- الإعلانات -

عقیدہ ختم نبوتﷺ۔۔۔حلف نامے کی بحالی

حکومت اور اپوزیشن نے انتخابی بل2017ء میں شامل کاغذات نامزدگی میں عقیدہ ختم نبوتؐ کے حلف نامہ7B اور7C کی بحالی پر اتفاق کرلیا جو خوش آئند ہے۔ اس ضمن میں پارلیمنٹ میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کے دوران امیدواروں کے کاغذات نامزدگی فارم میں حلف نامے میں تبدیلی کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر حکومت اور اپوزیشن کے رہنماں نے فیصلہ کیا کہ حلف نامے کو پہلے والی شکل میں واپس لانے کیلئے ترمیمی بل لایا جائے گا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ الیکشن ریفارمز کا ایکٹ اسمبلی سے پاس ہوا جس کے بعد حلف نامہ سے متعلق ایک بحث چھڑی،کل میری طبیعت ناساز تھی آج جب صبح آیا تو سوچا سب کو مل بیٹھ کر لائحہ عمل بنا کر اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔ سیشن کے دوران میں نے اعلان کیا کہ پارلیمانی لیڈر میرے چیمبر میں تشریف لائیں تاکہ جو غلطی ہے اس کی درستگی کی جائے میں پارلیمانی لیڈر کا شکر گزار کہ سب نے سرجوڑکر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی،حلف نامہ کو اصل شکل میں بحال کیا جائے گا۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ اس کو پاس کردیں گئے جب بھی غلطی کا احساس ہوں تو درستگی کرنا کوئی غلط بات نہیں ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ حساس اور جذباتی مسئلہ ہے پورے ملک میں ہلچل سی مچ گئی ہے، اپوزیشن نے اس مسئلے کی نشاندہی کی اور اسے اسمبلی میں اٹھایا۔آج اتفاق ہوا ہے کہ ارکان کے کاغذات نامزدگی میں حلف نامہ کے فارم کو اصل شکل میں بحال کیا جائیگا۔سب نے اتفاق کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ2017میں ترمیم کی جائے گی اور اسے پورانی شکل میں بحال کیا جائے گا۔ ہم نے پارلیمانی لیڈر سے درخواست کی کہ جہاں بہتری کیلئے اصلاح کررہے ہیں وہاں شق2003کے کلاز پر بھی نظرثانی کی جائے وہ بھی متنازعہ ہے وکلاہ ہڑتال پر ہیں۔کیا ن لیگ کے پاس کوئی ایسی شخصیت نہیں جس کو پارٹی کا صدر بنا سکے،نئے پارٹی صدر کے طورپر شہباز شریف کا نام تجویز کیا گیا کیا آپ ان پر اعتماد نہیں کرسکتے وہ آپ کے اپنے نہیں ہیں۔ جس شق میں پارلیمنٹیرین شدید ردعمل کا اظہارکررہے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہوں نے اس بل کو پڑھے بغیر اس پر دستخط کردئیے اور اس کی حمایت کی۔ بعض عناصر تو شرارت پر مبنی اس ترمیم کے جواز میں اپوزیشن کو مناظرے کی دعوت دیتے نظر آئے لیکن آج وقت نے ثابت کردیا کہ قادیانیت اقدامات امت کیلئے ناسور قرار پاچکے ہیں، ختم نبوتؐ والی شق ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہے۔ آئینی بل میں بدنیتی سے ترمیم کی گئی، ختم نبوتؐ قوانین کے تحفظ کیلئے علماء کرام اور عوام کسی قربانی سے دریغ کرتے دکھائی نہیں دے رہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ نواز شریف نے ختم نبوتؐ کے حلف نامے میں تبدیلی پر نوٹس لیتے ہوئے اس کی بحالی کا حکم دیا ہے اور وفاقی وزراء کی طرف سے مبہم وضاحتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے دو پارٹیوں کی بیک وقت رکنیت کی سودے بازی تو سمجھ میں آرہی ہے مگر حلف نامے کے الفاظ کو اقرار نامے میں تبدیل کرنے کی کس نے سازش کی اور یہ سازش کس کی ایماء پر ہوئی اسے بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ ایسے مذموم واقعات کا اعادہ نہ ہو۔ اس منظر نامے کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اپوزیشن نے غلطی کا ادراک کرتے ہوئے بلا تاخیر تبدیل شدہ شق کو اصل شق میں لانے پر اتفاق کیا اور اس حساس معاملے پر کسی نے بھی سیاست کرنے سے گریز کیا۔ ملک میں سیکولر کی کوئی گنجائش نہیں، حلف نامے کو اقرار نامے میں تبدیل کروانے میں قادیانی لابی کا ہاتھ خارج از امکان نہیں، اکابرین نے جو قانون 1974 میں منظور کروایا اس کے ساتھ چھیڑ خانی سے گریز کیا جائے۔سازش کرنیوالوں نے دیکھ لیا کہ پاکستان کے دینی اور مذہبی حلقوں کے علاوہ عوام اورسیاسی بصیرت کے حامل رہنما تڑپ اٹھے ہیں اور اس سازش کیخلاف سراپا احتجاج دکھائی دے رہے ہیں اور اس بل کو عدالت میں چیلنج بھی کیا جاچکا ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور اس طرح کی مذموم حرکات اور اقدامات سے گریز کرے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے۔