- الإعلانات -

فیضان اولیاء اللہ

کریم کا باغور مطالعہ کریں تو انھیں معلوم ہوجائے گاکہ اللہ رب العزت اپنے بندوں کومعجزے اور کرامتین عطا فرما کر خاص کرتاہے،جس طرح اللہ تعالیٰ کی لامحدود ذات انسانی عقل میں نہیں سماتی ٹھیک اسی طرح اللہ سبحان تعالیٰ کے مقبول بندوں کے وجودسے ظاہرہونے والی اللہ رب العزت کی عطاکردہ کرامات کااحاطہ کرنابھی انسانی عقل کے بس میں نہیں،انسان کیلئے کسی چیز کو دیکھے بغیر یقین کرنا انتہائی مشکل ہے، اللہ تعالیٰ کو ظاہری آنکھ سے دیکھیں بغیرایمان لانے والے اپنے رب رحمٰن کی قدرت پرایسے یقین رکھتے ہیں جیسے نہ صرف دیکھ چکے ہوں بلکہ دیکھ رہے ہوں۔اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے جلوے کبھی انبیاء کرام کومعجزے عطا فرما کے دیکھاتاہے توکبھی اولیاء اللہ کو کرامات عطا کر کے،جولوگ اللہ سبحان تعالیٰ کی پاک ذات کو قریب سے محسوس کرناچاہتے ہیں وہ اولیاء اللہ کی مجلس اختیارکرتے ہیں ،اللہ تعالیٰ خود فرماتاہے کہ میں اپنے بندے کے ہاتھ بن جاتاہوں،زبان بن جاتاہوں ،کان بن جاتاہوں،اللہ سبحان تعالیٰ اپنے مقبول بندے کے دل میں سماجاتاہے اور اپنے آپ کو پوشیدہ رکھ کراپنے ولیوں کی کرامات سے مخلوق کو فیض یاب فرماتاہے،دیکھنے والے ظاہری و باطنی آنکھوں سے اللہ کے مقبول بندوں کی کرامات دیکھتے اورفیض پاتے ہیں۔مرشد سرکار سیدعرفان احمدشاہ المعروف نانگامست بابامعراج دین اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے اورگلشن رسالت مآب ﷺ کے مہکتے پھول ہیں،آپ کازندگی گزارنے کا طریقہ (لائف سٹائل)روایتی پیرو ں سے بہت مختلف ہے،آپ انتہاء درجہ سادگی پسند ہیں۔ ولی اللہ کی زندگی ہی کسی کرامت سے کم نہیں ہوتی ،مرشدحضورکی کرامات کے حوالے سے بہت سارے خوش بخت انسان مضامین اورکتب تحریر کرنے میں مصروف ہیں،جن میں سب سے خاص مرشد سرکار کی ہمشیرہ ہیں ،تحریررقم کرنے سے قبل دل میں خیال آیاکہ خاکسار کواپنے مرشد جانی کی کرامت بیان کرنے کی سعادت حاصل کرنی چاہئے ،مسئلہ جودرپیش آیاوہ یہ تھاکہ راقم پہلے سے تحریرشدہ کرامت یاکرامات کو تحریرنہیں کرنا چاہتا تھا، الحمدللہ راقم ان خوش نصیب عقیدت مندوں میں سے ایک ہے جسے مرشد سرکارکے ساتھ آپ کی ہمشیرہ جنہیں راقم باجی حضورکہہ کربڑے ادب سے مخاطب کرتاہے کی شفقت بھی حاصل ہے، بندہ ناچیز نے باجی حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ کوئی ایسی کرامت عنایت فرمادیں جوکسی نے تحریرنہ کی ہو،باجی حضور نے ہمیشہ کی طرح انتہائی شفقت فرمائی اور اپنی نیلم جڑی انگوٹھی کی گمشدگی اورپھربغداد شریف میں شاہ صاحب کے ساتھ رابطہ کے بعد انگھوٹھی ملنے کی ایسی کرامت عنایت فرمائی جس کے بارے میں مرشدسرکاریاباجی حضورہی جانتے تھے ،باجی حضور نے بتایاکہ ہم لاہورسے اپنے گاؤں چیچہ وطنی کیلئے موٹروے پر تیزرفتاری سے محوسفرتھے،میرے ہاتھ میں نیلم جڑی چاندی کی انگوٹھی ہے جومجھے بہت پسند ہے، گاڑی کی فرنٹ سیٹ پربیٹھے میرادل چاہاکہ انگوٹھی کو انگلی سے اتار کرصاف کیاجائے تو میں نے اسے انگلی سے نکالااورٹشوپیپر سے صاف کرنا شروع کردیا،بچوں کی ساتھ گفتگوبھی جاری رہی اور انگوٹھی کی صفائی بھی ،میں نے کبھی چلتی گاڑی سے کوئی چیزباہر نہیں پھینکی ،اس