- الإعلانات -

پی ایف اکیڈمی رسالپور میں آرمی چیف کا خطاب

پاک فوج کے تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف نے پی ایف اکیڈمی رسالپور میں پاک فضائیہ کی گریجویشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ‘ہماری فورسز داخلی اور خارجہ خطرات یا جارحیت سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر دشمن نے کسی جارحیت کی کوشش کی تو انھیں ناقابل برداشت قیمت ادا کرنا پڑے گی۔اس موقع پر انہوں نے عالمی برادری کو ایک بار پھر یہ احساس دلایا کہ عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور کوششوں کے اعتراف میں ناکام رہی ہے۔جنرل قمرباجوہ نے کہا کہ ‘جتنی قربانیاں ہم نے دی ہیں اتنی کسی اور ملک نے نہیں دیں۔ پاکستان واحد ملک ہے جو دہشت گردی کے خلاف کامیابی سے لڑا اور آپریشن ردالفساد کے تحت انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔انھوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پاکستان کو دہشت گردی سے آزاد ملک بنائیں اور فورسز عوام کے تعاون سے جلد یا بدیر ایسا کرکے دکھائیں گے۔جنرل قمر جاوید باوجوہ نے اپنے خطاب میں بیرونی سازشی قوتوں پر دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاک فوج کو کسی طور پر بھی کمزور نہ سمجھا جائے کہ وہ اپنے دفاع سے غافل ہے وہ ہر وقت وطن کی حفاظت کے چاک و چوبند ہے اگر کسی نے جارحیت کا سوچا تو اس کو منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔انہوں نے بین السطور یہ بھی واضح کیا کہ دہشت گردی کی آڑ میں جو جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے اس سے سرخرو ہو کر نکلیں گی چہ جائیکہ دنیا ہماری قربانیوں اور کردار کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔قمر جاوید باوجوہ نے عالمی برادری خصوصا” امریکہ کی جس بے اعتنائی کاذکر کیا ہے وہ سو فیصد درست ہے۔امریکہ افغانستان میں برسر پیکار ہے اور اس جنگ میں امریکہ کو جو کامیابیاں اب تک ملی ہیں وہ پاکستان کی مرہون منت ہیں۔افغانستان ایک ایسی دلدل ہے جو اس میں اترا اس کی واپسی ناممکن ہو جاتی ہے۔سوویت یونین کی مثال سب کے سامنے ہے۔اگر پاکستان کا تعاون امریکہ کو حاصل نہ ہوتا تو وہ ویتنام کی سبکی کو بھی بھول جاتا۔اب اگر افغانستان کے کمبل سے امریکہ کی جان نہیں چھوٹ رہی تو اس کی بنیادی وجہ خود امریکہ کی خودغرضانہ بدلتی پالیسی اور مقاصد ہیں۔امریکہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف لڑنے آیا تھا مگر بھارت کو اپنا آلہ کار بنا کر جنوبی ایشیا میں نیا محاذ کھڑا کردیا ہے تاکہ لگے ہاتھوں چین کا بھی گھیرا کیا جا سکے۔القاعدہ اور طالبان کی بیخ کنی کی بجائے خطے میں نئے حریف کھڑے کر کے امریکہ نے اپنے لیے مشکلات پیدا کر لیں ہیں جس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے اس کا نکلنا بھی ناممکن ہو گیا ہے۔کھربوں ڈالر اس جنگ میں جھونکنے کے بعد اب وہ بوکھلاہٹ میں کبھی وہ پاکستان پر کیا الزام لگاتا ہے تو کبھی کیا۔ابھی دو روز قبل امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل جوزف ڈنفورڈ نے حسب سابق اور عادتپاکستان کی نامور ترین انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی پر براہ راست یہ الزام عائد کیا کہ اسکے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط ہیں۔امریکہ کے دوہرے معیار کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی یہی ایجنسی کل تک دہشت گردوں کیخلاف موثر اپریشن کیلئے امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت انٹیلی جنس شیئرنگ کرتی رہی ہے اگر اس وقت آئی ایس آئی کا یہ کردار امریکہ کو بھلے نظر آتا تھا تو اب اسکے کردار پر امریکی بدگمانیوں کا اظہار مفاد پرستی کے سوا کچھ نہیں۔اس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے امریکی ترجیحات یکسر تبدیل ہوگئی ہیں اوراب افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کے بھارت کو ترجیح دے رہا ہے ۔پاکستان کیلئے دباؤ اور بلیک میل کرنے کی یہ پالیسی قابل قبول نہیں ہے۔ چین روس اور ترکی جیسے ممالک اسے باور کرا رہے ہیں کہ وہ الزام تراشی کی بجائے زمینی حقائق کو پیش نظر رکھے۔چین نے گزشتہ روز ہی امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کا مکمل اعتراف کرے، پاکستان گزشتہ کئی سال سے دہشت گردی کو شکست دینے کی مسلسل کوششیں کررہا ہے جس میں اس نے بہت قربانیاں دیں۔ چینی وزارت خارجہ نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی پر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اسلام آباد کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کی جانے والی فعال کوششوں کا مکمل طور پر اعتراف کرے۔انہوں نے کہا پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے۔ کئی سال سے پاکستان دہشت گردی کو شکست دینے کی مسلسل کوششیں کررہا ہے جس میں اس نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری پاکستان کی کوششوں کا مکمل اعتراف کرے۔چینی وزارت خارجہ نے مزید کہا چین دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی تعاون کو مضبوط اور کوششوں کو مربوط کرنے کیلئے عالمی برادری کی تائید کرتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان اور امریکا باہمی احترام کی بنیاد پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے اور خطے و دنیا کی سلامتی و استحکام کیلئے مل جل کر کام کریں گے۔چین کا یہ صائب مشورہ بھلا امریکہ کو کیوں کر قبول ہو گا اس نے یہ طے کر لیا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ کے نام پر اب اس خطے کے امن کو خطرات سے دوچار رکھنا ہے۔