائن آف کنڑول پرکوئی روزایسا نہیں گزرتاجب بھارتی سائیڈ سے پاکستانی علاقوں پر بھارتی فوج بہیمانہ بلا اشتعال گولہ بار کرکے عام پاکستانی شہریوں سمیت بین الاقوامی سرحد پر تعینات پاکستانی فوجیوں کو بھی نشانہ بناکراْنہیں شہید یازخمی نہ کرتی ہو’جس کے بعد پاکستانی فوج اپنے اِن دشمنوں کوفوری طور پر’کرارا’جواب تو دیتی ہی ہے’ لیکن’چھوٹے چھوٹے پیمانے پر رونما ہونے والے ایسے سنگین واقعات پراقوامِ متحدہ کوفوری نوٹس لینا چاہیئے’جوکہ نہیں لیا جاتا اور جس کی بناء پربھارتی اشتعال انگیزیاں اِن دِنوں کچھ زیادہ ہی بڑھتی ہی جارہی ہیں’جیسا کہ بین السطوربیان ہوا کہ عام طور پردنیا بھرمیں اورخاص کر بھارت نواز مغربی حلقوں میں زیادہ شورشرابا ہمیشہ پاکستانی جوہری اثاثوں پرتشویش بلکہ ‘گہری تشویش‘ کو موضوعِ بحث بناکرایسا تاثر پھیلانے کی متعصبانہ پالیسیاں اپنانے میں پاکستان دشمن میڈیا بڑا وقت ضائع کرتاہے یہ دیکھے اورجانے بغیر’ کہ پاکستان کے پڑوس میں بھارت بھی ایک ایٹمی ملک ہے’جہاں پراب تک لاتعداد ایٹمی حادثات رونما ہوچکے ہیں’چاہے وہ ایٹمی حادثات کسی تکنیکی غلطی کی وجوہ سے ہوئے ہوں’یا کسی انسانی لاپروائی کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئے ہیں’ہاں!اِس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ الحمداللہ! پاکستان میں 1998 مئی سے اب تک ایک بھی ایٹمی حادثہ نہیں ہواہے’ پاکستانی جوہری سائنسدان ہمہ وقت ہوشیار’چوکنا اور چوکس اپنی اہم اورحساس قومی اور ملکی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اْنہیں اورمزید سخت اور کڑی ذمہ داری کے ساتھ اداکرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کررہے‘ بھارت نے امریکا سے لیکر روس تک کہاں کہاں سے نہیں جوہری ہتھیار برآمد کیئے ہیں’ وہ جو چاہے کرئے پاکستان کوکوئی اعتراض نہیں’لیکن اْسے ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کا آخر احساس کب ہوگا؟یہاں تنگیِ کالم کا لحاظ کرتے ہوئے ہم اْس تفصیل میں جانے سے احتراز کریں گے کہ بھارت کے کن کن ایٹمی حادثات کا یہاں تذکرہ کیا جائے ؟ ’بھارتی ایٹمی سب میرین چاکراہ’ جوبھارت نے روس سے 10 سال کی مدت کے لئے بطور ٹھیکہ پر 2012 میں لی تھی یاد رہے کہ یہ ایک ‘ایٹمی جوہری سب میرین’ ہے جس کی مکمل دیکھ بھال اور بھارتی سائنسدانوں کی بڑی اہم ذمہ داری بنتی تھی’جس سے وہ کسی صورت بھی انکارنہیں کرسکتے اگر’بھارتی ایٹمی سب میرین چاکراہ’ کی ٹائم ٹو ٹائم ذمہ داری کے ساتھ چیکنگ اورگہری اسکیننگ کے مواصلاتی سسٹم پر نگاہ رکھی جاتی رہتی تو’بھارتی ایٹمی سب میرین چاکراہ’ کو’وسیکا پٹنم ہاربر’پراِتنے بڑے نقصان کاسامنا نہ کرنا پڑتا’جیسا ہم سمجھ چکے ہیں کہ بھارت جیسا ایٹمی ملک جسے خطہ میں اپنی ضروریات سے بہت زیادہ بڑھ کراگرایٹمی ہتھیار رکھنے کا بڑا شوق ہے تواْس کے ذمہ دار سائنسدانوں نے نئی دہلی کے حکام کوکیسے یہ مشورہ دیدیا؟