روز نجانے کیوں باتوں باتوں میں گاڑی میں پہلے سے استعمال شدہ چندٹشوپیپرزاٹھائے اورجن ٹشوپیپرزکے ساتھ انگوٹھی صاف کررہی تھی سب کوایک ساتھ گاڑی کا شیشہ نیچے کرکے باہرپھینک دیا ،اس لمحے بالکل دھیان ہی نہیں رہاکہ ٹشو پیپرزکے ساتھ انگوٹھی بھی موجودہے،تقریبا 45 منٹ کے تیزرفتارسفر کے بعد جب دھیان ہاتھ کی طرف گیاتویاد آیاکہ اپنی پسندیدہ نیلم جڑی انگوٹھی ٹشوپیپرزکے ساتھ چلتی گاڑی سے باہر پھینک چکی تھی،اچانک اپنی پسندیدہ انگوٹھی اپنے ہی ہاتھوں گم ہوچکی تھی ،گاڑی کی اچھی طرح تلاشی لی گئی تاکہ کہیں انگوٹھی مل جائے پرانگوٹھی تونہ ملنی تھی نہ ملی،ان دنوں شاہ صاحب وفد کے ساتھ بغداد شریف میں تھے،باجی حضور نے شاہ صاحب کوفون کیااورساری پریشانی بیان کی،شاہ صاحب نے فرمایاکوئی بات نہیں نئی انگوٹھی بنالیں گے،باجی حضورفرماتی ہیں کہ مجھے بہت دکھ ہوااورآنکھوں کے ساتھ آوازمیں بھی نیمی ظاہرہوگئی،میں نے بچوں کی طرح ضدکرتے ہوئے کہا مجھے اپنی وہی انگوٹھی چاہئے جوگم ہوگئی ہے،وہ کئی سال سے میرے ساتھ ہے اور مجھے بہت پسند ہے،شاہ صاحب نے فرمایا اللہ پاک خیرفرمائے گا، کوئی بات نہیں تم رونانہیں،باجی حضورنے اسرار کیاتو شاہ صاحب نے فرمایاکہا نا تم رونانہیں ،اللہ تعالیٰ خیرفرمائے گا،مل جائے کی تمھاری انگوٹھی،میں نے کہاٹھیک ہے میں نہیں روتی ،اس دوران بہت ساراسفر طے ہو چکا تھا، شاہ صاحب کے ساتھ بات ہونے کے بعد مزید پچیس منٹ کاسفرطے ہوچکاتھااور میں مسلسل اپنی انگوٹھی کے متعلق سوچ رہی تھی،شاہ صاحب جب فرمادیں کہ فلاں کام ہوجائے گاتووہ کام جلد یادیر سے ضرورہوجاتاہے،شاہ صاحب نے فرمایاکہ مل جائے گی توباجی حضور کوپکایقین تھاکہ انگوٹھی مل جائے گی،بس دل چاہ رہاتھاکہ ابھی انگوٹھی مل جائے۔باجی حضور کی گاڑی بہت تیزی کے ساتھ سفر طے کررہی تھی ،باجی حضور نے بتایاکہ میں سوچ رہی تھی کہ میری پسندیدہ نیلم جڑی انگوٹھی جلدواپس مل جائے، اچانک گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے بیٹے نے پرجوش اندازمیں کہا’’امی یہ دیکھیں آپ کی انگوٹھی مل گئی ہے،بیٹے نے بتایاکہ یوں محسوس ہواجیسے کوئی انگوٹھی رکھنے آیاہو،اس وقت گاڑی میں بہت ہی پیاری خوشبوپھیل گئی ،میں نے محسوس کیاکہ شاہ جی ہمارے پاس ہیں ،کچھ وقت تک انگوٹھی گم ہونے کے دکھ سے واپس مل جانے کی خوشی کااحساس تک نہ رہااور میں بھائی جان کی شفقت اورکرامت کے سحر میں ایسی گم ہوئی کہ آج بھی وہ لمحے یادکرکے دل سکون ملتاہے۔یہ حقیقت ہے کہ اولیاء اللہ کی کرامات انسانی عقل کی سمجھ سے باہر کی بات ہے،کیسے ہوا؟کب ہوا؟ان سوالات کے جوابات اہل عقل آج تک تلاش نہیں کرپائے ۔ اہل محبت و اہل ادب کب ،کیسے اور کیوں کے دائرے سے نکل کربہت آگے دیکھنے کی طاقت رکھتے ہیں ،اہل عقیدت اپنے مرشدحضور کے آستانے پر کھلی آنکھوں سے جن کرامات کے نظارے کرتے ہیں ان کی گہرائی میں ڈوب کر اپنی محسوسات و جذبات بذریعہ قلم کاغذ پراتاردیں تو دنیاانہیں دیوانے کاخطاب دے دے گی ۔ مرشد سرکار کی دعاسے اللہ تعالیٰ کافوری بارش برساناراقم اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھ چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جلد تفصیل کیساتھ اپنے قارئین کے ذوق کی نظر کروں گا