- الإعلانات -

جمہوریت کے فروغ کیلئے سیاسی بصیرت او ربرداشت کی ضرورت

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نوشہرو فیروز میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان جمہوریت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا، سیاسی اور ملکی مفاد رکھنے والی جماعت میں فرق ہے ۔ سی پیک 50 سال تک پاکستان کو ترقی دے گا،موجودہ حکومت نے صوبوں کا خیال رکھا ہے۔ سیاسی فیصلے سڑکوں اور عدالتوں میں نہیں ہونے چاہئیں ملک اس وقت ترقی کی شاہراہ پر کھڑا ہے، جمہوریت پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دینگے ، میثاق جمہوریت پر عمل نہ ہونے سے سیاست اور سیاستدان بدنام ہورہے ہیں۔ دوسری طرف ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے ۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ منظم سازش کے تحت منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دیا گیا ، پاکستان کو اس دلدل سے نکلنے نہیں دیا گیا جہاں آئینی اور جمہوری نظام چلے۔شاہد خاقان عباسی نے مزید کہاکہ جمہوریت پاکستان کی ترقی کی علامت ہے ،2006میں بے نظیر اور نواز شریف نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے ہمیں اس کے مطابق سیاست کو آگے لے کر جاناہے۔ ملک میں جس سیاست پر بے نظیر اور نواز شریف میں اتفاق ہوا تھا وہی سیاسی معیار آگے چلے گا،پاکستان جمہوریت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پورے ملک میں امن مسلم لیگ (ن)کا تحفہ ہے۔ہم نے دہشت گردی کو شکست دی اور دیتے رہیں گے۔چار سال پہلے اور آج کے کراچی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔آج ملک ترقی کی شاہراہ پر کھڑا ہے اور معیشت مضبوط ہو رہی ہے،دہشت گردی وہ ناسور تھا جس نے لوگوں کو غیر محفوظ اور معیشت کو تباہ کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کندھ کوٹ گیس فیلڈ میں پیداوار بڑھانے کے منصوبے کا افتتاح کیاوزیراعظم نے نوشہرو فیروز میں بجلی اور گیس کے منصوبوں کیلئے ڈیڑھ ارب روپے کا اعلان کیا جبکہ سڑکوں کیلئے ایک ارب روپے کااعلان کیا، وزیراعظم نے نوشہرو فیروز کیلئے صحت کارڈ اسکیم کے اجرااور محراب پور میں ترقیاتی کاموں کیلئے 20کروڑ روپے دینے کا بھی اعلان کیا۔ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے تھے اس کی بنیاد یہی تھی کہ انتقام کی سیاست کو ختم کیا جائے گا، عوام کے نمائندے کا حق اسے دیا جائے گا اور عوام کا مینڈیٹ قبول کیا جائے گا، بدقسمتی سے آج یہ نہیں ہے، 28جولائی کو ایک عدالت کا فیصلہ آبا جس کو حکومت نے قبول کیا، بہت سے لوگ انتشار کی توقع کر رہے تھے لیکن وزارت عظمیٰ کا کوئی امیدوار نہیں تھا، جس کا نام پارٹی نے دیا وہ وزیراعظم بنا، یہ جمہوریت کی مضبوطی ہے، ملک اس وقت ترقی کرے گا جب جمہوریت ہو گی۔جب معیشت مضبوط ہو،سی پیک اگلے 50سال تک پاکستان کو ترقی دے گا اور معیشت کو مضبوط کرے گا، کھوکھلے نعروں سے مسائل حل نہیں ہوتے، ملک ترقی کرے گا تو ملازمتیں پیدا ہوں گی اور لوگوں کو روزگار ملے گا۔ وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے جو کہا ہے وہ ان کا اپنا نقطہ نظر ہے اس سے اتفاق ضروری نہیں، ملک کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے، ایک طرف بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیاں ہمارے لئے درد سر بنی ہوئی ہیں تو دوسری طرف ملک میں سیاسی عدم استحکام کی فضاء ہمارے لئے پریشان کن ہے، ملک کو ترقی کے راستے پر ڈالنے کیلئے سیاسی استحکام کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ حکومت عدالتوں سے ٹکراؤ کی پالیسی کو ترک کرے اورسابق وزیراعظم اپنے خلاف کیسوں کی پیروی کریں تو ان کیلئے بہتر ہوگا۔ عدالتیں جو فیصلے دیتی ہیں وہ قانون کے تناظر میں ہوا کرتا ہے اس کو تسلیم کرلینا ہی سیاسی تدبر اور بصیرت ہے۔عدالتوں کیخلاف رائے عامہ ہموار کرنا ہمارے خیال میں جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