- الإعلانات -

ہمارے یہ بزرگ شہری

انگریزی پرو ورب A man is as old as he thinks انسان ا تنا ہی بوڑھاہوتا ہے جتنا وہ خیال کرتا ہے لیکن حقیقت بہرحال حقیقت ہے جس سے صرف نظر ممکن نہیں۔بڑھاپا بذات خود ایک بیماری کا نام ہے جو اپنے دامن میں کمزوری،ناتوانی اور کسمپرسی لئے ہوتا ہے۔اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بڑھاپے کی چار اقسام ہیں ان میں عمر کے بوڑھے،رویوں کے بوڑھے اور وہ جو وقت سے پہلے ہی اپنے پر بڑھاپا طاری کر لیتے ہیں،راقم کے مد نظر اس کالم میں عمر کے بوڑھے ہی ہیں۔بوڑھوں کا ماسوائے ان کی بوڑھی بیویوں کے کوئی غم خوار نہیں ہوتا وہ بھی اگر بقید حیات ہوں۔اس عمر میں بوڑھے بچوں جیسی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں اور ان میں چڑچڑا پن پیدا ہو جاتا ہے۔بوڑھوں کا من پسند کام نصیحت کرنا اور اپنی گزشتہ زندگی کو کار ناموں کی شکل میں متعدد بار دہرانا ہوتا ہے۔ان باتوں کو گھر کے افراد،دوست احباب اور اقرباء سینکڑوں مرتبہ سن چکے ہوتے ہیں۔میرے واجب الاحترام قارئین حقوق انسانی کا استحصال کوئی نئی بات نہیں،فرد کی سطح سے لے کر مجموعی زندگی تک انسانیت اور انسانی حقوق کی پامالی مختلف اشکال لئے ہوئے ہر روز ہماے سامنے آتی ہے۔جس قدر انسان مادی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے اسی قدر تیزی سے وہ سچے اور خوبصورت جذبوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ہر سال یکم اکتوبر کو بوڑھوں کیلئے عالمی دن منایا جاتا ہے،ان کیلئے رہائش اور خوراک کی سہولتوں کا بندوبست کرنے کا عہد کیا جاتا ہے،انہیں صحت کی سہولتیں بہم پہنچانے کے پروگرام مرتب کئے جاتے ہیں لیکن ہر گزرتا دن ماہ اور سال یہ کہتا ہوا گزر جاتا ہے کہ انسان اپنے آپ جنم دینے والوں کو بھولتا جا رہا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ اپنے ہی بچے والدین کو اندھیروں میں دوسروں کے رحم وکرم پر چھوڑ جاتے ہیںآج کے اس افراتفری کے دور میں ہر انسان کی سوچ صرف اس کے اپنے بیوی اور بچوں کے گرد گھومتی ہے۔وہ بھول جاتا ہے کہ کوئی ہے جس نے اسے جنم دیا پروان چڑھایااور اس قابل کیا۔ہمارا معاشرہ اپنی سماجی اور مذہبی اقدار و اعتقادات پر فخر کرتا ہے لیکن عملی زندگی میں ہمارا رویہ بوڑھوں کے ساتھ کیا ہے؟ کسی بزرگ نے کہا تھا کہ آدمؑ کے ماں باپ نہیں تھے صرف اولاد تھی اسلئے جذبات کا بہاؤآگے کی طرف تھاسو بنی نوع انسان کی یہ مجبوری ہے کہ جو محبت اولاد کیلئے ہوتی ہے وہ ماں باپ کیلئے نہیں۔روز مرہ زندگی میں ہمیں کئی بوڑھے گندے کپڑوں اور چیتھڑوں میں نظر آتے ہیں اور ناکافی لباس میں جسم کی پوشیدگی قائم رکھنے سے بھی عاجز و قاصر دکھائی دیتے ہیں،ان کے بال گند اور گردوغبار سے اٹے ہوئے اور دکھائی ایسے دیتا ہے کہ ان بالوں کو تیل کنگھی سے آرائش کئے کافی عرصہ بیت چکا ہے۔ایسی خبریں بھی میرے ناظرین کی نظروں سے گزری ہوں گی کہ ایک بیٹے نے باپ کی زرعی زمین اپنے نام ٹرانسفر کرانے کے بعد باپ کو اس کے اپنے ہی ملکیتی گھر سے نکال باہر کیا۔بدقسمت انسانوں کی ایسی لرزا دینے والی کہانیاں ہمارے لئے اور سماج کیلئے باعث شرم ہیں۔جب یہ بوڑھے چارپائی پرحیات وزیست کی کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی زیادہ نگہداشت اور خبر رکھنے کی بجائے ان کو تنہا کر دیا جاتا ہے جب گھر میں کوئی رشتہ دار یا مہمان آتا ہے تو ایسا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بوڑھے کی بہت زیادہ دیکھ بھال کی جا رہی ہے حالانکہ حقیقت میں اس کو وققق پر کھانا پہنچانے سے بھی محروم رکھا جا رہا ہوتا ہے۔