یاوہ اِس امر پرراضی کیسے ہوگئے؟کہ ایک’ایٹمی آبدوز’ کواندھراپردیش کی گنجان آباد ‘وسیکا پٹنم ہاربر’جہاں ہمہ وقت بڑے جہاز لنگرانداز ہوتے ہیں‘ ایک کے بعد ایک بڑا جہاز سامان سے لدھا ہوا وہاں پہنچتا ہے اور بہت وسیع پیمانے پرجہازوں سے سامان اتارا اور چڑھایا جاتا ہیاندھراپردیش کایہ ہاربر بھارت کے 13 بڑے ہاربروں میں یقیناًشمار ہوتا ہے لیکن’ یہاں پرانسانی آبادیاں بھی ساتھ ساتھ بس رہی ہیں یہ ماہی گیری کا ایک اہم اوربڑا مرکز ہے یہاں کیوں اورکیسے بھارتی ایٹمی سائنسدانوں نے نجانے کیا سوچ کر ‘بھارتی ایٹمی سب میرین چاکراہ’ کی تکنیکی خرابیوں کو درست کرنے کا ایک نہایت بیوقوفانہ فیصلہ کیا تھا’ جس کے مضر نتیجے میں’ بھارتی ایٹمی سب میرین چاکراہ’ ایک بڑے حادثے کا شکارہوگئی’ جب عالمی میڈیا تک یہ خبر پہنچی توپھر بھارتی میڈیا کوبھی ہوش آگیا سب کے سب بھارتی نیوی کے اعلیٰ افسران اوربھارتی دفاعی امور کے اعلیٰ حکام تک رسائی کیلئے بھاگ دوڑ کرنے لگے مگرمجال ہے جو کسی نے اِتنے بڑے حادثہ کی کوئی ایک تفصیلات کسی کودی ہو؟ پاکستان کوہمہ وقت جوہری معاملات پراپنی لا حاصل کج بحثوں میں بلاوجہ سمیٹنے والے اِس واقعہ کوپی’ گئے’بھارت پرانگشت نمائی کرنے کی اْن میں کوئی ذرا بھی اخلاقی جرات نہ ہوئی’ایسے ایک نہیں بھارت میں لگاتار کئی ایٹمی حادثات رونما ہو چکے ہیں یہ بھی جان لیں کہ بھارت میں بڑی مقدار میں ایٹمی فضلہ اورتیارایٹمی مواد ایٹمی مراکز سے چوری ہوکرعام مارکیٹ میں سبزیوں کی طرح جو چاہے خریدلے! یقیناًیہاں ہم ‘عالمی ادارہ برائے نیوکلیائی توانائی’ کے ذمہ داروں کی توجہ بھارت کی جانب دلانا چاہیں گے کہ ‘نیوکلیائی توانائی’ کی نگرانی کا عالمی ادارہ ہاتھوں پر ہاتھ دھرے بیٹھا نہ رہے بلکہ بھارت میں بڑھتی ہوئی انسان دشمن سرگرمیوں پر اپنی نگاہ رکھے’نیوکلیائی توانائی’ کے عالمی ادارے کو چاہیئے وہ بھارتی اعلیٰ حکام کو عقلی دلائل اور منطق کے علاوہ عملی مشاہدے سے بھی اِس بارے میں غوروفکرکرنے کی طرف لانے کی سعی کرئے، جوہری ہتھیاروں کی دستیابی کیلئے پاگلوں کی طرح’ندیدوں کی طرح دنیا بھر میں ہاتھ پیر مارنے سے بھارت مزید معاشی ہولناکیوں کی کھائیوں میں جاگرے گا، حد ہوگئی ہے، اب تک بھارت کو سمجھ نہیں آرہی کہ جوہری ہتھیار کتنی ہولناکیاں اور تباہیاں پھیلا سکتے ہیں؟، مگر پھر بھی وہ ‘سنجیدہ’ ہونے کی طرف آنا نہیں چاہ رہا ‘بھارت سمجھتا ہے کہ امریکا اور مغربی دنیا بھارت میں پے درپے ہونے والے ایٹمی حادثات سے اپنی آنکھیں بند رکھیں گے یہ اُس کی بڑی بھول ہے ’بھارتی ایٹمی سب میرین چاکراہ‘ کیساتھ کیا ہوا؟ یہ ایٹمی آبدوز کسی جہاز سے ٹکرائی یا کوئی اور بڑی