- الإعلانات -

جھوٹ اور مکر و فریب کی کہانی آخر کب تک؟

بلاشبہ پاکستان میں جمہوری ریاستی نظام (state crafts)کو جس قدر نقصان سابق نا اہل وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پہنچایا ہے اُس کی مثال دنیا بھر کی دیگر جمہوریتوں میں نہیں ملتی۔ چنانچہ انتخابی اصلاحات ایکٹ کے تحت جرائم میں ملوث افراد کو ملکی سیاسی منظر نامے میں داخل کرکے پاکستانی جمہویت کو فاشسٹ حکومت کے درجے پر فائز کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔حقیقت یہی ہے کہ پاناما پیپرز نے نوے کی دھائی میں مبینہ طور پر نواز شریف کی بچوں کے نام پر آف شور کمپنیوں میں چھپائی گئی دولت کے آشکار ہونے پر مبینہ طور پر نواز شریف حکومت کا کرپشن آلود چہرہ سامنے آ گیا ہے۔ اِس سے قبل ملکی اور غیر ملکی حالات سے باخبر لکھنے والے دانشور سابق صدر جنرل ضیأ الحق کی حادثاتی موت کے بعد پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کیساتھ ہی اقتدار کی غلام گردشوں میں پلنے والی کرپشن اور بدعنوانی کا بخوبی تذکرہ کرتے رہے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کی پروپیگنڈہ ٹیم عوام الناس کی ڈِس انفارمیشن کیلئے نواز شریف کو بدستور ملک کا نجات دہندہ بنا کر پیش کرتی رہی ہے۔ اگست 2002 میں شائع ہونے والی کتاب ” قیادت کا بحران” کے مصنف جنرل جہانداد خان نے لکھا ہے: ” اگر اہل اقتدار سچے قومی جذبۂ خدمت سے محروم ہوں بلکہ ذاتی اور اجتمائی مفادات کیلئے کوشاں ہوں تو ملکی حالات کا سنبھلنا اور سنورنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اِس کی تازہ مثال 1988سے 1999 تک بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ادوارِ حکومت ہیں جب اُن کے غیر دانشمندانہ اقدامات نے قوم کو مایوس کیا بلکہ ان کے گیارہ سالہ عہد حکومت میں ملک کی معاشی تباہی ، رشوت ، بدنظمی ، اقربہ پروری اور قومی اداروں کی بیخ کنی عروج پر تھیں جس کے نتائج آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے” ۔ جنرل جہانداد کی تائید لندن میں مقیم پاکستانی نژاد مصنف طارق علی نے نیو یارک سے شائع ہونے والی کتاب ، دی ڈوئل، میں لکھا ہے :” کرپشن نے پاکستان کو پانی کی چادر کی طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مرحوم بے نظیر بھٹو اور اُنکے شوہر آصف علی زرداری نے دو مرتبہ وزیراعظم بننے پر 1.5 بلین ڈالر کے اثاثہ جات بنائے جبکہ دو مرتبہ وزیراعظم بننے پر نواز شریف اور اُنکے بھائی جنہیں تجارتی دائرہ کار کا اچھا علم تھا اِس سے دوگنی ( تین بلین ڈالر) دولت کمائی” ۔
چنانچہ جب جائز ناجائز ذرائع سے دولت جمع کرکے آف شور کمپنیوں میں چھپانے والے طاقت ور افراد کی بدنیتی کا انکشاف ہونے لگتا ہے تو وہ نہ صرف بیماری کی آڑ لیتے ہوئے بیرون ملک کوچ کر جاتے ہیں بلکہ میڈیا میں اُنکے حمایت یافتہ صحافی اور سیاسی حاشیہ نشین ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت عوام کی ڈِس انفارمیشن کا بازار گرم کر دیتے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف اکثر و بیشتر مقدمات سے پہلو تہی کرتے ہوئے علاج کیلئے ملک سے باہر چلے جاتے ہیں جس کا تذکرہ غیر ملکی مصنفین کی کتابوں میں بھی کیا جاتا ہے جو پاکستان کی شہرت کو داغدار کرنے کا سبب بنتا ہے۔ کتاب دی پاناما پیپرز کے صفحہ 334 پر لکھا ہے: ” شیل کمپنیز نواز شریف کے بچوں کی ملکیت ہونے اور یہ کہ وہ لندن میں کئی ملین پاؤنڈ کی پراپرٹی کے مالک ہیں کے انکشاف ہونے پروزیراعظم نواز شریف علاج معالجے کی غرض سے لندن روانہ ہوئے تو اِن افواؤں نے بھی جنم لیا کہ وہ مقدمے کے اختتام تک وطن واپس نہیں آئیں گے”۔ دریں اثنا ، عمرانی علوم کی ایک ماہر بروک ہیرنگٹن پاناما پیپرز کے حوالے سے معاشی ماہرین کومتنبہ کرتی ہیں کہ دولت کے ارتکاز کے حوالے سے نیو فیوڈل طبقہ پیدا ہو رہا ہے کیونکہ کچھ انتہائی دولت مند افراد نہ صرف (آف شور کمپنیز) کے ذریعے دولت کو چھپا رہے ہیں بلکہ وہ قانون کو بھی چکما دے رہے ہیں۔دولت چھپانے کے اِس فن کی تشریح برطانوی مصنف لیوک ہارڈنگ نے مئی 2016 میں شائع ہونے والی کتاب "How the Rich & Powerful Hide Their Money” میں صفحہ 349 سے 352 پر بخوبی کی ہے جس میں شیل اور دیگر آف شور کمپنیز کی آڑ میں اصل مالک کا نام مختلف فرنٹ مین کے ذریعے چھپایا جاتا ہے۔چنانچہ جھوٹ اور مکر و فریب کی آف شور دنیا میں نواز شریف فیملی کی جانب سے دولت کو چھپانا ہی پاکستانی عوام کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
دریں اثنا، نااہل وزیراعظم نواز شریف پاناما پیپرز تحقیقات میں حقائق بیان کرنے کے بجائے پاکستان آرمی اور سپریم کورٹ کو ٹارگٹ کرتے ہوئے تواتر سے الزام لگاتے رہے ہیں کہ گزشتہ ستر برس میں کسی وزیراعظم کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی ۔ لیکن ستر کی دھائی میں ذولفقار علی بھٹو کی حکومت کو غیر قانونی طور پر برطرف کیا گیا تو خوشیاں منانے میں نواز شریف پیش پیش تھے چنانچہ اسّی کی دھائی میں جنرل ضیأ الحق کی فوجی نرسری میں ہی نواز شریف کی پرورش کی گئی۔ مخصوص مفادات نے پہلے اُنہیں پنجاب حکومت میں وزیرخزانہ کے طور پر تعینات کیاجہاں دولت کی ریل پیل نے اُنکی آنکھیں خیرہ کر دیں۔ 29 مئی 1988 میں محمد خان جونیجو کی حکومت کی برطرفی میں نواز شریف سیاسی سازش میں پیش پیش رہے اور پنجاب میں اُبھر کر سامنے آئے۔ 17 اگست 1988 میں جنرل ضیأ الحق کی حادثاتی موت کے بعد ضیاء لابی کی سرپرستی کرنے میں بھی میاں نواز شریف جنرل ضیأ کے صاحبزادے کے ہمراہ پیش پیش رہے جبکہ غلام اسحاق خان جنہیں قدرت نے صدر مملکت بننے کا موقع دیا، نے بھی بے نظیر بھٹو پر نواز شریف کو ترجیح دی اور پنجاب میں نواز شریف کو حکومت بنانے کا موقع دیالیکن بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو سیاسی طور پر برداشت کرنے کے بجائے ریاستی نظام حکومت کے دائرہ کار کو توڑتے ہوئے نواز شریف نے اکتوبر 1989 میں بے نظیر حکومت کو عدم اعتماد سے گرانے کیلئے مبینہ طور پر بن لادن کے پیسوں سے (جس کا تذکرہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب Reconciliation میں کیا ہے) پیپلز پارٹی کے 11 اراکینِ اسمبلی کو فوج کے چند جونئیرافسران کی مدد سے خریدنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ اُس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے دو آرمی افسران کی غلطی ثابت ہونے پر فوج سے لازمی ریٹائرڈ کر دیا تھا۔ فوج سے نکالے جانے پر اِن افسران کو نواز شریف نے پنجاب میں اہم عہدوں پر فائز کردیا تھا ۔ چنانچہ ملیحہ لودھی سابق ایڈیٹر جو آجکل اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں نے جنرل مرزا اسلم بیگ سے ایک انٹرویو کے دوران سوالات پوچھے جن سے نواز شریف سیاسی بدنیتی کی وضاحت سے ظاہر ہو جاتی ہے