بوڑھے لوگوں کے مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ تنہائی کا کرب ہے جس سے وہ ڈیپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ایک سروے کے مطابق وطن عزیز میں لاکھوں مزدور ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا بڑھاپا کسمپرسی میں گزار رہے ہیں جہاں گھروں میں بوڑھوں سے تضحیک آمیز سلوک ہوتا ہے وہاں معاشرے میں بھی ان کو عزت و احترام دینے کی بجائے پنشن کا حصول بھی ان بوڑھوں کیلئے کسی امتحان سے کم نہیں ہوتا۔بینک کے متعلقہ اہلکار ان کو تیسرے درجے کی مخلوق سمجھتے ہیں اور یہاں بڑی عمر کے پنشنروں سے ایسا سلوک ہوتا ہے جیسا عام طور پر پیشہ ور بھکاریوں سے کیا جاتا ہے۔ان کی عمر کا خیال کئے بغیر انہیں ڈانٹ پلائی جاتی ہے اور عموماً اس قسم کے فقرے کسے جاتے ہیں،بابا کیا کرتا ہے،پیچھے ہٹو۔بینک اہلکار پنشن کے موقع پر لین دین کے حوالے سے اپنے صارفین سے عموماً یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ آپ دو بجے کے بعد آئیں پنشن کا یہ گند ختم ہو جائے۔مغربی ممالک میں بوڑھوں کو عزت و احترام دیا جاتا ہے۔جرمنی فرانس اورہانگ کانگ سمیت متعدد غربی ممالک میں بوڑھوں کو بے روزگاری الاؤنس دیا جاتا ہے۔آسٹریا اور بحرین میں بڑھاپے کو خوشگوار بنانے کیلئے پنشن اور انشورنس کا نظام مضبوط بنایا گیا ہے۔چین میں بوڑھوں سے بدتمیزی کو فوجداری جرم قرار دیا گیا ہے۔کینیڈا میں شادی شدہ بوڑھے کو1459کینیڈین ڈالر ماہانہ ملتے ہیں۔کینیا میں بوڑھوں کی انجمن تھوک میں اشیاء خرید کر پرچون کے نرخ پر فروخت کرتی ہے۔اسلامی ممالک نے بھی اس میں کافی پیش رفت کی ہے۔سعودی عرب،انڈونیشیا اور ایران سمیت متعدد اسلامی ممالک میں بھی بوڑھوں کو کافی مراعات دی جاتی ہیں۔مغرب کی تقلید میں وطن عزیز میں کبھی کبھار مختلف سطحوں پر مختلف طبقوں کے حقوق کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے لیکن یہ موہوم اور نحیف صدا صرف صدا تک ہی محدود رہتی ہے اور کوئی عملی اقدام سے پیشتر ہی راستے میں دم توڑ دیتی ہے۔پاکستان میں بوڑھوں کیلئے پہلا اہم قانون1972ء میں بھٹو دور میں جاری کیا گیا تا ہم اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔اس وقت پاکستان میں بوڑھوں کی فلاح وبہبود کیلئے جو اہم قوانین نافذ ہیں وہ 1976ء میں جاری کئے گئے تھے جن میں سوشل انشورنس سسٹم بھی شامل تھا ۔اس انشورنس سکیم کی نگرانی کرنے والے ادارے ای او بی آئی میں اربوں روپے کے گھپلے سامنے آئے۔ورلڈ اسمبلی آف بیجنگ نے تجویز پیش کی تھی کہ دنیا بھر میں سنئیر سٹیزن بنانی چاہئیں۔ پاکستان میں اس سمت میں1985ء میں پیشرفت ہوئی تھی جب بوڑھوں کے مختلف گروپ بھی بنا دےئے گئے تھے حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ ہر کالونی میں پانچ فیصد مکانات مخصوص کئیے جائیں گے تا ہم اس تجویز پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔جنرل ضیاء الحق اور نواز شریف دور حکومت میں بھی اس سلسلے میں اعلانات کئے گئے مگر کوئی مثبت پیشرفت نہ ہو سکی۔بوڑھوں کے علاج معالجے اور قوانین کی میٹرینٹی کے بعد بھی1962 ء میں ایک نیشنل لاء جاری کیا گیا اس پر بھی کبھی عملدرآمد کی نوبت نہیں آئی۔1999ء کو نواز شریف نے سنئیر سٹیزنز کو ایک ریلیف پیکیج دیا لیکن اس پر کبھی عملدرآمد نہ کرا سکے۔بوڑھے پنشنروں کو راحت دینے کی بجائے حکومت نے نیشنل سیونگز کی شرح منافع کم کر کے ان کی مشکلات و مصائب میں اضافہ کر دیا ہے۔معاشرے کا ہر فرد زبانی تو اس کا اعتراف کرتا ہے کہ بوڑھے ہماری متاع بے بہا ہین لیکن عملی طور پر انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے۔میرے واجب الاحترام قارئین اگر ہم بوڑھے لوگوں کاخیال نہیں کر پاتے تو اس کا حساب ہمیں دینا ہو گا ایسے بے بس مجبور اور مظلوم لوگوں سے محبت کرنا اور ان لوگوں کی تکالیف کا ازالہ کرنا ہی روحانی و مذہبی اقدار کی پاسداری کرنا ہے اور یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ آج بوڑھے جس دور سے گزر رہے ہیں کل کو ہمیں بھی اس دور سے گزرنا ہے۔